کووڈ۔ 19اور اُستاد کا ہنگامی کردار

اساتذہ بچوں کے درجہ دوئیم کے سرپرست ہیں جن کے لئے انہیں ہنگامی صورتحال کے ساتھ ساتھ معمول کے حالات میں اور ہنگامی طور پر بھی ہر بار ترجیحات کا تعین کرنا چاہئے۔ کوویڈ 19 عالمی وباہ نے پوری دنیا میں معمول کے کام کے ہر پہلو کوجنجوڑ کر رکھ دیا اور بچوں کی تعلیم بھی اس سے مستثنیٰ نہی رہی۔ یہ وبائی بیماری تھی جو زندگی کو ٹکرائی اور جب زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے تو دوسری تمام چیزیں ترجیحی فہرست میں دوسری صف میں آجاتی ہیں۔ یہاں پرہمیں تفصیلات میں جانے کی گنجائش نہیں ہے لیکن ہم اس صورتحال کی گہرائی کو ایک خاص نشانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ جب کوویڈ 19 ایک وبائی مرض کے طور پر ابھرا اور اس نے زندگی کے لئے ہی خطرے کی گھنٹی بجانی شروع کی تو تمام بیماریوں نے دوسری ترجیحی حیثیت اختیار کرلی۔ قابلِ التواجراحیوں اورطبی طریقہ کار کو روک دیا گیا اور پوری توجہ کوڑ 19 کی جانب کرائی گئی۔
تجارت اور تعلیم مایوسی کی لپیٹ میں آگئی ۔اللہ رب العزت کا شکر ہے جس نے ہم عصر انسان کو جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی سے نوازا ہے جو روایتی اور دستی طریقوں کو موثر انداز میں متبادل آلے کے طور پر خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے بشرطیکہ انسان اس کا خلوصِ دل سے ساتھ دے اور صحیح استعمال کرے۔ آن لائن تدریس دنیا بھر میں تعلیم اور تشخیص کی رْو سے درس و تدریس کے عمل کے متبادل طریقے کے طور پر ابھری۔ اگرچہ یہاں سمارٹ کلاسز کا تصور برسوں پہلے شروع کیا گیا تھا لیکن اب اس وبائی مرض نے آن لائن تعلیم کی اہمیت کو بڑھا دیا۔ اس کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں ، لیکن وبائی بیماری کے دور میں، اس نے کم دستیاب وسائل اور کمزور نیٹورکنگ نظام سے ہی کام کیا۔ تمام تر مشکلات کے باوجود، مہلک وبائی بیماری کے درمیان کوئی دوسرا آپشن تھا  ہی نہیں جہاں سبق (‘نصاب’) صحت (زندگی) سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
 کویڈ 19کے اس وبائی مرض کے درمیان اساتذہ کا کردار چیلنجنگ رہا۔ جموں کشمیر جیسی جگہ پر درس تدریس کے لئے نئے ڈومین کو قبول کرنا پہلا چیلنج تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی یہ اساتذہ آن لائن کلاسز کی فراہمی کی رفتار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے حالانکہ پہلے طلباء کی تعداد حوصلہ افزا نہیں تھی لیکن آگے چل کر اساتذہ نے اس ڈومین میں دلچسپی لی۔ نئی چیزیں نئے اور سخت چیلنجوں کے ساتھ آتی ہیں اور مسلے  کوحل میں بدلنا استاد کا کام ہوتا ہے۔ فاصلاتی تعلیم میں یوٹیوب نے بلکہ بہت آسانی پیدا کردی۔ ادھرمحکمہ کے ذریعہ اساتذہ کو دیئے گئے اضافی اسائنمنٹس مِلتے رہے جیسے، فیلڈ مجسٹریٹ ، ایس او پی انسپکٹر اور نوڈل افسران وغیرہ لیکن ان اضافی اموارت کے دوران انہوں نے کبھی بھی تدریس سے سمجھوتہ نہیں کیا اور ہر ممکن آن لائن ٹول کے ذریعہ آن لائن کلاسز کا اہتمام کیا۔
ایک استاد کو بچے کا سیکھانے والا سرپرست بننا پڑتا ہے ، تاہم  یہ وقت نازک اور جانچ پڑتال کا ہوتا ہے اور زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے۔ اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ جو بھی پبلک ، والدین یا حکومت ہو، اس سے متعلق اسٹیک ہولڈرز کو آگاہ کرے کہ کوئی معمولی غلطی یا زیادتی کسی تباہی کا باعث بن سکتی ہے اور محفوظ موتیوں کوتباہ کر سکتی ہے۔
زندگی ہر حال میں بالاتر ہے۔ تعلیم اور معاشیات اسکے بعد آتے ہیں۔ کویڈ 19کے چلتے کمیونٹی کلاسز کا انعقاد معقول حد تک حیرت کی بات تھی ، وائرس کو اسکول کے کلاس روم یا کسی نجی عمارت میں یا کسی کھلے میدان میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اور پھر شاید یہ کام دیگر ایجنسیوں کو نافذ کرنا پڑے کہ وہ 'عوام' کو جسمانی  فاصلے برقرار رکھنے اور ماسک پہننے پر قائل کریں۔ اس کے باوجود اساتذہ نے معاملات کو سنبھال لیا کیونکہ ایک اور چیلنج آن لائن کلاسوں اور کمیونٹی کلاسوں کے مابین وقت کا تصادم تھا۔نجی اسکول کے اساتذہ نے بھی آن لائن کلاسوں کو برقرار رکھنے کے لئے کوششیں کیں ۔اگرچہ بغیر تعلیم کے فیس کے معاملات ابھی بھی زیربحث ہیں تاہم ہر شخص پرائیویٹ سکول اساتذہ کو ان کے واجبات دلانے کے لئے ٹیوشن فیس ادا کرنے کے حق میںبول اْٹھا۔
الغرض اس طرح کی صورتحال میں تمام اساتذہ کا سب سے اہم فرض ایک بچے کی زندگی کا ہونا چاہئے ، جس میں میٹھی چاپلوسی یا ہر طرف کے سخت دبائو کو چھوڑ کر ایک استاد کو ترجیح علم وآ گہی کے آفاقی اصولوں کی بنیاد پر ہی دینی چاہئے۔ اسے اپنے شاگرد کو خوفناک وائرل مائکروبیل انفیکشن جس کی کوئی ویکسین نہیں ہے، کی ہولناکیوں کے بارے میں ہوشیار رکھنا چاہیے۔ اسے انہیں صحت سے متعلق ہدایات اور اصولوں سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ وہ اونٹ باندھنے اور پھر اسے خدا کے نام پر کھلا چھوڑنے کا فلسفہ سمجھا ئے۔ ایک بار جب زندگی برقرار رہے گی تو تعلیم اور معیشت اس کے پیچھے چل پڑے گی۔
رابطہ۔[email protected]