کٹھوعہ میں پولٹری فارم کاچھت گرنے سے 2 مزدوروں کی موت، 1 شدید زخمی موسلا دھار بارش سے دریائے اْجھ میں طغیانی، سینکڑوں کنال دھان کی کھیتی تباہ، کئی مکانات کو نقصان پہنچا

سید امجد شاہ
جموں// ضلع کٹھوعہ میں کل رات موسلادھار بارش کے بعد ایک پولٹری فارم کی کچی چھت گرنے سے دو پولٹری ورکرز ہلاک اور ایک شدید زخمی ہو گیا جبکہ دریائے اْجھ میں اچانک سیلاب آیا جس سے زرعی زمین اور سینکڑوںکنال اراضی پر دھان کی فصل تباہ ہو گئی۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ کٹھوعہ ضلع میں زبردست بارش ہوئی جس کی وجہ سے پولٹری کے کام کا ایک شیڈ منہدم ہوگیا جس میں کل رات ڈیڑھ بجے گنڈیال علاقہ میں تین افراد (مزدور) زندہ دفن ہوگئے۔جیسے ہی لوگوں کو معلوم ہوا، انہوں نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد انہوں نے مشترکہ طور پر رات گئے JCB کی مدد سے انخلاء کا کام شروع کیا۔عہدیدارنے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے دو لاشیں برآمد کیں اور ایک شدید زخمی کارکن کو سپتال منتقل کیا۔مرنے والوں کی شناخت روہت شرما (25) اور حسن دین ولد نور دین اور زخمی شخص کی شناخت رنجیت سنگھ کے طور پر کی گئی ہے۔ زخمیوں کو پٹھان کوٹ (پنجاب) کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔عہدیدار کا کہناتھا”مٹی کی چھت گر گئی کیونکہ یہ شدید بارش کی وجہ سے کھڑی نہیں ہو سکتی تھی جس کی وجہ سے یہ جانی نقصان ہوا”۔دریں اثناء دریائے اْجھ کے کنارے واقع دیہات سلال پور، کھنڈوال اور شب چک شدید سیلاب کی زد میں آ گئے جس سے دھان کی فصل اور سینکڑوں کنال زرعی اراضی تباہ ہو گئی۔ایک عہدیدار نے کہا کہ مویشیوں کے ساتھ ایک خانہ بدوش سیلاب زدہ علاقے میں پھنس گیا تھا لیکن اس کا مقام زیادہ محفوظ تھا۔انہوںنے مزیدبتایا کہ “پانی کی سطح کم ہوتے ہی ہم اسے بچا لیں گے تاہم وہ محفوظ ہے‘‘۔تحصیلدار مرہین نے کٹھوعہ میں مقامی میڈیا کو کندوال میں سیلاب زدہ زرعی اراضی کے دورے کے دوران بتایا کہ ’’کنڈوال تقریباً 7 سے 8 کنال دھان کے کھیت تباہ ہو گئے ہیں اور اسی طرح چب چک اور سلال پور جیسے دیگر دیہاتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس میں کئی مکانات بھی شامل ہیں۔ نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور اس کے مطابق رپورٹ ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ کے سامنے پیش کی جائے گی‘‘۔ادھر مقامی کسانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ 400 کنال زرعی اراضی پر کھڑی دھان کی فصل تباہ ہو گئی ہے اور انہوں نے مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیلابی پانی ان کے گاؤں میں داخل ہونے سے ایک بند کو نقصان پہنچا ہے۔

