کٹھوعہ اور کولیشن

ریاست جموں و کشمیر کی پی ڈی بی اور بی جے پی کولیشن سرکار میں اِس حد تک ہلچل مچی ہوئی ہے کہ ملی جلی سرکار کو جرم میں شرکت داری کا عنوان مل گیا ہے۔ ریاستی سرکار میں سیاحت کے وزیرتصدق مفتی نے روزنامہ انڈین ایکسپرس میں شائع ایک انٹرویو میں یہ کھلا اعتراف کیا ہے کہ بھاجپا اور پی ڈی پی کی ملی جلی سرکار در اصل جرم میں شرکت داری ہے۔اپنے بیان کی تشریح میں وزیر موصوف کا یہ کہناہے کہ کولیشن سرکار کی تشکیل جس نظریے کو لے کر ہوئی تھی اُس نظریے کی عدم بر آوری سے ایک ایسی صورت حال سامنے آئی ہے جہاں کشمیر کی ایک پوری نسل کے زیاں کا خطرہ لا حق ہے۔تصدق مفتی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے چھوٹے بھائی ہیں اور یہ بعید ہے کہ وہ اتنی بڑی بات اپنی ہمشیرہ کی رضایت کے بغیر کہیں بلکہ اُنہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اُن کے بیاں کی تائید پی ڈی پی کے بہت سارے اراکین بھی کرتے ہیں۔تصدق مفتی کے بیاں کے بعد اُن کے بیاں کی تائید میں پی ڈی پی کے ایک جانے مانے لیڈر نظام الدین نے بھی کی۔پی ڈی پی کے سرینگر میں ایک اجلاس کے بعد پارٹی کے ترجمان نعیم اختر نے اگر چہ تصدق مفتی کے بیاں کو جذبات سے تعبیر دی لیکن اُنہوں نے بھی دبے الفاظ میں اُس کی تائید کی۔
تصدق مفتی کا سخت بیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب کہ کولیشن سرکار کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔2018ء کی شروعات سے ہی کشمیر کے ابتر حالات نے ایک ایسا رخ اختیار کیا جہاں جنگجوؤں اور سرکاری فورسز کے درمیاں تصادم میں موت ہر آںرقصاں نظر آتی ہے اور اُبھرتی ہوئی جوانیوں کا زیاں ایک روز مرہ معمول بنتا جا رہا ہے ۔ جنگجوؤں کے علاوہ سویلین یعنی عام شہری بھی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں ۔سینکڑوں افراد ذخمی ہو رہے ہیں جن میں چالیس سے کچھ زیادہ ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کہ بینائی پیلٹ گنوں سے متاثر ہوئی ہے ۔آئے دن تعلیمی اداروں میں طلبا احتجاج کر رہے ہیں۔ کشمیرکے ابتر حالات کے بیچوں بیچ کٹھوعہ ضلعے کے راسنا گاؤں میںآصفہ بانو ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے نہ صرف ریاست جموں و کشمیر میں تہلکہ مچا دیا بلکہ اِس دلدوز سانحہ کی تفصیلات فراہم ہونے کے بعد بھارت کے طول و عرض میں عام شہری سڑکوں پہ نکل آئے ہیں اور پبلک احتجاج کا ایک طویل سلسلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بیرونی ممالک میں بھی اِس سنگین واقع کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اپنی نگرانی کا اظہار کیا ہوا ہے۔ یہ افسوس ناک واقع جنوری میں پیش آیا لیکن کئی مہینوں تک یہ واقعہ کولیشن سرکار میں شامل احزاب بھاجپا اور پی ڈی پی کے مابین نزاع کا باعث بنا ۔ ایک ایسی ملی جلی سرکار جو شروع سے ہی گوناگوں اختلافات کا شکار تھی ایک بہت بڑے اختلاف میں پھنستی ہوئی نظر آئی جس میں کولیشن سرکار کا مستقبل ہی مخدوش نظر آیا۔ ریاست کی ملی جلی سرکار میں جن اختلافات کے باعث بھاجپا اور پی ڈی پی ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے ہو ئے نظر آئے اُن کی جانچ کے بعد ہم کھٹوعہ ضلعے کے رسنا گاؤں کے دلدوز واقعے کے تجزیے پہ واپس آئیں گے۔   
