کٹھوعہ واقعہ پر نائب وزیر اعلیٰ کا متنازعہ بیان

پونچھ//کٹھوعہ عصمت ریزی و قتل کیس پر نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے پونچھ کی متعدد تنظیموںنے کہاہے کہ ایسے بیانات دینے سے گریز کیاجاناچاہئے جس سے ریاست کی تقسیم ہونے کا اندیشہ ہو ۔یہاں جاری پریس بیان کے مطابق گوجر بکروال ایمپلائز ایسو سی ایشن کے صدرچوہدری محمد اسد نعمانی نے اس بیان پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ہمارے وزیر اعظم ان معاملات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پھانسی کی سزا کی نہ صرف وکالت کر رہے ہیں بلکہ قانون بھی پاس کیا جا رہا ہے وہیں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ یہ معمولی واقعہ ہے ،سب کو حیران کردینے والاہے ۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ کو اس بیان کو واپس لینا چاہئے۔کلام فائونڈیشن کے چیئرمین خلیل بانڈے نے بھی اس بیان کی مذمت کرتے ہوے کہا کہ ایسے بیانوں سے عام نوجوانوں کو نہ صرف پریشانی ہے بلکہ باشعور نوجوان اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ایس آر کے پیس فائونڈیشن کے چیئرمین نصرت شاہ نے بیان کو نہ صرف حیران کن کہا بلکہ اس بات پرافسوس کا اظہار کیا کہ ایسا بیان اس موقعہ پر دینا نہ صرف پریشانی کا باعث ہے بلکہ اس سے نفرت بھی پھیل سکتی ہے۔گوجر بکروال یوتھ ایسو سی ایشن کے صدر اخلاق تبسم نے بھی اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سازش قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس سے ان لوگوں کا ایجنڈا سامنے آتا ہے۔سرسید ایجوکیشن مشن کے چیئر مین سرفراز میر نے بھی اس بیان کی مذمت کی اور اس کو افسوس ناک قرار دیا۔انٹک کے ضلع صدر فیض اکبر چوہان نے بیان کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان لوگوں کی ذہنیت ہے جو ملک کو تقسیم کرناچاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک اہم عہدے پر فائض ہونے کے بعد ایسابیان دینا ان کی کمزور ذہنیت کو ثابت کرتا ہے۔سردار پرمیندر سنگھ نے اسے ایک بے تکہ بیان قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ سکھ برادری نے ہمیشہ انصاف کا ساتھ دینے کے لئے آواز بلند کی ہے اور جہاں بھی غلط ہوگا، اس کی مذمت کی جائے گی۔تمام تنظیموں نے اس معاملہ میں نائب وزیر اعلیٰ کو اپنا موقف واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی بیان بازی نہ کی جائے جس سے ریاست کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