ڈوگراں میں 4 رہائشی مکانات منہدم
متاثرین کو 10ہزار روپے کی مالی امداد پہنچائی گئی
بختیار کاظمی
سرنکوٹ //سرنکوٹ سب ڈویژن میں مغل روڈ کے ساتھ ڈوگراں گاؤں میں مٹی کے تودے گرنے سے کم از کم چار رہائشی ڈھانچے منہدم ہو گئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ جمعرات کی صبح سرنکوٹ کے ڈوگران گاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس سے چار رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا اور منہدم ہو گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ان گھروں میں موجود افراد کی جان بچ گئی تاہم اس واقعے میں گھریلو استعمال کی اشیاء اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کو نقصان پہنچا۔حکام نے مزید کہا کہ ان گھروں میں رہنے والے خاندان اب بے گھر ہیں اور فوری بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔دوسری جانب ضلع ترقیاتی کمشنر کی ہدایت پر سب ڈویژنل مجسٹریٹ سرنکوٹ نعیم النساء کی سربراہی میں ایک ٹیم نے جمعہ کی سہ پہر علاقے کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے ا ن کو ریڈ کراس فنڈز سے دس ہزار روپے کی مالی امداد بھی پہنچا ئی ۔اس دوران متاثرین جن میں نظیر حسین ولد شاہ محمد منظور حسین ولد طالب حسین دانش اقبال ولد بابو خان مشتاق احمد ولد خادم حسین سکنہ ڈوگراں شامل ہیں ،نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ان کو ریلیف فراہم کی جائے تاکہ ان کی باز آباد کاری ممکن ہو سکے ۔ایس ڈی ایم سرنکوٹ نے انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔قبل ازیں جمعرات کی شام بی ڈی سی کے چیئرمین بفلیاز شفیق میر نے سلائیڈ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کے افراد سے ملاقات کی۔انہوں نے انہیں نقصان کا معاملہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اٹھانے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

سیلاب سے پرائمری سکول دھڑہ بٹیاں جگال کی عمارت تباہ
پڑھائی جاری رکھنے کیلئے متبادل بندوبست کرنے کا مطالبہ
جاوید اقبال
مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن میں گزشتہ دنوں ہوئی شدید بارشوں کی وجہ سے جہاں عام زندگی متاثر ہوئی ہے وہائیں لوگوں کے رہائشی مکانا ت و سرکاری عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔سب ڈویژن کے ایجوکیشن زون مینڈھر کے بھاٹی دھار علاقہ میں قائم کردہ گور نمنٹ پرائمری سکول دھڑہ بٹیاں جگال کا بیت الخلا ء پوری طرح سے دریامیں بہہ گیا تاہم عمارت کا ایک حصہ بھی دریا کی زد میں آکر منہدم ہو گیا ہے ۔مقامی معززین نے بتایا کہ اب بچوں کے استعمال کیلئے صرف ایک کمرہ بچا ہوا ہے جس میں جہاں پورا تعلیمی عمل نہیں چلایا جاسکتا وہائیں مذکورہ عمارت اب بچوں کیلئے خطرہ بھی بنتی جارہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں سب ڈویژن میں ہوئی شدید بارش کے دوران عمارت کے ایک حصے کیساتھ ساتھ سکول کا ساز و سامان بھی دریا میں بہہ گیا ۔غور طلب ہے کہ مذکورہ سکول میں بچوں کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے تاہم ایک کمروں میں اب ان کی تعلیم و دیگر سرگرمیاں یکساں طورپر نہیں چلائی جاسکتی ہیں ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعلیم کا کوئی متبادل بندوبست کیا جائے تاکہ ان کی عمل و مستقبل متاثر نہ ہو۔

