کوٹر نکہ زون میں سکولی عمارتوں کی حالت انتہائی خستہ

 عملے و دیگر بنیادی سہولیات کی قلت سے سینکڑوں بچوں کا مستقبل تاریک 

 
کوٹر نکہ //سب ڈویژن کوٹر نکہ میں سکولی عمارتوں کی خستہ حالی کیساتھ ساتھ سٹاف کی قلت کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی بُری طرح سے متاثر ہو رہی ہے ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کوٹر نکہ زون میں تعلیم نظام کی بہتری اور بچوں کو بنیادی سہولیات فراہم کر نے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے بچوں کا مستقبل تاریک ہو تا جارہاہے ۔کوٹرنکہ کے گور نمنٹ مڈل سکول بھتان کی عمارت گزشتہ 17برسوں سے زیر تعمیر ہے تاہم اس کو مکمل کر نے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔مقامی لوگوں نے محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ مڈل سکول کی عمارت کی تعمیر 2002میں نبارڈ اسکیم کے تحت شروع کی گئی تھی لیکن ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی ۔انہوں نے کہاکہ سکول عمارت کے مکمل نہ ہو نے کی وجہ سے سکول میں زیر تعلیم 61بچوں کو 2کمروں میں تعلیم فراہم کی جاتی ہے ۔مقامی نائب سرپنچ ارشد حسین میر نے بتایا کہ عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں ٹین کی 85چادریں دی گئی تھی تاہم وہ غائب ہی ہو گئی ہیں ۔اسی طرح گور نمنٹ پرائمری سکول گلیر کی عمارت بھی انتہائی خستہ حالی میں ہے ۔اس عمارت کی چھت میں نصب ٹین کی چادریں بوسیدہ ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے بارشوں کے دنوں میں پانی ٹپکتا رہتا ہے جبکہ سکول میں 38بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے صرف 1ٹیچر ہی حاضر رہتا ہے ۔مقامی نائب سرپنچ نے محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بچوں کے مستقل کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔اسی طرح زون کے دیگر سرکاری سکولوں میں بچوں کو بنیادی سہولیت کی قلت کیساتھ ساتھ سٹاف کی قلت کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ سرکاری سکولوں میں بچوں کو سہولیات فراہم کر نے کیساتھ ساتھ زیر تعمیر وخستہ حال عمارتوں کو جلداز جلد مکمل کر یں تاکہ بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو ۔