بھاجپا اور پی ڈی پی کا سیاسی موقف اِس حد تک ایک دوسرے سے مختلف ہے جہاں یکسانیت کا کوئی بھی پہلو نظر نہیں آتا ۔اقتدار ہی ایک ایسی رسی ہے جو اُن کو باندھے ہوئے ہے۔اِس کولیشن سرکار کا ایک باہمی توقف نامہ ہے جسے ایجنڈا آف الائنس کا نام دیا گیا ۔اِ س ایجنڈامیں ایک توکشمیر کی مقاومتی لیڈر شپ سے بات چیت کا آغاز ثانیاََ ایک حتمی و دیر پا حل کیلئے پاکستان سے بات چیت کا ذکر بھی شامل تھا ۔ بھاجپا کی مرکزی قیادت نے اگر چہ حامی بھر لی تھی لیکن بگذشت زماں یہ بات عیاں ہو ئی کہ اِن تلوں میں تیل نہیں ہے ۔کولیشن سرکار کو کام کرتے ہوئے کچھ ہی مہینے گذرے تھے کہ بھارتی پردھان منتری نریندرا مودی کا گذر سرینگر سے ہوا۔شیر کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں ایک جلسہ عام کے دوراں مرحوم مفتی سید نے اُنہیں پاکستان سے بات چیت کا مشورہ دیا۔نریندرا مودی نے اُن کو یہ کورا جواب دیا کہ اِس ضمن میں اُنہیں کسی مشورے کی ضرورت نہیں۔یہ واقع  7نومبر 2015ء کو پیش آیا اور اِس واقعے کے کم و بیش ڈیڑھ مہینے کے بعد  25دسمبر2015ء کو نرنیدرا مودی ڈرامائی انداز میں لاہور پہنچے جہاں وہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی ایک خاندانی تقریب میں شریک ہوئے۔اُن کی پوتی کی شادی اُنکے گھر ’جاتی امرا‘ میں ہو رہی تھی جو کہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں واقع ہے۔
بھارتی اور پاکستانی وزرائے اعظم کی یہ ملاقات بغیر کسی ایجنڈا کے ہوئی تھی یعنی اِس ملاقات کیلئے پہلے سے کوئی سفارتی تیاری نہیں ہوئی تھی۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کا یہ ماننا ہے کہ اِس ملاقات سے کسی مثبت نتیجے کی توقع رکھنا بیجا تھا کیونکہ اِس کیلئے کوئی اساس فراہم نہیں ہوئی تھی۔لاہور کی اِس ملاقات کے بعد پٹھانکوٹ میں ایک جنگجویانہ حملہ ہوا جس کے بعد یہ راگ الاپا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم نیک نیتی سے لاہور گئے تھے بدلے میں اُنہیں پٹھانکوٹ  کے سانحہ سے نوازا گیا۔اِس واقعے کے بعد پچھلے کئی سالوں سے ہند و پاک کے مابین کشمیر کے مسلے کو لے کر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے بجز اِس کے کہ جب معاملات بہت زیادہ بگڑے ہوئے نظر آتے ہیں تو بھڑکی ہوئی آگ کو کچھ ٹھنڈا کرنے کیلئے دونوں ممالک کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر بر صغیر سے دور بنکاک میں ملتے ہیںیا کبھی کبھی فوجی مشاور سرحدوں پہ مل کے معاملات کو قابو میں کرنے کی سعی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔پچھلے کئی سالوں سے خط متارکہ پہ فائرنگ کا تبادلہ بھی شدت اختیار کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔کشمیر میں جنگجویانہ کاروائیوں میں روز افزوں اضافہ بھی مسلہ کشمیر لائنحل رہنے کا شاخسانہ ہے ۔بھارت سرکار نے مسلے کے پُر امن حل کے بجائے جنگجویانہ کاروائیوں کو ریاستی قوتوں کو بروئے کار لا کے سختی سے کچلنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس نے امنیت کی راہوں کو مسدود کر رکھا ہے ۔ کشمیر میں مقاومتی لیڈرشپ کیلئے کوئی موقعہ و محل نہیں رہا ہے کہ وہ پُر امن طور پہ مقاومتی کاروائیوں پہ عمل پیرا رہیں۔مقاومتی لیڈرشپ کی ہر صف کیلئے یا تو ریاست و بیروں ریاست کے جیل خانے ہیں یا اُنہیں ہاوس ایرسٹ میں اسیر رکھا جاتا ہے۔اِس سیاسی ماحول میں ایک ہی چیز پنپتی ہوئی نظر آتی ہے اور وہ ہے تشدد جو ہر طرف رقصاں نظر آتا ہے۔ 
