کورٹ آف انکوائری اعلانات: ماضی میں ہوئے 10واقعات ہنوز صیغہ راز

سرینگر// فوج کی طرف سے میجر لتل گگوئے کے خلاف کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کرنا پہلا واقع نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی وادی میں رونما ہونے والے10بڑے واقعات کی کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا گیاتاہم ان کیسوں کا تعاقب کرنے والے بشری حقوق کارکن اور وکلاء کسی اہلکار کو سزا دینے یا نہ دینے سے متعلق لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔بشری حقوق کارکنوں اور وکلاء کا ماننا ہے ’’ کورٹ آف انکوائری بھی ہوئی،تاہم اس دوران کسی ملوث اہلکار کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا یا انہیں اس بات کے ثبوت نہیں ملتے‘‘۔ان کیسوں میں کچھ ایسے بڑے واقعات بھی ہیں،جودہائیاں گزرنے کے باوجود نا قابل فراموش ہیں۔ذرائع کے مطابق ان کیسوں میں20جنوری1990کو گائو کدل کا قتل عام بھی ہے،جس میں فورسز کی گولیوں سے 53شہری لقمہ اجل بن گئے،جس میں کورٹ آف انکوئری کا اعلان کیا گیا،تاہم کسی اہلکار کو سزا دی گئی یا نہیں کسی کو بھی معلوم نہیں۔اسی طرح سوپورمیں 6جنوری1993کو خون کی ہولی کھیلی گئی ۔ بی ایس ایف نے کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا،تاہم بشری حقوق کارکنوں کے مطابق اس واقع میں بھی کسی اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔شمالی کشمیر کے ہندوارہ میں2مرتبہ زمین کو انسانی لہو سے لالہ زار کیا گیا،جس کے دوران25جنوری1990کو25 شہری اور یکم اکتوبر1990کو17 شہریوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔سرحدی حفاظتی فورس نے ان واقعات کی کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا گیالیکن کسی بھی اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔سرینگر کے حول میں21مئی1990کو میرواعظ مولوی محمد فاروق کے جنازہ پر سی آر پی ایف اہلکاروں نے فائرنگ کی،جس میں 70کے قریب شہری لقمہ اجل بن گئے۔ سی آر پی ایف نے کورٹ آف انکوئری کا اعلان کیااور کئی افسران سمیت15اہلکاروں کو ملوث پایا گیا۔ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کی تحقیقاتی ونگ کے مطابق جانچ کے دوران سی آر پی ایف ہیڈ کواٹر سے کورٹ آف انکوائری کی کاپی طلب کی گئی کہ ملوث اہلکاروں کو سزا دی گئی یا نہیں،تاہم اس سلسلے میں نیم فوجی دستوں کی کمان نے توانہیں فی الوقت تک وہ کاپی پیش نہیں کی۔بشری حقوق کارکنوں کے مطابق8مئی1991کو خانیار میں بھی خونین واقعہ پیش آیا،جس میں21شہریوں کومارا گیا۔ بجبہاڈہ میں22اکتوبر1993میں52شہری فائرنگ کے دوران لقمہ اجل بن گئے،تاہم ان واقعات کی کورٹ آف انکوائری کے دوران کی گئی کاروائی کو بھی صیغہ رازہی رکھا گیا۔6 اگست1990کو سرینگر کے مشعلی محلہ میں9معصوم بے گناہوں کو گولیاں مار کرلقمہ اجل بنادیا گیا۔سرحدی حفاظتی فورس نے کورٹ آف انکوائری کے دوران جے کے شرما کو’’اپنے ماتحت اہلکاروں پر موثر کمان اور قابو میں ڈھیلی پکڑ کی وجہ سے بے قابو فائرنگ سے شہریوں کی ہلاکت‘‘ کیلئے ذمہ دار ٹھہرایاجو دیگر الزمات کورٹ آف انکوئری کے دوران عائد کئے گئے وہ قتل کے حوالے سے نہیں بلکہ سخت زخمی کرنے کے حوالے سے تھا۔شرما کو خواتین کی عزت پر حملہ کرنے کے حوالے سے بھی عائد کئے گئے۔کورٹ آف انکوائری کے دوران حدی حفاظتی فورس کے دیگر3اہلکاروں پر بھی اسی طرح کے الزامات عائد کئے گئے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے علاوہ دیگر جن اہلکاروں کو ملزم قرار دیا گیا،اُن میں ڈپٹی کمانڈنٹ آر پی بوکل،ہید کانسٹبل گجن سنگھ اور کانسٹبل اتم سنگھ شامل ہیں۔ابتدائی طور پر چاروں کو معطل کیا گیا اور بعد میں معمول کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی۔ ڈی آئی جی شرما کے خلاف کورٹ مارشل کا اعلان کیا گیا،تاہم کوئی نہیں جانتا کہ اس کیس کی ہئیت اب کیا ہے۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً ہر ایک خونین واقع کے خلاف کمیشن میں عرضی دائر کی،جس میں تحقیقات کے دوران یہ بات تو سامنے آئی کہ کورٹ آف انکوائری کے دوران اگرچہ ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی،تاہم کوئی بھی نہیں جانتا کہ ملوث اہلکاروں کو سزا دی گئی یا نہیں۔معروف قانون دان ایڈوکیٹ میر شفقت کا کہنا ہے کہ3دہائیوں پر محیط ان کے کیرئر میں ایسا کوئی بھی کیس نہیں گزرا جس میں کسی اہلکار کو سزا دی گئی ہو۔