کون بگاڑ رہاہے حجاز ی لَے؟

 چو کفر از کعبہ بر خیزد، کجا ماند مسلمانی۔۔۔۔گذشتہ دوبرسوں سے بالخصوص ہم متواتردیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب کی قیادت کی سوچ اوراسکی اپروچ میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ا س بڑی تبدیلی کے سعودی عرب میں بالخصوص اورپوری دنیائے مسلم پربالعموم منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔سعودی عرب کی انتظامیہ میں اس وقت ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے کہ جب سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے روایت سے ہٹ کر23 جون 2017کوسعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک مختصر سے حکم نامے پر دستخط کر کے شہزادہ محمد بن نائف کو ہٹا کر ان کی جگہ بادشاہ کے32 سالہ صاحبزادے محمد بن سلمان کو اگلا بادشاہ نامزد کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ محمد بن نائف کو وزیرِ داخلہ کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا۔یہ حکم نامہ مختصر مگر جامع تھا۔محمد بن سلمان کا بطور ولی عہد تقرر جنوری 2015 میں شاہ سلمان کی تاج پوشی کے بعد سے قیادت میں طوفانی تبدیلیوں کے عمل کا حصہ ہے۔ نئے بادشاہ کے سب سے پہلے احکامات میں سے ایک اپنے بیٹے کو نائب ولی عہد مقرر کرنا تھا۔ اب تک بادشاہت مملکت کے بانی ملک عبدالعزیز کے بیٹوں تک محدود تھی اور سنیارٹی کا پیمانہ عمر تھی۔لیکن شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہدیہ دونوں معیار متروک ٹھرے ۔ اس حکمنامے کے تحت سعودی عرب کا اگلا بادشاہ شاہ عبدالعزیز مرحوم کا جوان پوتا ہوگا۔ اس وقت شہزادہ محمد بن سلمان اکتیس برس کے ہیں اور ان کے چند چچا اب بھی بقیدحیات ہیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے37 بیٹے تھے جن میںکئی ایک خادم الحرمین الشریفین رہے بالآخرعدم سدھارگئے اورآج کل ان کے بیٹے سلمان خادم الحرمین الشریفین ہیںجب کہ شاہ سلمان کے بیٹے محمدبن سلمان اگلے خادم الحرمین الشریفین  ہوں گے۔
24اکتوبر2017منگل کو اقتصادیات امور کی ایک کانفرنس میںسعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب میں معتدل اسلام کی واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ کانفرنس العریبیہ ٹی وی پر براہِ راست دکھائی گئی۔محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب 1979 سے پہلے ایسا نہیں تھا۔ سعودی عرب اور پورے خطے میں مختلف وجوہات کے لیے 1979 کے بعد سے الصحوہ ’’آگہی‘‘کی ایک تحریک چلائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی زندگیوں کے آئندہ 30 سال ان تباہ کن عناصر کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ ہم انتہا پسندی کو جلد ہی ختم کردیں گے۔شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ایسے نہیں تھے۔ ہم اس جانب واپس جا رہے ہیں جیسے ہم پہلے تھے، ایسا اسلام جو کہ معتدل ہے، اور جس میں دنیا اور دیگر مذاہب کے لیے جگہ ہو۔شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی عرب کے نئے ترقیاتی پلان وژن 2030 کا بانی مانا جاتا ہے۔ 