اِس صورت حال میں پی ڈی پی کو ہر گذرتے ہوئے روز کے ساتھ پاؤں تلے کی زمیں کھسکتی نظر آ رہی ہے۔ماضی میں اِس پارٹی کا سیاسی انحصار جنوبی کشمیر کے انتخابی حلقوں پہ تھالیکن حالیہ سالوں میں جنوبی کشمیر مزاحمتی عملیات کا مرکز بنا ہوا ہے جن میں جنگجویانہ سر گرمیوں بھی شامل ہیں۔پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی جو وزیر اعلی بھی ہیں ایک سیاسی عمل کے اجرا کی آواز بھی بار بار بلند کرتی رہی ہیں بلکہ اِس سلسلے میں اُن کی کئی مٹینگیں بھی آج تک بھارت وزیر اعظم نریندرا مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ہوئیں ہیں لیکن بھارت کے سرکاری ایوانوں میں اُن کی سنی ان سنی ہو رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی رابطہ کار دنیشور شرما کا دور دورہ رہا ہے لیکن بات کچھ تجارتی انجمنوں کے اہلکاروں سے ملنے کے علاوہ آگے نہیں بڑھی ہے۔ دنیشور شرما کا منڈیٹ کیا ہے یعنی وہ کن امور پہ بات کر سکتے ہیں اِس بارے میں بھارتی سرکار کی پالیسی واضح نہیں ہے لہذا ریاست کی مقاومتی لیڈرشپ نے اُن سے ملنے میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ہے۔دنیشور شرما کی ماموریت کا ہلکا پن روز بہ روز عیاں تر ہو رہا ہے جس سے پی ڈی پی کی سیاسی حثیت مجروح ہو رہی ہے۔ تشدد کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کے ساتھ معنی خیز سیاسی عمل کا فقدان اُس شکایتی لہجے کا سبب بن رہا ہے جو تصدق مفتی جیسے پی ڈی پی کے اہلکاروں کی زباں پہ آ رہا ہے۔
کشمیر کے بگڑتے ہوئے حالات کے بیچوں بیچ کھٹوعہ ضلعے کے رسانا گاؤں میں آصفہ بانو کے ساتھ زنا ء بالجبر اور پھر قتل کی واردات نے سلگتی ہوئی سیاسی آگ کو بھڑکا دیا۔معصوم بچی آصفہ بانو کے ساتھ ایک مقدس مقام مندر کے احاطے میں جو پیش آیا اُس نے ایک دنیا کو دہلا دیا ہے۔کئی دنوں تک اِس بچی کے ساتھ جو کہ ایک نو خیز کلی کی مانند تھی خواب آور دواؤں کے زیر اثر جو زیادتیوں ہوئیں اُن کو سن کے سنگین سے سنگین دل آدمی کا کلیجہ بھی منہ کو آتا ہے۔اِس سارے واقعے کا سرگنہ کہا جا رہا ہے سانجی رام ہے جس نے جموں و کشمیر کے کرائم برانچ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق سازش رچی ۔ وہ مندر کے مجاوروں میں سے ایک ہے جس نے اپنے ایک رشتہ دار لڑکے سے آصفہ کا اغوا کرایا اور پھر اِس سازش میں ریاست پولیس کے دو ایس پی او (SPO)اور سانجی رام کا اپنا بیٹا بھی ملوث ہوا۔ کرائم برانچ کے مطابق سازش اِس لئے رچائی گئی تاکہ بکروال بستی کے کچھ گھروں کو وہاں سے بھگایا جا سکے۔سازش جو ں جوں عیاں ہوتی گئی اُس پہ پردہ ڈالنے کیلئے بھاجپا کے کچھ اہلکاروں نے کانگریس کے کچھ اہلکاروں سمیت ـ’ہندو ایکتا منچ‘ کی تشکیل دی ۔ ـ’ہندو ایکتا منچ‘ نے احتجاجی جلسوں میں بھارتی جھنڈا لہرایاجس کا حدف یہی تھا کہ بھارتی نیشنلزم کی آڑ میں شور شرابہ کر کے مسلے کو دبایا جا سکے ۔بھاجپا کے دو ریاستی وزیر لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا بھی اِس شور شرابے میں شامل ہوئے ۔ریاستی پولیس کی کرائم برانچ پہ طرفداری کے الزامات کے ساتھ ساتھ سی بی آئی CBI)) سے تحقیقات کا مطالبہ شروع ہوا حالانکہ ریاستی وزیر ہونے کے سبب لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا اُس سیاسی قیادت کا حصہ تھے جن کے ہاتھ میں ریاستی پولیس کی لگام ہے۔
