کٹرہ بانہال ریلوے ٹریک کی تعمیر اب2020 نئی ڈیڈ لائن

سرینگر // کٹرہ بانہال ریلوے لائن کی محکمہ ریلوے نے اگرچہ 2020 کی نئی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے تاہم اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اس پروجیکٹ پر کام مقررہ وقت پر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اس پر آنے والی لاگت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ کشتواڑ اور کٹھوعہ کے درمیان ریلوے لنک تعمیر کرنے کا ایک منصوبہ مرکزی وزارت ریلوے کے زیر غور ہے اور اس پروجیکٹ پر 6170.91کروڑ روپے کا خرچہ آنے کا تخمینہ ہے ۔معلوم رہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے 2000میں اعلان کیا تھا کہ 15اگست2007کو جموں سرینگر ریلوے لائن کو مکمل کر کے وادی میں ریل پہنچا دی جائے گی اور اس پروجیکٹ کی وجہ سے نہ صرف ریاستی لوگوں کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے جموں وکشمیر آنے والے لوگ بھی اس سے مستفید ہونگے اور ان کا سفر آسان اور آرام دہ بن جائے گا۔بارہمولہ سے ادھمپور تک کل 272کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ادھمپور سے کٹر ہ 25کلو میٹر اور بانہال سے بارہمولہ 119کلو میٹرپر کام مکمل ہے اور یہاں ٹرین سروس بھی جاری ہے، تاہم بانہال سے کٹرہ129 کلو میٹرکا کام کئی ایک ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود بھی ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ذرائع کے مطابق اس ریلوے ٹریک پر اگرچہ کچھ ایک جگہوں پر کام مکمل ہوا ہے تاہم کچھ ایک جگہوں پر کام ہونا باقی ہے۔ محکمہ ریلوے نے اس لائن پر کام مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن 2020مقرر کی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ  اس ٹریک پر ابھی تک کئی ایک ڈیڈ لاین ختم ہوئی ہیں اور اس وجہ سے نہ صرف اس پروجیکٹ میں تاخیر ہوئی ہے بلکہ اس سے خرچہ بھی بڑھ رہاہے ،لہٰذا اس کام کو مکمل کرنے میں اہم حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ریلوے اتھارٹی کے مطابق کٹرہ بانہال ریلوے لائن کا کام مکمل ہونے کے بعد نہ صرف وادی میں سیاحتی شعبہ کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اس سے ریاست کی عوام ملک کی دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی جڑ جائے گی، اس کے علاوہ ہر موسم میں لوگوں کو بہتر ریل رابطہ فراہم ہو گا ۔سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کٹرہ سے قاضی گنڈ کے درمیان 10.96کلو میٹر ٹنل بھی بنا ہے، جبکہ کٹرہ سے قاضی گنڈ  تک11 ریلوے سٹیشن قائم کئے جائیں گے ۔رپورٹ کے مطابق قاضی گنڈ سے بارہمولہ  تک15 ریلوے سٹیشن کام کر رہے ہیں ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ادھمپور سے کٹرہ تک 38  چھوٹے بڑے پل تعمیر کئے گئے ہیں جبکہ کٹرہ سے قاضی تک 62پلوں کی تعمیر کی جاری ہے۔ اسی طرح قاضی گنڈ سے بارہمولہ تک اس ریلوے ٹریک پر 81پل تعمیر کئے گئے ہیں ۔ سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشتواڑ اور کٹھوعہ کے درمیان ریلوے لنک تعمیر کرنے کا ایک منصوبہ مرکزی وزارت ریلوے کے زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق بھدرواہ کے راستے کٹھوعہ۔کشتواڑ ریلوے لائن کی تعمیر کے لئے مکمل سروے تیار ہے اور مزکورہ سروے رپورٹ کو جنوری2016کو ناردرن ریلوے نے مرکزی وزارت کے ریلوے بورڈ کو پیش کیاہے، جہاں اس پر غور کیاجارہاہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ کی کل لمبائی 258.10 کلومیٹر بتائی گئی ہے جس پر 6170.91کروڑ روپے خرچہ آنے کا تخمینہ ہے ۔