حجاز مقدس عالم اسلام کے مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز اورفیض کامنبع ہے۔کرہ ارض کے ہر مسلمان کا اس پاکیزہ اورمقدس سرزمین کے ساتھ ایمانی اور نظریاتی تعلق استوارہے ۔خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعدحجازمقدس کومحمدبن سعودکی طرف منسوب کردیاگیااور اسے سعودی عرب کانام دیاگیا۔سعودی عرب اپنے یوم تاسیس سے آج تک مسلم فکر کے اس رجحان کا نمائندہ رہا جس میں قرآن وسنت کی تعبیر ( interpretation) پر اصرار کیا جاتا ہے۔ پوری مسلم دنیامیں سعودی عرب کویہ اعزازحاصل رہا ہے کہ آج تک اس مقدس سرزمین پر شریعت اسلامی کی حکمرانی قائم رہی اورمنکرکے کاموں کی کھلے عام اجازت ہرگزنہ تھی ۔لیکن اب سعودی عرب بدلتاہوانظرآرہاہے اور ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب کو امر یکی ا صطلاح میں ایک’’ماڈریٹ اور آزاد‘‘ اسلامی ریاست بنانے کا عزم ظاہر کردیا ۔ سعودی ولی عہدکے ان خیالات کے محض دویوم بعد26 اکتوبر 2017جمعرات کوسعودی عرب کے ایک صعنتی زون نے رواں برس کے اختتام کے قریب جاز موسیقی کے فیسٹیول کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔صنعتی زون کی جانب سے یہ فیصلہ ملک کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ملکی معیشت کا انحصار تیل پر کم کرتے ہوئے سیاحت اور تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ رائٹرز کے مطابق جدہ کے قریب کنگ عبداللہ اکنامک سٹی تعمیر کرنے والے گروپ ای ای سی کے گروپ چیف ایگزیکیٹیو فہد الراشد نے بتایا ہے کہ ان کا مقصد ہے کہ جاز فیسٹیول میں غیر ملکی موسیقار اپنے فن کا مظاہرہ کریں۔انھوں نے کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ویزہ کی موجودہ پالیسی کی وجہ سے بڑی تعداد میں غیر ملکی حاضرین اس فیسٹیول میں شرکت کر پائیں گے کہ نہیں لیکن پیشنگوئی کی کہ سعودی شہریوں کی بڑی تعداد ٹکٹ حاصل کریں گے۔ان کاکہناتھاکہ ملک میں اس طرح کے ایونٹس اور ثقافتی پرفارمنسز کی بہت زیادہ مانگ ہے جس پر کام نہیں کیا گیا۔خیال رہے مرکزاسلام کے باوصف سعودی عرب میں عوامی سطح پر موسیقی اور رقص کے پروگرام نہ ہونے کے برابر ہیں۔
یادرہے کہ 1979 کوروس کے خلاف جہادافغانستان شروع ہوا،اسامہ بن لادن اورعبداللہ عزام جیسے قدآورجہادی قیادت کے زیرنگرانی عرب مجاہدین صفاصفاجہادی افغانستان میں شریک ہورہے تھے ،دشمن کے اسلحے ،تیروتفنگ عسکری طاقت وقوت کے مقابلے میںنہتے مجاہدین دنیاکی ایک سپرپاورکوشکست دے رہے تھے ،مجاہدین کی فتوحات پرفتوحات اورسویت یونین کی پے درپے ہزیمت سے ایک طویل مدت کے بعد مسلمان بدروحنین کی عملی تعبیردیکھ رہے تھے۔اس عظیم کامیابی پرعرب علماء و صلحاء بالخصوص مرکزاسلام سعودی عرب کے اکابرعلماء مجاہدین کے پشت پناہ بنے ہوئے تھے ،عربوں کے حمیت جاگ رہی تھی انہیں اپناماضی یاد ، دلایاجارہاتھاکہ جب عرب سے اٹھے صحابہ کرام علیہم الرضوان چاردانگ عالم فریرہ توحیدلہرارہے تھے اورسامنے آکررکاوٹ بننے والے شکست سے لت پت ہورہے تھے، حمیت اسلامی جاگ اٹھنے پرعرب معاشرے پرایک بارپھرقرون اولیٰ کارنگ ونوربرس رہاتھا ،اورمعاشرہ مکمل طورپراسلامی اورجہادی بن رہاتھااوربزدلی پیداکرنے والی کئی چیزیں بدل رہی تھیں۔اسی دوران20 نومبر 1979  بمطابق 1400 ہجری، محرم کے مہینے میں جہیمان ابن محمد بن سیف العتیبی نامی شخص آل سعود کی حکومت ختم کرنے کے لیے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت حرم شریف میں داخل ہوا، اورمسجدالحرام کے اندرتمام عبادت گذاروں کویرغمال بنا لیا ۔ یہ شخص نجد کے امیر ترین خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا دادا سعودی سلطنت کے بانی شاہ عبدالعزیز کا دست راست رہا تھا۔ عتیبی کے حوالے سے کہاگیاکہ وہ،محمد بن عبد اللہ قحطانی سے متاثرتھے جوانکے برادرنسبتی اورسعودی عرب کے مفتی اعظم عبد العزیز بن باز کے شاگرد تھے۔ ایک سعودی عالم دین شیخ قحطانی سے جیل میں ملاقات ہوئی تھی۔عتیبی،شیخ قحطانی کی شخصیت سے متاثر ہوا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے اپنی تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اور بہت سے متبعین کو اپنے ساتھ ملا لیا۔شیخ قحطانی کے ماننے والے صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ کویت اور مصر میں بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔ چونکہ عتیبی کے پاس کافی دولت اور طاقت موجود تھی اور یہ سعودی شیوخ کا امریکہ اور یورپ کے ساتھ اتحاد کا سخت مخالف تھا۔ یہ بڑا زبردست مبلغ اور تعلیم یافتہ شخص تھا۔اس کا کہنا تھا کہ امیرکے ہاتھ پربیعت کرکے امریکہ اور یورپ کے خلاف متحدہ جدو جہد کرنی چاہیے۔اس لئے اس نے کعبہ میں میں لوگوں کو قحطانی کی زبردستی بیعت کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا۔
عتیبی کے اس عمل سے پوری دنیا کے مسلمان سناٹے میں آگئے اور فوری طور پر دنیا بھر کے علماء نے اس کے خلاف فتویٰ دیا اور خانہ کعبہ کے اندر کارروائی کرنے کی بھی اجازت دی ۔وہاں سعودی آرمی اور فرنچ آرمی موجود تھی ۔عتیبی گروپ کے پاس سنائپرز اور شارپ شوٹرز تھے جنہوں نے مسجدالحرام میں جگہ جگہ پوزیشنیں سنبھال لیں ۔ دو دن تک مقابلہ ہوا لیکن سعودی فوجی ہلاکتوں کے باوجود سعودی اور فرنچ آرمی ذرا بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی زبردست بے چینی تھی اور جنرل ضیاء الحق نے ایس ایس جی کمانڈوز کا ایک دستہ ترتیب دیا تھا اور وہ مسلسل سعودی عرب سے رابطے میں تھے کہ انہیں آپریشن کرنے کا موقع دیا جائے۔ بالا آخر دو دن بعد ا فواج پاکستان کے کمانڈوز کو کارروائی کرنے کا موقع دیا گیا ۔ اس دستے نے غیر معمولی سرعت سے تمام حملہ آوروں پر قابو پالیااور سب کو فوری طور پر گرفتار کر لیا ۔ تمام یرغمالیوں کو رہائی دلائی گئی ۔
 با لآخر جہیمان العتیبی اور 60 ساتھیوں کو پھانسی دی گئی۔ اس واقعے کے بعد سعودی حکومت نے سخت اسلامی قوانین نافذ کئے۔’’صحوہ‘‘بیداری کی تحریکوں کے مبلغین اور اخوان المسلمون نے حکمت عملی ترتیب دی جس کے ذریعے نوجوانوں میں اسلامی احکاما ت پرعمل پیراہونے کی ناگزیریت پرتربیت کی جاتی رہی اورمغرب سے درآنے والی نام نہاد روشن خیال تعلیمی تیزاب کی فناکاریوں کاتوڑکردیا، تعلیمی نصاب میں صرف اورصرف دینی سوچ  اختیارکرنے کاپہلوسرفہرست رکھاگیا۔ان معنوں میں کہ مغربیت کے اوراسلام کی کشمکش میں سعودی بچے اوربچیاں مائل بہ مغربیت نہ ہوں وہ کیسا لباس پہنیں اور انھیں کیا طرز عمل اختیار کرنا ہوگا۔ان کی رہنمائی اورانہیں پابندشریعت بنادینالابدی تھا۔ فنون کے نام پرانہیں کوئی گمراہ نہ کربیٹھے ،تعلیمی اداروں،نصاب ، اساتذہ اورشاگردوں کوایک ہی سانچے میں ڈالا گیااوروہ سانچہ تھاقرآن وسنہ۔مغربی کلچرکی بیخ کنی کی گئی اور ایسے کلچر کو آگے لے آئے جو خالصتاََمحمدعربی صلعم کی تعلیمات سے میل کھاتاتھا۔اس طرح سعودی عرب کی نسلوں کو اس حقیقی پرہیز گاری پر مبنی روح پر عمل پیرا رکھنے اورپاکیزہ شجرسے پیوستہ ہونے کے لئے بڑاکام انجام دیاگیاتاکہ نسل نواخلاقی برائیوں سے آلودہ نہ ہو۔اس طرح کی آگہی کی ناگزیریت اس لئے بھی تھی کیونکہ 1960 اور 1970 کے عشروں میں سعودی طالب علموںکی ایک بڑی تعدادبیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے عازم سفرتھی تاکہ یہ طلبہ مغربیت کے ہتھے نہ چڑھ سکیںجیسا کہ بعض عرب ممالک کی نسلوں کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا۔
الصحو ’’بیداری‘‘سعودی ابلاغی تعبیر ہے۔ اس سے سیاسی اسلام کی بیداری مراد لی جاتی ہے۔ اس عمل کی قافلہ سالار جماعت الاخوان المسلمون ہے۔آٹھویں اور نویں عشرے میں بیداری کی علمبردار سعودی اور غیر ملکی شخصیات کا تذکرہ مقامی اخبارات میں بڑا مشکل تھا، پھر الاخوان کی ادبی تحریری اور ان کے افسانے مقبول ہوئے۔ زینب الغزالی، احمد رائف کی کتابیں مشہور ہوئیں۔ محمد قطب کی کتابیں اسکولوں کی لائبریری کا بنیادی حصہ بنیں۔ سید قطب کو خصوصی قدر ومنزلت حاصل ہوئی،سعودی عرب اور عموما عرب دنیا میں کسی نہ کسی درجے میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ بیداری کا دور لد گیا ہے۔ جب سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے، جو نئے سعودی وژن کے قافلہ سالار ہیں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ’’انتہا پسندوں‘‘ کو آج بلکہ ابھی صفحہ ہستی سے مٹا کر دم لیں گے، تب سے یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ بیداری کا باب ہمیشہ کیلئے لپیٹ دیا گیا۔حالیہ دنوں میں بیداری کے قافلہ سالار سلمان العودہ اور عوض القرنی کی چمک دمک ماند پڑتی جا رہی ہے۔ اس دنیا سے تعلق رکھنے والے غیر سعودی سید قطب، حسن البنا، کویت کے احمد القطان، محمد العوضی، طارق السویدان جیسی شخصیت کی چمک دمک بھی کم ہوئی ہے۔  
 کویت پر صدام حسین کے غاصبانہ قبضے اور اس وقت مملکت کے ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کے اس بیان کے بعد اخوان کی حیثیت کمزور پڑ گئی جس میں انہوں نے کویت پر صدام کے قبضے کے بعد سعودی عرب سے غداری کی تھی۔ رفتہ رفتہ الاخوان کا اثر ونفوذ ماند پڑتا چلا گیا۔  ۔ جب تک ماضی میں بیداری سے متاثر لوگوں کے ذہن ٹھیک نہیں کئے جائیں گے تب تک بات نہیں بنے گی۔یہیں سے سعودی عرب میں ایک سوچ ابھرتی رہی ہے کہ اس کے اورنام نہاد مہذب دنیا یورپ کے درمیان ایک بڑی ثقافتی خلیج حائل ہے
(بقیہ جمعرات کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)