کوڈے دان میں کچرے کی سیاست

کچھ  ہی سال قبل نیشنل کانفرنس کے طاقتور متبادل کے طور اُبھری پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی ہے۔ ابھی تک چھ سابقہ ایم ایل اے، جن میں سے تین پی ڈی پی اور بی جے پی مخلوط سرکار میں وزارت کے عہدوں پر بھی رہے تھے،پارٹی سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ان کے علاوہ کئی اور سرکردہ لیڈر بھی پارٹی چھوڑچکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جوں جوں انتخابات قریب آتے جائیں گے، ٹوٹ پھوٹ کا یہ سلسلہ بھی چلتا رہے گا۔
اپنے والد اور سابق ریاستی وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کی تیسری برسی کے موقعے پر اس ٹوٹ پھوٹ کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹی میں شمولیت اختیار کریں کیونکہ ’پی ڈ ی پی اب کچرے سے پاک ہوگئی ہے‘۔گویا بہ الفاظ دیگر محبوبہ مفتی کا ماننا ہے کہ پارٹی سے جو قا ئدین نکل گئے ہیں، ان کی حیثیت کچرے سے زیادہ نہیں تھی اور ’کچراصاف ہونے کے بعد‘ پارٹی ایک بار پھر پاک و صاف ہو گئی ہے جس میں شامل ہونے کے لئے محبوبہ مفتی نوجوانوں کو مدعو کر رہی ہیں۔
این سی کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پہلے ریاستی لیڈر تھے جنہوں نے کچرے والے بیان پر رد عمل کا اظہار کیا۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹویٹر پر عمر عبداللہ نے لکھا ’جب اُن (محبوبہ) کے ساتھ تھے تو یہ لوگ ایماندار،مہذب اور محنتی لوگ تھے لیکن جب یہ پارٹی چھوڑ کے چلے گئے توکچرہ بن گئے۔ سیاست کی دُنیا واقعی بہت ہی ظالم دنیا ہے‘۔
عمر عبداللہ کا ماننا ہے کہ پارٹی چھوڑ کے جانے والے لوگوں کو کچرے سے تشبیہ دے کر محبوبہ مفتی کشمیر کی سیاست کو پستی کی طرف لے جارہی ہیں۔ عمر صاحب کی بات سے اختلاف نہیں لیکن اُن کو صرف اس بات کی یاد دہانی کرانے کی ضرورت ہے کہ کشمیر میں کچرے کی سیاست بہت پہلے سے چل رہی ہے۔ایک زمانے میں اُن کے دادا مرحوم اور ریاست کے قد آور سیاسی لیڈر شیخ محمد عبداللہ نے کانگریس پارٹی سے وابستہ لوگوں کو ’گندی نالی کے کیڑے‘ کہا تھا۔ شیر۔بکرا، غوغہ۔شیر سیاست میں ایک دوسرے کو کن کن القابات سے نوازا جاتا تھا، سوچ کر ہی شرم آتی ہے۔ حالیہ تاریخ کو ہی لے لیجئے ، جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بہنوئی نے ان کی سرکار گراکر کانگریس کے ساتھ مل کر سرکار بنائی تو ان کو کیسی کچرہ سیاست کا شکار بنایا گیا۔ شاہ نے جو کچھ کیا، کوئی بھی کشمیری اُس کی تائید نہیں کرسکتا لیکن ان کے نام کے ساتھ جو کچھ جوڑا گیا، کرفیو اور کشری کے علاوہ، وہ کچرے سے بھی نیچ تھا۔ 
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر میں کچرہ سیاست کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ کل تک آپ ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہیں، ایک ہی پلیٹ میں کھاتے ہیں اور ذرا سی ان بن ہوگئی تو ایک دوسرے کو کچرے کا ڈھیر کہنے میں آپ کو کوئی کوفت نہیں ہوتی۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کی پارٹی چھوڑ کر چلے جانے والے اگر کچرہ تھے تو آج تک آپ کیوں کوئی سڑاند نہیں آئی اور آپ کیونکر اس کچرے کو سر پر بٹھائے رکھتے تھے۔سچ تو یہ ہے کہ کشمیر میںسیاست کی دنیا ظالم ہی نہیں بے اعتبار بھی ہے۔ یہاں کی سیاست میں کوئی رشتہ مستقل نہیں۔جب تک کوئی آپ کے ساتھ ہے ،اس میں آپ کو دنیا جہاں کی خوبیاں دکھتی ہیں لیکن جوں ہی اس نے ذرا سا اختلاف کیا تو اس کو کچرہ کہنے میں آپ کو ذرا سی دیربھی نہیں لگتی۔
