کولگام خودکشی واقعہ کی غیرجانبدارتحقیقات کا مطالبہ

 سری نگر//کولگام میں ایک رہبرتعلیم ٹیچر کے جواں سال بیٹے کی خودکشی کے تناظر میں ٹیچروںنے بدھ کے روز پریس کالونی سری نگرمیں پُرامن احتجاج کیا ۔اس موقعہ پر احتجاج میں شامل ٹیچرس فورم اورایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر محمدرفیق راتھر نے کولگام خودکشی واقعے کوچشم کشا قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاکہ تمام ٹیچروںکی واجب الاداتنخواہوں کوبلاتاخیر واگزارکیا جائے ۔کے این ایس کے مطابق بدھ کے روز جموں وکشمیر ٹیچرس فورم اورایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام پریس کالونی سری نگرمیں ایک پُرامن احتجاجی دھرنا دیاگیا ،جسکی قیادت EJACکے صدر محمدرفیق راتھر اورسینئرنائب صدر شبیراحمدلنگو نے کی جبکہ اس خاموش وپُرامن احتجاج میں درجنوں ناراض اساتذہ بھی شامل تھے ۔احتجاج میں شامل ٹیچروں اورملازم لیڈروںنے ہاتھوں میں پلے کارڈس اُٹھا رکھے تھے ،جن پرلکھاتھا’’ہم کولگام میں ایک ٹیچر کے بیٹے کی خودکشی کے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کامطالبہ کرتے ہیں،ہماری تنخواہوں کو واگزار کرئو ، ہمارے بچوں کوخودکشی کرنے پرمجبور مت کرئو‘‘۔اس موقعہ پر EJACکے صدر محمدرفیق راتھر نے کہاکہ منفی رپورٹ کی بناء پر149ٹیچروں کی تنخواہیں روکی گئی ہیں ۔انہوںنے ساتھ ہی کہاکہ 65ایسے ٹیچروں کی تنخواہوں کوملی ٹنسی سے جڑے کیسوںکی بناء پرتنخواہوں سے محروم رکھاگیاہے ۔محمدرفیق راتھر کے بقول سی آئی ڈی اوردیگرسیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے کلیئرنس دیئے جانے کے باجوودٹیچروں کی تنخواہوں کوروکے رکھاگیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ٹیچروں کی تنخواہوں کوروک کررکھے جانے سے متعلق کوئی معقول آرڈر بھی نہیں ہے۔ EJACکے صدر محمدرفیق راتھر اورسینئرنائب صدر شبیراحمدلنگو نے مطالبہ کیاکہ حکومت کوکولگام میں ایک ٹیچر کے نوجوان بیٹے کی خودکشی کے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہئے ۔انہوں نے تمام ٹیچروں کی واجب الاداتنخواہوں کوواگزاراوربرطرف شدہ ٹیچروں کے حق میں منتقلی کے احکامات جاری کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے خبردارکیاکہ اگر حکومت نے 7روز کے اندراس حوالے سے سنجیدہ اورفوری اقدامات نہ اُٹھائے توہزاروں اساتذہ اورٹیچر شانہ بشانہ نکل کر بھرپوراحتجاج کریں گے اوراسکی ذمہ داری ارباب حل وعقد پرعائد ہوگی ۔