کورے کاغذ پر دستخط لئے گئے

 سرینگر //فریڈم پارٹی نے کہا ہے کہ دہلی میں شبیر احمد شاہ کو عدلیہ کی کارروائی کے دوران جے ماتا کی بولنے کیلئے کہا گیا۔ترجمان نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوری کے وکیل نے انہیں عدلیہ میں ''  بھارت ماتا کی جے''کہنے کے لئے کہا جسے شبیر احمد شاہ نے صریحاََ انکار کرتے ہوئے رد کیا ۔ترجمان کے مطابق ایک طرف جہاں وکیل نے اسے'' بھارت ماتا کی جے'' کہنے کی تاکید کی البتہ عدالت میں موجود جج نے کورٹ روم کو نیوز سٹیڈیو بنانے سے منع کیا ۔درین اثناء شبیر شاہ کو  مزید چھ دنوں کی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق عدلیہ میں سیاسی دائو پیچ کھیل کر حصول انصاف میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں اور ایسا پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت اور عدلیہ کے جج کے ساتھ طے کرکے کیا جارہا ہے ۔ ترجمان نے عدلیہ کے جانبدارانہ رویہ پر انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہ موصوف جج نے تین یا چار دن کے بجائے ایک ساتھ وکیل کے کہنے پر چھ دنوں کی مدت بڑھادی اور یوں جانبدارانہ رویہ کا مظاہرہ کیا ۔اس دوران شبیر شاہ نے حکام کے خلاف غیر انسانی رویہ پر ایک درخواست دائر کی اور کہا کہ ای ڈی کی جانب سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اور کہا کہ ان سے خالی کاغذات پر دستخ حاصل کئے گئے ۔ترجمان کے بیان کے مطابق اس دوران عدلیہ کے جج  اپنے کمرے میں گئے اور اطلاع دہندہ کے ذریعے کہلوایا کہ ان کے ریمانڈ میں چھ دن کی توسیع کی گئی ہے ۔