کٹھوعہ اور راجوری سیکٹروں میں آر پار گولہ باری | مینڈھر میں پاکستانی ڈرون نظر آنے کے بعد متعدد دیہات کامحاصرہ

سرینگر//جموں میں حدمتارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر ہندپاک افواج کے درمیان کئی مقامات پر شدید گولہ باری کے بعد ان علاقوں میں سخت خوف ودہشت کا ماحول پید اہوا۔ادھرجموں کے مینڈھر علاقے میں مشتبہ ڈرون نظر آنے کے بعدفورسز نے متعدد گائوں کا محاصرہ کرکے تلاشی کارروائی شروع کی۔کٹھوعہ اورراجوری اضلاع میں پاکستانی فوج نے بین الاقوامی سرحد اور حدمتارکہ پر بھارت کی اگلی چوکیوں کونشانہ بنایا جس کا بھارت کے افواج نے بھرپور جواب دیا۔تاہم اس دوران کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔دفاعی ترجمان کے مطابق ،’’اتواردن کے سواگیارہ بجے کے قریب پاکستان نے بلااشتعال جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرکے راجوری کے نوشہرہ سیکٹرمیں حدمتارکہ پرچھوٹے اورمارٹر ہتھیاروں سے گولہ باری کی ۔حکام نے بتایا کہ پاکستانی گولہ باری کی وجہ سے حد متارکہ کا پورا علاقہ لرز اٹھا اور لوگ اپنی جانوں کی حفاظت کے لئے بھاگ نکلے۔دفاعی ترجمان کے مطابق بھارت کے فوجیوں نے اس کا بھرپور جواب دیا۔ حکام کے مطابق جنگ بندی معاہدے کی ایک اور خلاف ورزی میں پاکستانی رینجرس نے  ستپال،منیاری،کرول کرشنا،اورگورنام سرحدی پوسٹوں پرسنیچروار رات نو بجے گولہ باری کی جس کا بی ایس ایف نے منہ توڑ جواب دیا۔ حکام کے مطابق دونوں اطراف گولہ باری کاتبادلہ صبح پونے چار بجے تک جاری تھا۔اس دوران اس طرف کسی جانی یامالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔حکام کے مطابق جموں کشمیرمیں اس سال پاکستان نے4000سے زیادہ مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں ،جو اس دہائی میں سب سے زیادہ ہے ۔گزشتہ سال پاکستان نے 3289مرتبہ جموں کشمیرمیں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی تھیں ۔گزشتہ روزمینڈھر کے دیہاتوں پر ایک مشتبہ ڈرون کی نقل و حرکت کے بعد فورسز نے متعدد علاقوں میں تلاشیاں لیں ۔عہدیداروں نے بتایا کہ ہفتہ کی شام ایک ڈرون کو مینڈھر کے دیہات پر اڑتے ہوئے دیکھاگیاتھااور وہ مینڈھر سیکٹر سے کہیں ایل او سی کے اندرداخل ہوااور قریب پانچ دیہات کے اوپر سے اڑتے ہوئے منکوٹ سے باہر نکل گیا۔حکام نے کہا’’ڈرون ہتھیارگرانے کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے اوراس بات کو خارج از امکان نہیں قرار دیاجاسکتا‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ مینڈھر سب ڈویژن کے قریب نصف درجن دیہات میں تلاشی کا آغاز کیا گیا ہے جہاں فوج اور پولیس کی ٹیمیں تعینات ہیں۔حکام کا مزید کہناتھا’’مبینہ طور پر فوج کے اہلکاروں نے اس ڈرون پر کچھ گولیاں چلائیں جس سے یہ شبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ کہیں گر سکتا ہے جس کی تلاش جاری ہے‘‘۔عہدیداروں نے مزید بتایا کہ اتوار کی صبح دیہات میں شروع کی گئی تلاشی آخری اطلاعات موصول ہونے تک جاری تھی۔