کورونا وبا ءسے تعلیم و تربیت اثر انداز

واشنگٹن //کورونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم و تربیت کو توقع سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بھی لاکھوں بچے اسکولوں میں جانے سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسے بچوں کا تناسب تقریباً 70 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جو 10سال کی عمر تک سادہ متن کو پڑھنے اور سمجھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ عالمی بینک کے مطابق بند اسکولوں سے متاثر ہونے والے بچوں کے باعث دنیا کو مستقبل میں 17ارب یورو کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔خبررساں اداروں کے مطابق ملیریا کے خلاف جنگ کو کورونا وبا کی وجہ سے شدید دھچکا لگا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 2020 ء میں مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری سے تقریباً 6لاکھ 27ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2019ء کے مقابلے میں یہ تعداد 70ہزار زائد بنتی ہے۔ دو تہائی اضافی اموات وبائی امراض سے متعلق روک تھام، تشخیص اور علاج میں خرابیوں کی وجہ سے ہوئیں۔ دوسری جانب دنیا بھر میں کورونا کی ایک اور لہر کا سلسلہ جاری ہے۔ نیوزی لینڈ میں 24گھنٹے کے دوران کورونا وائرس کے 98 نئے کیس رپورٹ ہوئے ، جس سے وہاں جان لیوا وبا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 9ہزار 266ہو گئی ہے۔ادھر فرانس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلاکت خیز کورونا وائرس کے 59,019 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو نومبر 2020 کے بعد سے یومیہ کیسز کی ریکارڈ تعداد ہے ۔فرانسیسی وزارت صحت سے منسلک فرانسیسی پبلک ہیلتھ ایجنسی کے مطابق اسی عرصے میں 168 مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ نئے کیسز کے ساتھ متاثرین کی مجموعی تعداد 80 لاکھ 94 ہزار 445 ہو گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اس بیماری سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار 891 ہو گئی ہے ۔فرانس کی حکومت نے ملک میں کورونا کی نئی لہر کو روکنے کے لیے نئے اقدامات کے تحت نائٹ کلبوں کو چار ہفتوں کے لیے بند کرنے ،اسکولوں میں فیس ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دینے اور بچوں کے لیے ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