کوٹرنکہ سب ڈویژن میں رابطہ سڑکیں کھنڈرات بن گئی

کوٹرنکہ //سب ڈویژن کوٹرنکہ میں رابطہ سڑکیں انتہائی خستہ حال ہو چکی ہیں جسکی وجہ سے اب رابطہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت بھی بند ہونا شروع ہوگئی ہے جبکہ مقامی لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے میلوں پیدل سفر کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔کوٹرنکہ کی دو تحصیلوں کے درمیان 33کلو میٹر سڑ ک گزشتہ پانچ دہائیوں سے مکمل ہی نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے مقامی لوگ اس جدید دور میں بھی قدیم طرز کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں ۔مقامی لوگوں و پنچایتی اراکین نے تعمیر اتی ایجنسیوں و مقامی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ سب ڈویژن میں مین سڑکوں کیساتھ ساتھ رابطہ سڑکیں کھڈوں میں تبدیل ہو گئی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ کئی ایک سڑکیں برسوں بعد بھی مکمل ہی نہیں کی جاسکی جبکہ کچھ ایک تار کول کی منتظر ہیں لیکن مقامی لوگ اس جدید دور میں انتظامیہ و متعلقہ محکموں کی لاپرواہی کی وجہ سے پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔ بڈھال بی پنچایت کے سرپنچ چوہدری محمد فاروق اور بڈھال اے پنچایت کی سرپنچ شمیم اختر بڈھال نے کشمیر عظمی کو بتایا کہدو تحصیلوں کے درمیان کی سڑک مقامی آبادی کیلئے کینسر کی طرح بیماری بن چکی ہے اور پچاس سالوں میں اس سڑک کی بہتری کیلئے کروڑوں روپے خرچ کئے گئے لیکن بد قسمتی سے سڑک کی حالت جوں کی توں ہی رہی ۔انہوں نے بتایا کہ سڑک کو کشادہ کرنے کیلئے 2017میں عمل شروع کیا گیا تھا لیکن پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے بجائے متعلقہ ٹھیکیدار نے سڑک کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا ہے ۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ رابطہ سڑکوں کو جلدازجلد قابل استعمال بنایا جائے تاکہ مسافروں کیساتھ ساتھ ٹرانسپورٹروں کو سہولیات میسر ہو سکیں ۔