کٹھوعہ کا چک دراب خان: غیرقانونی شراب سے لیکرہیروئن کے کاروبار تک

جموں// کٹھوعہ کا ایک گاؤں چک دراب خان، جو کئی دہائیوں سے غیر قانونی شراب بنانے کے لیے بدنام ہے ،میں اب ہیروئن کی سمگلنگ کے خطرے پر قابو پانے کے لیے مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔گاؤں میں ہیروئن کی بڑھتی ہوئی سمگلنگ نے سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ دیہاتیوں کے لیے بھی سنگین چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں جنہوں نے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان کے پاس روزگار کے مواقع کی عدم موجودگی میں اپنی روزی روٹی کمانے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ایک ممتاز سماجی کارکن اور پنچ چک دراب خان، گیتا دیوی کے مطابق، ہیروئن (چٹا) کی سمگلنگ میں اضافہ سے صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔دیوی نے خاندانوں کے درمیان کام کیا تاکہ انہیں غیر قانونی شراب کی تیاری سے باہر آنے کی ترغیب دی جا سکے جس کا اشارہ گاؤں میں 1947 سے پہلے بھی موجود تھا جیسا کہ انہوں نے دعویٰ کیا۔ان کا کہناتھا کہ1947 میں جب ہندوستان کو آزادی ملی تو ہماری حالت بدستور برقرار رہی۔ یہاں کے گاؤں میں کچھ لوگ مبینہ طور پر بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے غیر قانونی شراب بنانے میں ملوث تھے۔ گاؤں شراب بنانے اور منشیات کی فروخت کے واقعات میں اضافے کے لیے بدنام ہو گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے گاؤں کی دیگر خواتین کے ساتھ مل کر مقامی پولیس کے ساتھ مل کر کام کیا ہے لیکن وہ تمام خاندانوں کو اس لعنت سے نکالنے کے لیے ترغیب دیں۔ان کا کہناتھا’’لوگوں کے پاس کمائی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ ان کو کوئی نوکری نہیں دی جا رہی جب باہر کے لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ چک دراب خان کے رہنے والے ہیں۔ ہمارا گاؤں بدنام ہے اور اس لیے نوجوانوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں میں کمائی کا واحد ذریعہ غیر قانونی شراب بنانا اور اسے بیچنا ہے حالانکہ ان کے پاس زرعی زمین ہے اور وہ کھیتوں میں کسانوں/مزدوروں کے طور پر کام کرتے ہیں۔گیتا نے کہا"لوگ اس کام کو نہیں چھوڑتے جو کہ غیر قانونی ہے اور کئی جانیں کھا چکا ہے۔ حکومت کو گاؤں کی مدد کے لیے کچھ منصوبہ بندی کے ساتھ سامنے آنا چاہیے‘‘۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہت سی خواتین ناجائز شراب نوشی کی وجہ سے اپنے شوہروں سے ہاتھ دھو چکی ہیں لیکن وہ بیوائیں اب بھی شراب بنانے میں مصروف ہیں۔دیوی نے مزید کہا’’اگر وہ یہ کام چھوڑ دیں تو اور کیا کر سکتے ہیں؟ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ شراب کو تو چھوڑیں، اب نوجوان منشیات کی سمگلنگ بالخصوص ہیروئن (چٹا) میں ملوث ہیں۔ سرکاری ایجنسیوں اور گاؤں کے لوگوں کے تعاون کے بغیر ہم انہیں کیسے روک سکتے ہیں‘‘۔انہوںنے کہا’’ہر کوئی غیر قانونی شراب بنانے یا منشیات کی سمگلنگ میں ملوث نہیں ہے‘‘۔ان کاکہناتھا"صرف ایک طبقہ ملوث ہے اور اس نے پورے گاؤں کو بدنام کیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا۔ جب وہ نوکری کے لیے درخواست دیتے ہیں تو وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ چک دراب خان میں نہیں بلکہ کسی اور گاؤں میں رہتے ہیں‘‘۔ایک اور خاتون نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا"اس کا شوہر غیر قانونی شراب بناتا ہے لیکن یہ چیلنج نہیں ہے۔ ہمارے پاس ایک نیا چیلنج ہے یعنی ہیروئن کی سمگلنگ۔ اس نے بہت سے خاندانوں اور نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ کر دیا ہے‘‘۔انہوںنے مزیدکہا’’میرا بیٹا پرائیویٹ جاب کرتا ہے۔ ایک بار جب لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ آپ اس گاؤں کے ہیں تو وہ آپ کو مشکل سے ہی روزگار دیتے ہیں۔ ہمیں کوئی مستقبل نظر نہیں آتا‘‘۔کرشن کمار نامی مقامی شہری نے کہا’’1947 میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم سے قبل کچھ خاندانوں کے بزرگ بھی غیر قانونی شراب بنانے میں ملوث تھے۔ ن کی نسلوں سے اگرچہ کچھ نوجوانوں کے سرکاری نوکریاں ملنے کے بعد کچھ نے اسے چھوڑ دیا۔ تاہم آج کل صورتحال مختلف ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گاؤں آؤ، آپ دیکھیں گے کہ چند خاندانوں میں کتنی خوشحالی آئی ہے جو مبینہ طور پر چٹا (ہیروئن) کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’غریب خاندانوں کے پاس شراب بنانے یا منشیات کی فروخت کے علاوہ نہ کوئی دوسرا راستہ ہے اور نہ ہی کوئی نوکری‘‘۔دریں اثنا، ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر بتایا کہ "یہ سماجی مسائل ہیں۔ یہ (منشیات) دشمن ملک (پاکستان) سرحدی علاقوں میں ایک ڈیزائن کے ساتھ بھیج رہے ہیں۔ ہم کمیونٹی (مقامی آبادی) کی مدد سے اس پر کام کر رہے ہیں‘‘۔