کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کیخلاف لڑنے والی خاتون وکیل

سرینگر//کھٹوعہ عصمت دری اور قتل کیس میں سرخیوںمیں رہنے والی خاتون وکیل دیپیکا راجاوت کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں کیس درج کر لیا گیا ہے ۔ پولیس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون وکیل نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے جس کے بعد ان کے خلاف خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ایڈوکیٹ دیپیکا سنگھ راجاوت پر تعزیرات ہندکی دفعہ 295 اے اور 505 (بی) (2) کے تحت مختلف طبقات کے لوگوں میں دشمنی اور نفرت پیدا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیاہے۔جموں سے تعلق رکھنے والی وکیل نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس پر ہندو برادری کے ممبروں نے اعتراض کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ راجاوت نے فرقہ وارانہ جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے، راجاوت نے اس وقت پولیس سے مدد طلب کی تھی جب ایک ہجوم نے اس کی رہائش گاہ کے باہر نعرہ بازی شروع کی تھی۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ ٹویٹ کی اصل اور دیگر تکنیکی تفصیلات سے متعلق سائبر سیل کی اطلاع کے بعد کارروائی کی جائے گی۔خاتون ایڈوکیٹ جنوری 2018 میں اس وقت سرخیوں میں آئی تھی جب اس نے جموں کے کٹھوعہ ضلع کے رسانہ گاؤں میں آٹھ سالہ قبائلی بکروال لڑکی، جس کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا، کے گھر والوں کی نمائندگی عدالت میں کی تھی۔اس کیس کی سماعت پنجاب کے پڑوسی قصبے پٹھان کوٹ کی ضلعی اور سیشن عدالت میں ہوئی۔