کووِڈ احتیاطی پیغام کوکثرت سے عام کریں

سرینگر//صوبائی کمشنر کشمیر پانڈورانگ کے پولے نے جمعرات کو ائمہ ، خطیبوں ، علماء کرام ، مساجد کے متولیوں اور وقف بورڈ کی زیارت گاہوں کے ساتھ مذہبی مقامات پر لوگوں میں کووِڈ۔19 کے رہنما خطوط کو تقویت دینے اور بڑے پیمانے پر بیداری پیدا کرنے کے سلسلے میں ورچیول میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ میں تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں ، ناظم صحت، ناظم سیاحت ، چیئرمین وقف بورڈ ، ایپیڈ یمولوجسٹ ڈی سی سی آر کے اور دیگر اَفسران نے بھی شر کت کی۔اِس موقع پر صوبائی کمشنر کشمیر نے کووِڈ۔19 وَبائی اَمراض کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران ائمہ ، علماء کرام اور خطیبوں کے کردار کو سراہا۔دریں اثناء انہوں نے انہیں اَپنی مذہبی اور سماجی ذمہ داری کے بارے میں یاد دِلایا کہ وہ لائوڈ سپیکرپر کثرت سے کووِڈ احتیاطی پیغام کا اعادہ کرتے ہوئے لوگوں کو تعلیم دینے میں اور بھی بہتر کردار اَدا کریں۔اِس کے علاوہ جسمانی دوری ، ماسک پہننے ، سینی ٹائزر کا استعمال ،رابطے اور رَش کی جگہوں سے دوررہنے اور ایس او پیز پرسختی سے عمل در آمد کریں ۔ صوبائی کمشنر نے ان سے کہا کہ وہ کووِڈ مناسب طرزِ عمل ( سی اے بی ) اور اس کی تعمیل سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے لئے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا اِستعمال کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم تیسری لہر سے گزر رہے ہیں جو تقریباً ایک سو ایام تک جاری رہ سکتی ہے۔پی کے پولے نے کووڈِ اَمراض میں بڑھتی ہوئی صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لئے مزید کوششیں شامل کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ ہمیں تیسری لہر کے چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے اِنفرادی اور اِجتماعی سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے جموںوکشمیربالخصوص وادی میں وائرس کے آخری دو مرحلوں کے دوران اِنتظامی کوششوں کے کامیاب نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اِنتظامیہ کو مذہبی اثر و رسوخ رکھنے والوں کی بیک وقت عوام الناس کی مدد حاصل کرنے کے علاوہ پوری طرح تیار رہنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ تیسری لہر اِنتہائی متعدی ہے لیکن مریضوں میں زیادہ تر ہلکی علامات پیدا ہوتی ہے ۔ اس لئے زیادہ سے زیادہ متاثرہ اَفراد کو گھر سے الگ تھلگ رہنے کی ضرورت ہوگی۔ اِس سلسلے میں صوبائی کمشنر نے وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے خود پابندیوں ، ضابطوں اور تنہائی کو اَپنا نے کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے مسائد اور بقعہ عالیہ کے اِماموں اور خطیبوں سے دِن میں پانچ بار لوگوں کو حساس بنانے پر زور دیا۔ اِس موقعہ پر مذہبی رہنمائوں نے صوبائی کمشنر کو وَبائی اَمراض کے اِس مشکل دور میں حکومت کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لئے پہلے کی طرح اَپنے تعاون کا یقین دِلایا۔