کووِڈ19کی تیسری لہر کا شدید خطرہ لاحق: ڈاکٹر سلیم خان

سرینگر// دِن بہ دن کووِڈ ۔19مثبت معاملات اور ہسپتالوں میں کووِڈ مریضوں کے داخلے کی تعداد میں نمایاںکمی واقع ہوئی ہے اور کووِڈ۔19 کی دوسری لہر کا اثر بڑی حد تک کم ہوا ہے ۔ تاہم ماہرین صحت نے متنبہ کیا کہ کووِڈ وَبائی وائرس کی تیسری لہر سے شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ پروفیسر اور سربراہ کمیونٹی میڈیسن جی ایم سی سری نگر ڈاکٹر محمد سلیم خان نے کووِڈ ۔19 کے موجودہ منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کووِڈ مثبت معاملات میں کمی اور کووِڈ اَموات کی تعدادکم ہونے سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ دوسری کووِڈ لہرکے خلاف جنگ جیتنے کا حوصلہ افزا اِشارہ ہے۔  ڈاکٹر سلیم نے متنبہ کیا کہ دوسری لہر کے خاتمے کے نتیجے میں لوگوں میں کووِڈ مناسب طرزِ عمل کی طرف عدم سنجیدگی پیدا ہوئی ہے بالخصوص ماسک پہننے اورمعاشرتی فاصلے طے کرنے والے ایس او پیز پر عمل پیرا ہونے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقہ کورونا وائرس کی تیسری لہرمیں شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔اُنہوں نے متنبہ کیاکہ کووِڈ کی تیسری لہر اِنتہائی خطرناک اور مہلک ہے اور بہت سی جانیں لے سکتی ہے ۔اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ تیسری لہر کے اثرات کو قابو میں رکھنے کے لئے لوگوں کو پہلے سے طے شدہ ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ بازاروں ، ہیلتھ ریزورٹس اور شادی بیاہ کی تقریبات کو بغیر ماسک پہنے ہوئے اور معاشرتی فاصلے کی کوئی پرواہ نہ کرنا نامناسب طرز عمل ہے۔اُنہوں نے سب کو ویکسی نیشن لگانے کی تاکید کی اور اسے کووِڈ بیماری کے خلاف لڑنے کے لئے ایک واحد اور مضبوط ہتھیار قرار دیا۔اُنہوں نے کہا کہ بزرگ اَفراد کو کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگانے کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔اَب 18برس سے زیادہ عمر کے تمام اَفراد کو ٹیکے لگانے چاہئیں۔