’کورونا کرفیو‘ کا ایک ماہ مکمل

سرینگر// جموں کشمیر میں کورونا کرفیو کا ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے۔اس دوران چوتھے ہفتہ بھی جامع مسجد سرینگر اور درگاہ حضرت بل سمیت جموں کشمیر کی بڑی مساجد، خانقاہوں اور امام باڑوں  کے مینار و محراب خاموش رہے۔ پولیس نے کورونا ضوابط کے مرتکبین سے ایک لاکھ23ہزار کے قریب جرمانہ وصول کیا جبکہ92کیسوں کا اندراج بھی کیا گیا۔جموں کشمیر میں29اپریل کو لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے کورونا کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا تھا، جو ابھی جاری ہے۔پچھلے ایک ماہ سے وادی میں بالخصوص سخت ترین بندشیں عائد رہیں حتیٰ کہ عید سے قبل اور اسکے بعد بھی ان میں کوئی نرمی نہیں برتی گئی۔اسکے مقابلے میں جموں شہر میں ہر روز صبح 4گھنٹے کی ڈھیل دینے کا سلسلہ جاری ہے۔جموں کشمیر میں بحیثیت مجموعی کورونا کرفیو کے دوران سبھی کاروباری و تجارتی ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیاں، سکول ، کالجز، یونیورسٹیاں، کوچنگ مراکز، ہر طرح کی دیگر کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں البتہ نجی ٹرانسپورٹ کو چلنے کی محدود اجازت دی جارہی ہے۔بانہال بارہمولہ ٹرین سروس بند ہے اور لکھنپور میں ہر آنے والے کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔وادی کے ہر علاقے میں شہر سرینگر سمیت سبھی قصبوں میں ناکہ بندی کی گئی ہے اور سبھی روڑ بند کئے گئے ہیں۔ شہر سے دیگر قصبوں تک کسی بھی طرح کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔سخت ترین بندشوں کے نتیجے میں وادی میں کورونا کیسوں اور اموات میں کمی آگئی ہے۔