کووڈ کی ممکنہ تیسری لہر

 ہم نے کوروناائرس کے بارے میں اتنی بات کی ہے کہ کبھی کبھار اس پرمزید لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے لیکن پھر کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ ہم اس پر دوبارہ بات کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ آج بھی اگر چہ کچھ نیا لکھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر کچھ حقائق کی یاد دہانی لازمی بن گئی ہے۔جموں وکشمیر کی غالب آبادی کو گماں ہے کہ کورونا کی تیسری لہر نہیں آئے گی اور وہ بالکل بے پرواہ اور بے فکر ہوچکے ہیں لیکن یہاں یہ انتباہ لازمی ہے کہ تیسری لہر کو محض افواہ نہ سمجھیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ عالمی سطح کے چوٹی کے محقق یہ پیش گوئی کر چکے ہیں کہ کورونا کی تیسری لہر آنے والی ہے ۔ یہ کوئی بے بنیاد خدشہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو بالکل موجود ہے اور اگر ہم محتاط نہ رہیں تو یہ ہمیںبغیر تیاری کی حالت میں اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ جیسا کہ ہم ماہرین کو سنتے ہیں اور جیسے دنیا کے مختلف کونوں سے خبریں آرہی ہیں ، اس وائرس کے ایک اور حملے کا خطرہ بہت حقیقی لگتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ چین جیسا ملک، جس کی بہت سی دوسری چیزوں کے علاوہ اپنے جدید ترین انفراسٹرکچر کی وجہ سے تعریف کی جاتی ہے ، اس وائرس کی تپش دوبارہ محسوس کر رہا ہے اور وہاں دھیرے دھیرے کیس لوڈ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔اسی طرح پڑوسی ملک پاکستان میں بھی اس نے سر نکال دیا ہے جبکہ ہمارے یہاں بھی اس وائرس کی تباہ کن اقسام نے جنم لیا ہے۔اس وبائی بیماری کا مرکز ووہان کچھ دن پہلے دوبارہ خبروں میں تھا۔ ہم نے دیکھا کہ کیسے لاکھوں کو دوبارہ ٹیکہ لگایا گیا۔ اگرایک ایسا ملک جسے وبائی امراض پر قابو پانے کے حوالے سے رفتار اور کارکردگی کی مثال سمجھا جاتا ہے ، ایک بار پھر خطرے کو محسوس کر رہا ہے تو ہمیں حد سے زیادہ فکر مند ہونا چاہئے۔اپنے ملک میں کیرالہ جیسی ریاست ، جس کے بارے میں یہ وثوق کے ساتھ کہاجاتا ہے کہ اس نے اس وبائی بحران کا جواب ملک کی کسی بھی دوسری ریاست سے بہتر دیاہے ، اب دوبارہ خطرہ محسوس کر رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی پچھلے کچھ دنوں سے ، ہم نے ایک بار پھر اموات دیکھیں۔ اگرچہ تعداد بہت کم ہے لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر بھی دو روز قبل کووڈ ٹاسک فورس کی میٹنگ میں تیسری لہر کے حوالے سے آنے والے سو دنوں میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہ ہمیں کسی بھی صورت میں بے پرواہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ تمام تر احتیاطی اقدامات جاری رکھنے کے علاوہ تیسری لہر کیلئے تیاریاں بھی جاری رکھنی چاہئیں۔اس پورے معاملے کا ماحصل یہ ہے کہ ہمیں ایس او پیز کو جاری رکھنے اور پروٹوکول پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے یہاں اب ہفتے کے تمام دنوں کے لئے بازار کھلے ہیں اور ہفتہ وار کرفیو بھی ختم کیاگیا ہے تو اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ ہم چیزوں کو ہلکے سے لیں۔ اگر اس کا کوئی مطلب ہے تو وہ یہ ہے کہ اب ہمیں زیادہ ذمہ داری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ماسک پہننے  یا سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہماری چھوٹی چھوٹی کارروائیاں آنے والے دنوں میں خطرے کو ٹالنے میں بڑی مدد کر سکتی ہیں۔یوٹی انتظامیہ میں کووڈ ٹاسک ماہرین میں شامل طبی ماہرین اپنی تجاویز پیش کرچکے ہیں اور ہمارا بحیثیت ذمہ داری شہری یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اُن تجاویز کو ہلکے میںنہ لیں لیکن افسوس کے ساتھ کہناپڑتا ہے کہ ہم اس وبائی بیماری کے حوالے سے بالکل ہی لاپرواہ ہوچکے ہیں۔آج کل بازاروں میں خاصی بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے ۔سماجی دوریوںکا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے ۔فیس ماسک پہننے کا رجحان بتدریج کم ہوتا چلا جارہا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں وہی پرانی دھکم پیل شروع ہوچکی ہے۔ایسا کرکے آخر ہم کیوں اپنی تباہی کا سامان کررہے ہیں۔کورونا کی پہلی لہر خطرناک نہیں تھی لیکن خوف کی وجہ سے ہم نے حددرجہ احتیاط کیا اور ہم اُس لہر میں کوئی زیادہ نقصان اٹھائے بغیر بچ کر نکل آئے ۔اس کے بعد دوسری لہر پہلی لہر کی نسبت میں تباہ کن تھی لیکن خوف ختم ہوچکا تھا اور لاپرواہی کی انتہا کردی جس کا خمیازہ ہمیں جانی و مالی نقصان سے اٹھانا پڑا۔اب تیسری لہر کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ یہ پہلی دولہروں کی بہ نسبت زیادہ خطرناک ہوگی لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے اندر خوف بالکل ختم ہوچکا ہے اور ہم اس کو بھی محض افواہ ہی سمجھ رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے ۔اللہ نہ کرے اگر تیسری لہر اس حالت میں آجائے تو یہ بڑے پیمانے پر تباہی کا موجب بن سکتی ہے کیونکہ ہم نے اس کے پھیلنے کا مکمل بندو بست خود کرکے رکھا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فوری طور سنبھل جائیں ،سدھر جائیں اور قبلہ درست کرکے احتیاط کا دامن پھر سے پکڑیں کیونکہ صد فیصد ٹیکہ کاری مکمل ہونے تک پر ہیز ہی واحد علاج ہے اور پر ہیز یعنی احتیاط ،جس میں ماسک پہننا ،سماجی فاصلے برقرار رکھنا اور ہاتھوں کی صفائی شامل ہیں،ہی ہمیں ممکنہ تیسری لہر کی اندوہناکی سے بچاسکتے ہیں۔