کورونا کے سامنے پھر ایک بار بے بسی

 اردو کے شہرہ آفاق شاعر مرزا غالب نے برسوں پہلے یہ شعر کہا تھا کہ "اُ لٹی ہو گئیں سب تد بیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا "۔ ہمارے ملک کی موجودہ سنگین صورت حال اس شعر کی پوری عکاسی کر تی ہے۔ کورونا کے قہر نے جو تباہی مچا رکھی ہے اسے ہم اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہندوستان میں پہلی مرتبہ جمعہ (22؍ اپریل ) کو صرف ایک دن میں کویڈ۔19سے مرنے والوں کی تعداد 2104رہی۔ جب کہ 3.14لاکھ کو یڈ کے نئے کیس ریکارڈ کئے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس عالمی وباء نے پورے ہندوستان کو بھیانک انداز میں اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ملک کے سب ہی علاقوں میں کورونا نے اپنے پنجے گاڑ دئے ہیں۔کورونا کے تانڈو نے انسانیت کو پھر ایک مرتبہ سسکنے پرمجبور کر دیا ہے۔ ایک طرف کویڈ مریضوں کی تعداد میں دن بہ دن بے تحا شا اضافہ ہو تا جا رہا ہے اور دوسری طرف طبی سہولتوں کا فقدان ہر طرف دیکھا جا رہا ہے۔
 گزشتہ سال ان ہی دنوں میں کورونا کے پھیلنے کے نتیجہ میں وزیر اعظم نریندرمودی نے سارے ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا تھا۔ اس سے ملک میں جو افرا تفری پھیلی تھی کم و پیش وہی صورت حال اس وقت نظر آرہی ہے۔ افسوس اور المیہ اس بات کا ہے کہ حکومت نے اس ایک سال کے دوران اس وباء پر قابو پانے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ ایک سال کے گذرنے کے بعد بھی میڈیکل انفرا اسٹرکچر میں اضافہ کے بارے میں حکومت نے کسی سنجیدگی کا ثبوت نہیں دیا۔ اب بھی ہسپتالوں میں بستر دستیاب نہیں ہیں۔ آکسیجن سلینڈر نہ ملنے سے کئی اموات ہو رہی ہیں۔ کورونا سے بچاؤ کے لئے دئے جانے والے ویکسین مرکزی حکومت فراہم کر نے میں ناکام ہو گئی ہے۔ کئی ریاستی حکومتیں شکایت کر رہی ہیں کہ ضرورت کے مطابق ان کو انجکشن اور دیگر ادویات مرکزی حکومت سر براہ نہیں کررہی ہے۔ اس خطرناک بیماری سے تما م باشندوں کو چھٹکارا دلانے کے لئے ہر عمر کے لوگوں کو ویکسین لینے کے انتظامات حکومت کو کر نا چا ہئے تھا۔ لیکن پہلے کہا گیا کہ 60سے زیادہ عمر والوں کو ہی یہ ویکسین دیا جائے گا۔ جب نوجوان کویڈ کا شکار ہونے لگے تب حکومت نے اعلان کیا کہ 45سال کے عمر والوںیہ سہولت رہے گی۔ اب جب کہ کویڈ۔19 نے بچوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے اب حکومت کو ہوش آیا ہے اور کہا جا رہا کہ یکم؍ مئی سے 18 سال کے بچوں کو بھی یہ ٹیکہ دیا جائے گا۔ ایک طرف حکومت کے یہ دعوے ہیں اور دوسری اعداد و شمار بتا تے ہیں کہ ویکسین دینے کے معاملے ہندوستان ، دنیا کے دیگر ممالک سے کس قدر پیچھے ہے۔ تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ 136کروڑ کی ملک کی آبادی میں صرف اوسطا ایک کروڑ لوگ ویکسین کے دو خوراک لے سکے ہیں۔ اس طرح محض 8%ملک کی آ بادی ویکسین لی ہے۔ بقیہ 92%آبادی ابھی بھی قدرت کے بھروسہ پر جی رہی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کو سامنے رکھ کر ہندوستان کا جائزہ لیا جائے تو یہ تلخ حقیقت بھی آشکارہ ہوتی ہے کہ ویکسین دینے کے معاملے ہندوستان دیگر ممالک سے کا فی پیچھے ہے۔ اسرائیل جیسا چھوٹا ملک آج کی تاریخ تک اپنی جملہ آبادی کے 61.8%لوگوں کو ویکسین دے چکا ہے۔ بھوٹان ، جو ہندوستان کے مقابلے میں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتااپنے ملک کی 62%آبادی کو کویڈ سے محفوظ رکھنے کے لئے ویکسین دینے میں کامیاب ہو گیا۔ جب کہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں یہ سمجھا جا تا ہے کہ ہندوستان جیسی طبی سہولتیں ہر عام آدمی کو وہاںد ستیاب نہیں ہوں گی۔
