کووِڈ – 19پر روک | لیفٹینٹ گورنر کے مشیرنے تیاریوں کا جائزہ لیا

بانڈی پورہ//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے آج کووِڈ تخفیف کی کوششوں اور اِس وَبائی مرض سے نمٹنے کے لئے ضرورتوں کا جائزہ لینے کے لئے ضلع بانڈی پورہ کا دورہ کیا۔اُنہوں نے ضلع بانڈی پورہ کے مذہبی رہنماؤں ، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے تبادلہ خیال کیا۔مشیربصیر خان نے مذہبی رہنماؤں ، تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور دیگر وَفود سے تبادلہ کرتے ہوئے وائرس کی زنجیر کو توڑ کر جانیں بچانے کے لئے من و عن رہنما خطوط کے مطابق ایس او پیز اور ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ اُنہوں نے مذہبی سربراہان ، پی آرآئی ممبران ، ٹرانسپورٹروں ، بزنس کمیونٹی اور سول سوسائٹی کے ممبران سے تعاون طلب کیا تاکہ وہ لوگوں کو ہدایت ناموں پر عمل کرنے کی ترغیب دیں تاکہ زندگیاں بچ جائیں۔مشیرموصوف نے کہا کہ وسائل اور وقت اَب بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ جموں و کشمیریوٹی کے پاس کسی بھی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کافی وسائل موجود ہیں۔ ویکسین ، اَدویات یا آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ویکسینوں کی 1.25 کروڑ نئی کھیپ پہنچ رہی ہے۔بعد میں مشیرموصوف نے ضلع کی جانب سے کی جارہی کورونا تخفیف کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا جس میںضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ نے ایک تفصیلی پی پی ٹی پیش کیا جس میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے کووِڈ کنٹین منٹ اقدامات کی تفصیل دی ۔مشیرموصوف کو جانکاری دی گئی کہ کووِڈمریضوں کے لئے 600 بستروں کی سہولیات میسر ہے۔ اِس کے علاوہ ضلع میں 14 آئی سی یوز دستیاب ہیں۔ ویکسی نیشن کے عمل کے بارے میں انہیں بتایا گیا کہ ضلع میں 69 ٹیکہ کاری مقامات کام کر رہے ہیں اور جانچ کے مقصد کے لئے یومیہ بنیاد پر زائد از 2000 نمونے جمع کئے جاتے ہیں۔ ڈی ایچ بانڈی پورہ میں 1000 ایل پی ایم گنجائش والے آکسیجن پلانٹ کام کرنے کے علاوہ مختلف مقامات پر ضلع میں آکسیجن سلنڈر بھی دستیاب ہیں۔مشیر موصوف کویہ بھی بتایا گیا کہ کووِڈ بندشوں کو زمینی سطح پر نافذ کیا جارہا ہے۔ضلع اِنتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مشیر بصیر خان نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ ضلع میںکووِڈ۔19 پر مؤثر  انداز میں کنٹین منٹ لانے کے لئے تمام ضروری اِقدامات اُٹھائے۔ اُنہوں نے کسی بھی قسم کی طبی مداخلت سے نمٹنے کے لئے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنے کے لئے کہا۔بصیر خان نے افسران پر زور دیا کہ وہ کووِڈ رہنما خطوط پر من و عن عمل درآمد کریں جبکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوام کو خوراک، پانی ، دوائی وغیرہ کی بنیادی خدمات بلا تعطل فراہم کی جائیں۔مشیر موصوف نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ترجیحی طور پر عوام الناس کو ٹیکے لگوائیں۔مشیربصیر خان نے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ کسی بھی طرح کی طبی افادیت سے نمٹنے کے لئے قابل عمل منصوبہ تیا ر کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے ضلع اِنتظامیہ سے کہا کہ وہ بنیادی ڈھانچے ،  آکسیجن کی دستیابی ، بستر کی گنجائش ، وینٹی لیٹروں اور اَفرادی قوت اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے وسائل کی تشخیص کرائے تاکہ کووِڈمثبت معاملات میں کسی بھی طرح کے اضافے کے لئے تیار رہیں۔مشیر موصوف نے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ہدایت دی کہ مؤثر ویکسی نیشن ، کنٹین منٹ زونوں کا اِنتظام ، لوگوں کی نقل و حمل ،خوراک اور سپلائی ، ادویات ، ایمرجنسی اور دیگر پہلوؤں کے منصوبوں پرتوجہ دیں جن کو اس مرحلے میں بنیادی ضرورت ہے۔ مذہبی رہنماؤں ، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کے وفود نے اِنتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے پیش نظر مشیر کو ان کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقعہ پر ان کے نمائندوں نے حکومت کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ سماجی دوری ، ماسک پہننا اور ٹیکے لگوانے سے وائرس کے خاتمے کی کلید ہے اور وہ لوگوں کو ایس او پیز پر عمل کرنے کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔اِس موقعہ پر ڈی ڈی سی چیئرپرسن عبد الغنی ، وائس چیئرپرسن کوثر شفیع ،ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد، ڈائریکٹر دیہی ترقی محکمہ طارق احمد زرگر ،ناظم سیاحت جی این ایتو ، سپراِنٹنڈنٹ انجینئر پی ڈی ڈی ہلال احمد ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ظہور احمد میر ، اے سی ڈی بانڈی پورہ ،اے سی آر بانڈی پورہ ، جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ اورضلع کے دیگر سینئر اَفسران موجود تھے۔