ڈوڈہ ضلع میں تیز بارش
درجنوں تعمیرات کو پہنچا جزوی نقصان، رابطہ سڑکیں خستہ حال، کئی عارضی پل بہہ گئے
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں جمعہ کی شب شروع ہوئی شدید بارشوں کا سلسلہ دوپہر تک جاری رہاجس کے نتیجے میں ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا اور فصلوں، پھلوں و سبزیوں کو نقصان پہنچا ہے۔اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شب ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری ،گندوہ کے مضافات میں تیز بارش شروع ہوئی جو دوپہر تک جاری رہی۔مسلسل بارشوں کے دوران جہاں ضلع بھر میں درجنوں تعمیرات کو جزوی نقصان پہنچا ہے وہیں ڈوڈہ ٹھاٹھری شاہراہ سمیت بھدرواہ، بھلیسہ و دیگر مضافات کی رابطہ سڑکیں خستہ حال ہوئیں ہیں اور بیشتر مقامات پر نکاسی نظام نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کا پانی سڑکوں پر جمع ہوا ہے جس کی وجہ سے مسافر بردار گاڑیوں کے ساتھ ساتھ عام راہگیروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس دوران متعدد علاقوں سے ملی اطلاعات کے مطابق درجنوں پکڈنڈی راستے، گلی کوچے و ندی نالوں پر نصب کئے گئے لکڑی کے عارضی پل (ترنگڑی) سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور درجنوں پانی کی اسکیمیں بھی سیلاب سے تباہ ہوئیں ہیں۔بی ڈی سی چیئرمین گندوہ چوہدری محمد حنیف و ڈی ڈی سی کونسلر چنگا ندیم شریف نیاز نے حکام سے بارشوں سے ہوئے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ کنبوں کی ہر ممکن مدد کرنے و ہنگامی بنیادوں پر پانی، بجلی و سڑکوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے پگڈنڈی راستوں و عارضی پلوں کی تعمیر کے لئے فنڈس دستیاب کرنے کی بھی مانگ کی ہے۔

پسی کے بعد سرنکو ٹ۔پوٹھہ سڑک پر کیچڑ جمع
محکمہ گریف پر عارضی طورپر گاڑیوں بحال کرنے کاالزام
بختیار کاظمی
سرنکوٹ// سرنکوٹ میں 31 جولائی کو ہوئی تباہ کن بارش نے جہاں عام لوگوں کو شدید متاثر کیا وہائیں سرنکوٹ پوٹھہ رابطہ سڑک پہلے پسی گر آنے کی وجہ سے آمد ورفت کیلئے بند ہو گئی تھی تاہم محکمہ گریف کی جانب سے عارضی بنیادوں پر سڑک کو بحال کردیا گیا لیکن اس کے بعد سڑک کو معیاری بنانے میں کوئی دلچسپی ہی ظاہر نہیں کی جس کی وجہ سے رابطہ سڑک اس وقت کیچڑ کا شکار ہو گئی ہے اور گاڑیوں کی آمد ورفت کے دوران ٹرانسپورٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ سڑک پر ’تراپراں والی کسی‘ کے قریب ایک بہت بڑا علاقہ کھسک کر سڑک پرآیا تھا جس سے سڑک بند ہو گی تاہم محکمہ گریف نے عبوری طور پر مشین لگا کر سڑک گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بخال توکی لیکن وہ اسقدر خطرناک ثابت ہوا کہ اب وہاں پر کیچڑ کی وجہ سے حادثات بھی رونما ہو رہے ہیں ۔لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پھسلن کو صاف کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی جائیں جبکہ محکمہ کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ سڑک کو گاڑیوں کی آمد ورفت کے اہل بنایا جاسکے ۔

جگال ۔کلیاں گلی سڑک پسی آنے سے بند
جاوید اقبال
مینڈھر //مینڈھر میں ہوئی شدید بارش کی وجہ سے سب ڈویژن کی جگال سے کلیاں گلی جانے والی رابطہ سڑک ٹریفک کی آمد ورفت کیلئے مکمل طورپر بند ہوگئی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقہ میں ہوئی شدید بارش کی وجہ سے سڑک پر پسی گرآئی جس کی وجہ سے سڑک گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند ہو گئی ۔انہوں نے بتایا کہ سڑک کے بند ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کیساتھ ساتھ سکول اور کالج جانے والے بچوں کی دقتیں مزید بڑھ گئی ہیں ۔مقامی لوگوں و پنچایتی اراکین نے انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ رابطہ سڑک کو جلداز جلد بحال کروایا جائے تاکہ لوگوں کی پریشانی ختم ہو سکے ۔