کووڈ 19…خطرے کی گھنٹی پھر بجنے لگی!

 کیا کورونا وائرس نے ایک بار پھر سر ابھارنا شروع کردیا ہے ۔ ڈر یہ ہے کہ واقعی ایسا ہی ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے۔پچھلے کچھ دنوں سے وائرس ایک بار پھر ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔متعلقہ حکام کے ذریعہ روزانہ کی بنیادوںپر کورونا وائرس کے حوالے سے جو اعداد و شمار جاری کئے جارہے ہیں ، وہ کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کررہے ہیں اور یقینی طور پر یہ اعداد وشما ر ہماری نیند اچٹ دینے اور ہمیں تساہل پسندی کے خول سے باہر نکالنے کیلئے کافی ہیں۔کورونا وائرس معاملات کی یومیہ تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے اور ہر روز ان کیسوں میں اضافہ درج کیاجارہا ہے جبکہ کچھ اموات کی بھی اطلاع ملی ہے ۔ یہ سب کچھ مہینوں کے طویل وقفے کے بعدہورہا ہے جب ہم نے سوچاتھا کہ مسئلہ بالآخر ختم ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ تیسری لہر کی بات بھی اب ایک قسم کا ہلکا مذاق بن چکی تھی۔ ہم جمع ہونے اور اکٹھے ہونے کے اپنے معمول کے طریقوں کی طرف واپس چلے گئے تھے اورڈر و خوف نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی اور نہ ہی سماجی دوریوںکا کہیں پاس ولحاظ رکھا جارہا تھا۔کوئی ماسک نہیں ، کوئی سماجی دوری نہیں ، کوئی کووڈ مناسب رویہ نہیں۔ ہمارے معاشرتی روابط میں اب ہر چیز غائب ہوچکی تھی اور اب ہم یہاں تک پہنچے ہیں کہ اب یکے بعد دیگرے ریڈزون مشتہر کئے جارہے ہیں اور حالات یہاں تک سنگین ہوچکے ہیں جو ہسپتال کووڈ مریضوں سے خالی ہوچکے تھے اور جہاں اب معمول کی بیماریوںکا علاج چل رہا تھا ،وہاں اب کووڈ مریض دوبارہ آنا شروع ہوچکے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں کے اعدادوشمار ، خاص طور پر ضلع سری نگر کیلئے ایک مستحکم مگر یقینی طور پر اچھال کا رجحان دکھارہے ہیں۔ مخصوص علاقوں کو ریڈ زون قرار دینے کے بعدانہیںسیل کرنے کے مناظر دوبارہ لوٹ چکے ہیں۔صرف چند دنوں میں ایسے زونوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ یہ سب کیا پیغام دیتا ہے؟۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے لئے مصیبت کو دعوت دے رہے ہیںکیونکہ جوں جوں ریڈ زون بڑھتے چلے جائیں گے ،انفیکشن بھی اسی رفتار سے بڑھتا چلا جائے گا اور پھر یقینی طور پر ہم اپنے آپ کو کورونا وائرس کی تیسری لہر کے بیچ پائیں گے جو کوئی اچھی صورتحال قطعی نہیں ہوگی۔موجودہ صورتحال کا کیا یہ مطلب لیا جائے کہ ہم ایک اور لاک ڈائون کو دعوت دے رہے ہیں اور کیا اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہم اپنی روزہ مرہ کی معاشی سرگرمیوں کو اب بار پھر خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک بار پھر ایک ایسے بحران کو دعوت دے رہے ہیں جو ہم ایک سال سے زیادہ عرصے سے برداشت کر رہے ہیں اور ابھی بھی اس سے باہر نہیں آ پائے ہیں۔ آخر یہ لاپرواہی ہمیں کہاں لے جائے گی کیا کبھی ہم نے اس پر غور کرنے کی زحمت کی ہے ۔گزشتہ دنوں سے ڈپٹی کمشنر سرینگر سے لیکر صوبائی کمشنر ،پولیس سربراہ سے لیکرلیفٹیننٹ گورنر تک مسلسل شہر باسیوں سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اپیل کررہے ہیں کہ وہ حالات کی سنگینی کو سمجھ لیںاور مہذب ہونے کا ثبوت پیش کرکے کووڈ مناسب رویہ اختیار کریں تاکہ اس آئی بلا کو ہم کسی طرح ٹال سکیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سنجیدہ ہوجائیں اور احتیاط کریں۔ یہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہی ہے اور اگر ہم ابھی اس کے بارے میں سنجیدہ ہوجائیں تو ہم اس رجحان کو بے قابو ہونے سے پہلے ہی ختم کر سکتے ہیں۔ ایک بار پھر ہمیں کچھ زیادہ کرنا نہیںہے بلکہ محض بنیادی باتوںپر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں باہر جانے کے وقت ماسک پہننے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی محفل کا حصہ بنتے وقت ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اٹھنے بیٹھنے اور گل مل جانے کو صرف ضرورت کے تابع کرنے کی ضرورت ہے اور قطعی طور غیر ضروری محفلوں یا بھیڑ بھاڑ کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔سماجی دوری کا مکمل پالن کرنا ہے اور ہاتھوںکی صفائی کی طرف دھیان دینا ہے ۔ حکومت کی سطح پرآگاہی و بیداری مہم کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور ہاں ، ایسی جگہیں کھولنے کے فیصلے جن کی بمشکل کوئی معاشی وجہ ہو ،پر دوبارہ نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔بیداری مہم کے ساتھ ساتھ تیسری لہر کے لئے تیاریوں میں تیزی بھی لانی ناگزیر بن چکی ہے کیونکہ آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ تیسری لہر آس پاس ہی ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تساہل کے شکار ہوکر تیسری لہر کی آمد کے وقت اپنے آپ کو بے سرو سامانی کی حالت میں پائیں۔ہم تعلیمی سیشن مکمل کرنے کے قریب آرہے ہیں اور سالانہ امتحانات کے انعقاد کا وقت قریب آرہا ہے۔طلباء کو آف لائن تعلیم کیلئے کالجوں میں بلانے کا فیصلہ اب غیر معقول سا لگتا ہے۔ بہتر تھا کہ ہفتہ وار مشاورت اور واقفیت کے سیشنوں کا انعقاد کیاجاتاجس کا مقصد ہمارے طلباء کو امتحانات کے لیے تیار کرنا ہوتا ۔اس کے نتیجہ میں ہمارے طلباء بھی بچ جاتے اور وائرس پھیلنے کا اندیشہ بھی نہیں رہتا ۔تعلیمی سال تقریباً ختم ہوچکا ہے اور اب آخری دنوں میں سکول یا کالج جاکر بچے کیا پڑھیں گے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ تیسری لہر کی ممکنہ آمد کو ٹالنے کیلئے عوام اور حکومت کی سطح پر فوری اقدامات کئے جائیں گے تاکہ ہم ایک اور تباہی سے اپنے آپ کو اور اپنے سماج کو بچا پائیں ورنہ آنے والا وقت انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