ایک واضح جرم کو فرقہ واریت کا لبادہ پہنایا گیالیکن جونہی اپنی تحقیقات کی تفصیلات کرائم برانچ نے سامنے لائیں اور کٹھوعہ کے وکیلوں نے چارج شیٹ عدالت میں پیش کرنے میں مزاحمت کی تو پورے بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ایک معصوم بچی کی آبروریزی و قتل پہ صدائے احتجاج بلند ہوئی۔اتفاقاََ کٹھوعہ کے دلدوز سانحہ کے ساتھ اتر پردیش کے علاقے اُناؤ میں ایک کمسن دوشیزہ کی آبروریزی کا واقعہ بھی منظر عام پہ آیا۔یہ واقعہ گر چہ سال بھر پہلے کا ہے لیکن چونکہ اِس واقعے میں بھاجپا کا ایک با اثر ایم ایل اے ملوث تھا لہذا معاملہ دبا رہا لیکن کمسن دوشیزہ کے والد کے حراستی قتل کے بعد اِس واقعے میں بھی ابال آیا۔حراستی قتل میں ایم ایل اے کا بھائی اور پولیس کے کچھ اہل کار پہ الزامات عائد ہوئے ۔کٹھوعہ سے لے کے اُناؤ تک بھاجپا ایک مخمصے میں پھنستی ہوئی نظر آئی۔ مسلے پہ چادر ڈالنے کی سعی میں جہاں جموں و کشمیر میں دو وزیروں لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا کو مستفعی ہونا پڑا وہی اتر پردیش کا معاملہ جانچ کیلئے سی بی آئی CBI)) کے حوالے کیا گیا اور ایم ایل اے کو گرفتار ہوئے۔
ریاست جموں و کشمیر میں دو وزیروں کی بر طرفی ملزموں کے حق میں بنی ہوئی ’ہندو ایکتا منچ‘ کے جلسے میں شرکت اور کھل کے کرائم برانچ کی تحقیقات پہ انگشت نمائی کرنے پہ ہوئی ۔بھاجپا کی یہ کاروائی محبوبہ مفتی کے اصرار کے بجائے ملک بھر میں پارٹی کی شبیہ بچانے کی خاطر ہوئی۔اِس واقعہ کے کچھ ہی دنوں بعد بھاجپا کے سب ہی وزیروں کی استفعی کی خبر سامنے آئی جس کو کابینہ میں رد و بدل کرنے کی سعی کا عنواں دیا گیا لیکن تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بھاجپا جموں میں اپنی شبیہ کو بچانے کی سعی میں محبوبہ مفتی پہ دباؤ ڈال رہی ہے۔ مستفعی وزیر لال سنگھ کے روڑ شو کے علاوہ بھاجپا کئی اور اقدامات سے اپنے حامی عناصر کا حوصلہ بنائے رکھنے کی خاطرکھٹوعہ سانحہ کے علاوہ کئی اور مسائل ابھار رہی ہے۔ روہنگیا اور بنگلا دیشی ریفوجیوں کو جموں خالی کرنے پہ اصرار ہو رہا ہے۔ جموں کے نواحی علاقوں میں گوجر بستیوں کو خالی کرنے کی سعی بھی ہو رہی ہے حالانکہ اِن نواحی بستیوں کے بسکین روہنگیا اور بنگلا دیشیوں کے برعکس ریاست کے پشتنی باشندے ہیں ۔یہ بستیاں کئی پشتوں سے آباد ہیں لیکن اعتراض یہ کیا جارہا ہے کہ یہ جنگلاتی زمیں ہے۔یہ مسلہ کافی دیر سے لٹک رہا ہے اور بھاجپا اور پی ڈی پی کے مابین نزاع کا ایک اور سبب بنا ہوا ہے۔حالات اور سکنات اِسی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اقتدارکی کشش شاید ایک بار پھراِس انہونی ملی جلی سرکار کو باندھے رکھے لیکن یہ صرف و صرف اقتدار کی ملی بھگت ہو گی ۔اِس انہونی کولیشن سرکار سے جسے خود اُس کے خالق مرحوم مفتی سید نے قطب شمالی اور قطب جنوبی کی غیر ممکنہ قربت کا نام دیا تھا کسی خیر کی امید رکھنا بیجا ہو گا۔اللہ نگہباں!
یار زندہ صحبت باقی
Feedback on: [email protected]