 اور تو اور مراکش جیسے سائنس و ٹکنالوجی سے تہی دست ملک سے بھی ویکسین دینے کے معاملے میں ہندوستان بازی ہار گیا۔ مراکش کی 12.6%آبادی ویکسین لی چکی ہے ۔ اگر چہ یہ فیصد قابلِ اطمینان نہیں ہے لیکن بحرحال ہندوستان سے بہتر ہے جہاں اب تک صرف آٹھ فیصد آبادی کو ویکسین دیا جا سکا۔ یہ اعداد و شمار محض خیال و گمان کی بنیادپرمرکزی حکومت کو بدنام کر نے کی نیت سے نہیں تحریر کئے گئے ہیں بلکہ ملک کے سائنس دانوںاور دانشوروں کی جانب سے جو تجزیے سامنے آ ئے ہیں وہ اس کی ترجمانی کر تے ہیں۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ ملک کی کئی ریاستیں جو کورونا کے بد ترین دور سے گذر رہی ہیں وہاں ویکسین کی قلت پائی جا رہی ہے۔ ملک کے کئی ویکسین سنٹرس بند کر دئے گئے ہیں ۔ خاص طور پر مہاراشٹرا کی صورت حال دن بہ دن قابو سے با ہر ہوتی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت سے بار بار اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ ویکسین اور آ کسیجن فراہم کرے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا کہ وزیراعظم نریندرمودی، مہاراشٹرا کے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے سے مبینہ طور پر سیاسی انتقام لے رہے ہیں۔ خود وزیراعظم کی آ بائی ریاست گجرات میں اس وقت کورونا نے جو تباہی مچا رکھی ہے اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ شہریوں کی جان کے تحفظ کے بارے میں حکمرانوں کا رویہ کتنا غیر انسانی ہوتا جا رہا ہے۔قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں میں اب جگہ نہیں مل رہی ہے۔ نعشوں کو جلانے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ جو لوگ کورونا سے متاثر ہوکر دواخانوں کا رخ کر رہے ہیں ان کا کوئی پر سان حال نہیں ہے۔ جو لوگ مرگئے ہیں ان کی آ خری رسومات ادا نہیں ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر شیخ ابراہیم ذوق کا وہ مشہورِ زمانہ شعر یاد آ تا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ؎  
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
 مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جا ئیں گے
اس وقت ایسی ہی صورت حال سے ہمارے ملک کی عوام گذ رہی ہے۔ جو لوگ زندہ ہیں ، ان کی زندگیوں سے ساری رعنائیاں ختم ہو گئیں ہیں۔ موت کے بڑھتے ہوئے سائے نے ہر شخص کے چہرے سے خوشی اور مسرت کو چھین لیا ہے۔ مایوسی اور خوف نے اچھے اچھوں کے دل و دماغ کو ماؤف کر کے رکھ دیا ہے۔ کسی کو سجھائی نہیں دے رہا ہے کہ آخر اس جان لیوا بیماری کا علاج کیا ہے۔ اس کا خا تمہ ہو گا بھی یا نہیں ؟ کہیں یہ وباء ساری انسانیت کو بھسم کر کے نہ رکھ دے۔ سالِ گزشتہ جب اس وباء نے ہمارے ملک میں اپنے پیر پھیلانے شروع کئے تھے  حکومت نے دعویٰ کیاتھا کہ ہندوستان اس وباء پر قابو پالے گا اور اس سے گھبرانے اور پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ایک سال کے اندر دیکھتے ہی دیکھتے حالات اس قدر بے قابو ہو گئے کہ ہم نے دنیا کے دیگر ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس وقت ہندوستان کورونا سے متاثر ممالک میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ برازیل کو بھی ہم نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اور بھی کئی ممالک کورونا بحران پر بہتر انداز میں قابو پاچکے ہیں۔