کیا ہم اپنے گھروں میں کچرہ برداشت کرسکتے ہیں؟ نہیں ناں؟ تو یہ سیاسی جماعتیں کچرے کو سالہا سال تک اپنے سینوں سے کیوں لگائے رکھتی ہیں اور ان کا کچرہ ہونے کا احساس اُنہیں اُسی وقت کیوں ہوتا ہے جب وہ انہیں چھوڑ کے چلے جانے کا فیصلہ کرتے ہیں؟ محبوبہ مفتی جب اپنے سابق ساتھیوں کو کچرے سے تشبیح دیتی ہیں تو اُن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اتنے سال تک وہ اس کچرے کو کیسے سہتی رہیں اور انہوں نے اپنی پارٹی کو اس کچرے سے پاک کرنے کی پہل کیوں نہیں کی؟ 
 اور ایک بات،جو محبوبہ مفتی کو کسی بھی مونسپل کمیٹی کا کوئی بھی چھوٹا ورکر سمجھا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ کچرہ اپنے آپ باہر نہیں نکلتا، کچرے کو نکالنے کے لئے پاپڑ بھیلنے پڑتے ہیں۔ لیکن یہاںتو صورتحال بالکل مختلف ہے۔ ڈاکٹر حسیب درابو، عمران رضا انصاری، سید بشارت بخاری، محمد عباس وانی، عابد انصاری، راجہ اعجازعلی، جادید مصطفیٰ میر، محبوب اقبال وغیرہ سارے کے سارے اپنی مرضی سے پارٹی چھوڑ کے چلے گئے۔ اگر محبوبہ مفتی نے کسی ایک بھی پارٹی لیڈر کواز خود پارٹی سے نکال دیا ہوتا تو اُن کی کچرے والی بات کو دمدار کہا جاسکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ایک اور بات، محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ اُن کے والد مفتی صاحب مرحوم کی وفات کے بعدوہ بی جے پی کر ساتھ دوبارہ سے سرکار بنانے کے حق میں نہیں تھی۔ اُنہوں نے ایسا صرف اس لئے کیا کیونکہ اُن کی پارٹی کے کچھ لوگ ناگپور پہنچ گئے یہ جتانے کے لئے کہ محبوبہ مفتی کو الگ رکھ کر سرکار بنائی جائے۔ محبوبہ جی کا کہنا ہے کہ اگر وہ سرکار بنانے کی حامی نہیں بھرتی تو اُن کی پارٹی ٹوٹ جانے کا خطرہ لاحق تھا۔
محبوبہ جی سے ایک اور سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر اُن کو لگتا ہے کہ ان کے کچھ ساتھی پارٹی توڑنا چاہتے تھے تو اُنہوں نے ہی ساتھیوں کو ساتھ لے کر، اپنی مرضی اور نظریات کے خلاف سرکار کیوں بنائی؟ اگر انہی ساتھیوں کو آج یہ کچرہ کہہ کے بلاتی ہیں تو اسی وقت وہ کچرہ صاف کیوں نہیں کیا گیا؟سچ تو یہ ہے کہ کچرے کی سیاست کشمیر میں ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے ’گندی نالی کے کیڑے‘ سے لے کر محبوبہ مفتی کے ’کچرہ‘ تک،یہی سیاست چلی آئی ہے اور شاید آگے بھی چلتی رہے گی۔نظریات کی بنیاد پر سیاست چلانا بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ یہاں نظریات اور اصول صرف اخباری بیانات میں ہی استعمال ہوتے ہیں۔زمینی سطح پر جو کچھ ہوتا ہے وہ اپنی اپنی سیاسی سہولت کے حساب سے  دیکھا جاتا ہے۔ اسی لئے ’گندی نالے کے کیڑوںکو گلے لگا کر حکومتیں بنائی جاتی ہیں اور برسہا برس تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ رہنے کے باوجود بیک جنبش زبان اُنہیں کچرہ قرار دیا جاتا ہے۔
 بشکریہ ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر