کولگام کے بیگام علاقے میں کشمیریت کی مثال زندہ: مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسومات انجام دیں

کولگام// جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے بیگام علاقے کے لوگوں نے کشمیر میں صدیوں سے چلی آ رہی روایت آپسی بھائی چارے اور ہمدردی و اخوت کی شاندار مشعل کو اس وقت مزید فروزاں کیا جب وہ نہ صرف ایک عمر رسیدہ راجپوت ہندو خاتون کی موت پر رات بھر غمزدگان کی ڈھارس بندھاتے رہے بلکہ ان کی آخری رسومات سر انجام دینے میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
بتادیں کہ کولگام کے بیگام گاؤں میں رہائش پذیر ایک عمر رسیدہ راجپوت ہندو خاتون لاجونتی دیوی کی پیر کی شام قریب سات بجے موت واقع ہوئی۔
مختار احمد کھانڈے نامی ایک مقامی باشندے نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں ہمیشہ بھائی چارے سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’پیر کی شام جب مذکورہ خاتون کی موت واقع ہونے کی خبر گاؤں میں پھیل گئی تو گاؤں کے سارے لوگ ان کے گھر پر جمع ہوئے اور ہم رات بھر وہیں ٹھہرے رہے تاکہ لواحقین کی ڈھارس بندھائیں‘۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم نے آنجہانی خاتون کی آخری رسومات کے انجام دینے کے لئے تمام تر انتظامات کئے‘۔
موصوف نے کہا کہ جب مسلمان گھر میں کوئی بھی خوشی کی تقریب ہوتی ہے یا کسی کا انتقال ہوتا ہے تو ہمارے پنڈت بھائی وہاں پیش پیش ہوتے ہیں اور یہی انسانیت ہے اور تمام مذاہب آپسی بھائی چارے اور ہمدردی و اخوت کی تعلیم دیتے ہیں۔
متوفی خاتون کے ایک رشتہ دار نے بتایا: ’ہمارا پورا گاؤں رات بھر ہمارے ساتھ تھا اور صبح ان لوگوں نے ہی آنجہانی خاتون کی آخری رسومات سر انجام دینے کے لئے سارے انتظامات کئے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم یہاں بھائی چارے سے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں سے نہ بھاگے او نہ کبھی بھاگنے کے بارے میں سوچا‘۔
ایک اورمقامی نے مسلمان کہا کہ لاجومتی دیوی ہماری ماں جیسی تھیں اور ہم ان کی بہت عزت کرتے تھے۔
انہوں نے کہا: ’ہم یہاں پنڈت مسلمان بھائی چارے سے رہتے ہیں گذشتہ تین دہائیوں سے جاری نا مساعد حالات کے دوران بھی ہمارا بھائی چارہ قائم رہا‘۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم ایک دوسرے کی خوشی و غم میں برابر شریک ہوتے ہیں‘۔