یہ محاورہ مشہور ہے کہ بُری مثالیں بعض وقت اچھے انتباہ کی علامت بن جا تی ہیں۔ گزشتہ سال کورونا نے ملک کو جس بحران سے دوچار کر دیا تھا۔ اور جس کے نتیجہ میں اموات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس سال جب کورونا کی دوسری لہر نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا تو قوم امید کر رہی تھی کہ حکومت سابق کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اس وباء کو کنٹرول کر نے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن ایک سال کے بعد بھی صورتِ حال جوں کی توں دیکھی جا رہی ہے۔ مارچ۔ اپریل 2020میں جب کہ کویڈ۔ 19 اپنی انتہا پر تھا اور ہر طرف موت رقص کر رہی تھی۔ ہا سپٹل کویڈ مریضوں سے بھر چکے تھے۔ ایک دن میں کئی کئی اموات ہو رہی تھیں۔ ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ مزدور طبقہ فاقہ کشی کا شکار ہو چکا تھا۔ لاکھوں مہاجر محنت کش افراد بھوکے پیاسے سٹرکوں پر پیدل چلنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ ان میں سے کئی راستے میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ایک سال بعد کویڈ کی اس دوسری لہر نے ملک میں پھر ایسے ہی حالات پیدا کر دئے ہیں۔ منگل کی رات قوم سے خطاب کر تے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کویڈ سے نمٹنے میں لاک ڈاؤن آ خری متبادل ہو گا۔ ان کے اس اعلان سے مائیگرینٹ ورکرس کو کچھ راحت ملی ہے۔ اب انہیں اچانک اپنا روزگار چھوڑ کر اپنے وطن جانے کی فی الوقت ضرورت نہیں ہے۔ لیکن کورونا جس انداز میں پھیل رہا ہے ایسے میں کیا روزگا ر کے ذرائع با قی رہ سکتے ہیں۔ایک سال سے اسکول اور کالج بند پڑے ہیں۔ پورے تعلیمی سال میں بچے ایک دن بھی اسکول نہیں جا سکے۔
 ایسا محسوس ہوتا کہ مرکزی حکومت نے کورونا کی گزشتہ سال کی قہر سامانی سے کو ئی سبق نہیں لیا۔ 2020کے بھیانک حالا ت کو سامنے رکھتے ہوئے منصو بہ بندی کی جا تی تو آج ہندوستان میں ایک دن میں دوہزار سے زیادہ لوگوں کی جانیں نہ جا تیں۔ گزشتہ سال جو احتیا طی اقدامات حکو مت کو کر نا چاہئے تھے وہ نہیں کئے گئے اور اب بھی اس معاملے میںکوتاہی بر تی جا رہی ہے۔ وزیراعظم سمیت سارے وزراء پانچ ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن میں اس قدر مصروف رہے کہ انہیں کورونا شاید یاد بھی نہ رہا ہو۔ ایک ایسے وقت جب کہ عام شہری کی جان کے لالے پڑے ہیں مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کو اقتدار سے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے اس پر وزیراعظم اپنی نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ یہ وقت تو ملک کی ساری اپوزیشن پارٹیوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے کام کر نے کا ہے۔ لیکن بی جے پی کے قائدین بحران کے اس دور میں بھی اپنی سیاسی بازی گری میں لگے ہوئے ہیں۔ دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قائدین کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی ہے۔ کورونا کو بھی مذہبی رنگ دے دیا گیا۔ گز شتہ سال تبلیغی جماعت کو کورونا کے لئے مورد الزم ٹہراتے ہوئے بے تُکی باتیں پھیلائی گئیں لیکن اس سال کمبھ میلہ میں جو لاکھوں لوگ جمع ہوئے اور ان میں کئی ہزار کورونا سے متاثر بھی ہوئے اس پر کسی نے کوئی لب کُشائی نہیں کی۔ایک ایسے وقت جب کی سارا ملک اس مہاماری میں مارا جا رہا ہے لاکھوں افراد کو انتظامیہ نے گنگا میں ڈبکی لگانے کی اجازت کیسے دی۔ یہ سارے کویڈ سے متاثرہ لوگ جب اپنے وطن واپس ہو ئے ہیں تو کیا وہاں ان کی وجہ سے کورونا نہیں پھیلا۔ حکومتوں کا یہی دوہرا پن آزمائشوں اورمصیبتوںکو دعوت دیتا ہے۔ ملک کو مزید تباہی سے بچانے اور شہریوں کی جان کی حفاظت کے حکومت سیاست کے اوچھے حربے آزمانے کے بجائے ٹھوس اقدامات کر ے۔ جمہوریت میں جو حکومت اپنی عوام کی جان کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ حکومت کر نے کے اختیار سے محروم ہو جاتی ہے۔