کولگام کی بستی بدستور30گھنٹے سے محاصرہ میں

کولگام//جنوبی کشمیر میں کولگام ضلع کا ایک گائوں پیر تک 30گھنٹے تک محاصرے میں رہا۔ اس دوران ڈورو میں 3 نوجوانوں اور پلوامہ میں چھاپی مار کارروائیوں کے نتیجے میں30نوجوان حراست میں لئے گئے۔کولگام ضلع ہیڈکوارٹر سے 2کلو میٹر دور پونی پورہ نامی بستی کا پیر کی شب فورسز اور پولیس نے سخت ترین محاصرہ کیا اور روشنی کا انتظام کر کے صبح تلاشی کارروائی شروع کی۔ 100گھروں پر مشتمل اس چھوٹی بستی کا جب دن کے 12بجے محاصرہ ختم کیا جارہا تھا تو دوبارہ ناکہ بندی کی گئی اور دوسری بار تلاشی کارروائی شروع کی گئی۔چار بجے جب محاصرہ دوسری بار ختم ہونے کو تھا تو کوئی اطلاع پھر فورسز کو ملی اور انہوں نے تیسری بار خانہ تلاشیاں لیں۔پیر کی شام دیر گئے گائوں کا مھاسرہ مزید تنگ کیا گیا اور روشنیوں کا انتظام پھر سے کیا گیا۔ گائوں کے ملحقہ دیہات پھتہ پل اور ژہلن کے آس پاس بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی۔کولگام کے ہی کھانڈی پورہ گائوں میںتلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ادھر قاضی گنڈ کے پانزتھ اور درنان دیہات میںچھاپہ مار کارروائی عمل میں لائی گئی جس کے دوران اور تین نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔گرفتار شدگان کی شناخت محمد اقبال شیخ ،فیاض احمد شیخ اور فاروق احمد شیخ کے بطور ہوئی ہے ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تینوں نوجوانوں کو سنگبازی کی پاداش میں حراست میں لیا گیا ۔ادھر پلوامہ میں مختلف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گزشتہ تین روز کے دوران دو درجن سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ اتوار کی صبح تک پلوامہ میں 30 افراد کو حراست میں لیا گیا اور یہ حراستی کارروائی مختلف دیہات میں عمل میں لائی گئی۔