کوکر کھل زِنی پانژال چرار شریف میں مسلح جھڑپ، 3جنگجوجاں بحق

سرینگر//چرار شریف کے مضافاتی علاقے’ کوکر کھل‘ زین پانژال میںبرستی بارش اور برفباری کے بیچ جنگجوئوں کیخلاف فورسز نے آپریشن کیا جس کے دوران دن بھر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ فورسز نے بعد میں برف سے ڈھکی زیر زمین بنائی گئی کمین گاہ تباہ کردی۔ پولیس اور فوجنے اس بات کی تصدیق کی کہ تصادم آرائی میں 3جنگجو جاں بحق ہوئے۔ادھرجھڑپ شروع ہوتے ہی انتظامیہ نے ضلع پلوامہ اوربڈگام میں امن و قانون کی صورتحالب برقرار رکھنے کے لئے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی جبکہ پلوامہ میں جھڑپ کے دوران مقامی نوجوانوں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی تشدد بھڑک اٹھا، جس کے دوران مظاہرین اور فورسز میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔

فائرنگ کا تبادلہ

 سوموار صبح  53آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری نے جنگجوئوں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعدچرار شریف یوسمرگ روڑ پر واقع زین پانژال سے 2کلو میٹر دور ڈھلون روڑ پر کوکر کھل ہاپت نالہ نامی علاقے کا محاصرے کیا اور اس مخصوص جگہ کی طرف پیش قدمی کی جہاں جنگجوئوں نے پولیس کے مطابق زیر زمین ایک کمین گاہ بنائی تھی۔فورسز کی تلاشی پارٹی نے جونہی مشتبہ مقام کی جانب پیش قدمی شروع کی ، جس کے چاروں طرف برف موجود تھی، تو یہاں موجود 2سے 3جنگجوئوں نے تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کرتے ہوئے یہاں سے فرار ہونے کے کوشش کی۔ جس کے بعد طرفین کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جودن بھر جاری رہا۔غیر مصدقہ اطلاعات میں کہا گیا کہ ایک فورسز اہلکار زخمی ہوا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ سہ پہر کوبرف سے ڈھکے پہاڑی علاقے میں موجود جنگجوئوں کی کمین گاہ کو فورسز نے بارودی مواد سے تباہ کردیا ، جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکار پہاڑی علاقے میں ہنوزجنگجوئوں کی تلاش کے لیے موجود ہے جس دوران وہ تلاشی کارروائی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس دوران فوج کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل راجیش کالیہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ تصادم آائی میں 3جنگجو جاں بحق ہوئے، جن کی لاشیں ہاپت نالہ سے بر آمد کی جارہی ہیں تاہم انکی شناخت کی جارہی ہے۔پولیس نے دیر رات گئے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بڈگام کے اس علاقے میں جنگجوئوں کے خلاف آپریشن کید وران 3جنگجو مارے گئے جن کی شناخت کی جارہی ہے۔ اُن کی تحویل سے گولہ بارود اور قابل اعتراض چیزیں برآمد کی گئیں۔تاہم کشمیر عظمیٰ کو ذرائع نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوئوں میں ایک دربہ گام پلوامہ کا شاہد بابا ہے جبکہ دوسرا جنگجو کاکہ پورہ پلوامہ سے تعلق رکھتا ہے۔
 

جھڑپیں

پلوامہ میںسوموار کی دو پہر اُس وقت تشدد بھڑک اُٹھا جب یہاں یہ خبر پھیل گئی کہ وسطی ضلع بڈگام کے ہاپت نالہ علاقے میں ہوئی جھڑپ کے دوران پلوامہ سے تعلق رکھنے والے 2مقامی نوجوان جاں بحق ہوگئے ہیں۔اس کے فوراً بعد پلوامہ میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے راجپورہ چوک، مورن چوک اور کاکہ پورہ میں سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اسلام، آزادی اور جنگجوئوں کے حق میں زور دار نعرے لگاتے ہوئے یہاں موجود فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ضلع میں جونہی نوجوانوں کی ہلاکت سے متعلق خبر پھیل گئی تو یہاں مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران دوکانات اور تجارتی اداروں نے اپنے دوکانات کے شٹر گراکر گھروں کی راہ لی۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت پر بھی اثر پڑا ۔ اس دوران فورسز نے احتجاج کررہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جبکہ مظاہرین نے بھی چہار سو فورسز پر پتھرائو کو جاری رکھا ۔یہ سلسلہ شام تک جاری رہا۔
 
 رفیع آباد بارہمولہ میں محاصرہ اور گھر گھر تلاشی 
فیاض بخاری
 
بارہمولہ// ضلع بارہمولہ کے ڈندورہ رفیع آباد علاقے کو بھاری برف باری اور سخت سردی کے دوران محاصرے میں لیا گیااور گھر گھر تلاشی لی  گئی۔ فوج و فورسز کو مصدقہ اطلاع تھی کہ گائوں میں کچھ جنگجوچھپے بیٹھے ہیں جسکی بنا پر 32 آر آر، سپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف نے سوموار کو ڈنڈورہ رفیع آبادکا محاصرے کیا۔ فورسز نے تمام آنے جانے والی راستوں کو سیل کرکے فرار ہونے کے راستوں پر پہرے لگائے تھے ۔ فورسز نے گھر گھر تلاشی لی لیکن جنگجوئوں کیساتھ انکا آمنا سامنا نہیں ہوا۔