کورونا وباء کی لہر جاری| 6253مثبت،7اموات

سرینگر //جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے مسلسل دوسرے دن بھی7 افراد کی جان گئی ۔ اس طرح مہلوکین کی مجموعی تعداد 4605ہوگئی ہے۔ اس دوران پچھلے 24گھنٹوں میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 74ہزار 785ٹیسٹ کئے گئے جن میں 106سفر کرنے والوں سمیت مزید 6253افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 97ہزار 202ہوگئی ہے۔ اتوار کو مزید 6253افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں جن میں جموں میں 1754جبکہ کشمیر میں 4499افراد مثبت پائے گئے۔ 4499افراد میں 30بیرون ریاستوں کا سفر کرکے کشمیر پہنچے جبکہ دیگر 4469افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ سرینگر میں 1464، بارہمولہ میں 564، بڈگام میں 590، پلوامہ میں 150، کپوارہ میں 344، اننت ناگ میں 578، بانڈی پورہ میں 261، گاندربل میں 320، کولگام میں 174جبکہ شوپیان میں 54افراد متاثر ہوئے ہیں۔ وادی میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 50ہزار کا ہندسہ پار کرکے 2لاکھ 51 ہزار 249ہوگئی ہے۔ مزید 4افراد کورونا وائرس سے فوت ہوگئے ۔ مرنے والوں میں ایک بارہمولہ، 2بڈگام جبکہ ایک کپوارہ سے تعلق رکھتا ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 2356ہوگئی ہے۔ جموں صوبے میں کورونا وائرس سے مزید 1754افراد متاثر ہوئے ، جن میں 76بیرون ریاستوں سے سفر کرکے جموں پہنچے جبکہ دیگر 1678مقامی سطح پررابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ۔  1754افراد میں سے جموں میں 1075، ادھمپور میں 114، راجوری میں 35، ڈوڈہ میں 140، کٹھوعہ میں 83، سانبہ میں 47، کشتواڑ میں 26، پونچھ میں 10، رام بن میں 176 جبکہ ریاسی میں 48افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں ۔  متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ45ہزار 953تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران مزید 3افراد فوت ہوگئے۔ مرنے والوں میں 2ضلع جموں جبکہ ایک کٹھوعہ سے تعلق رکھتا ہے۔ صوبے میں متوفین کی تعداد 2249ہوگئی ہے۔ 
 
 

اومیکرون سماجی پھیلائو کے مرحلے میں داخل

متاثرین کی لہر آنے والے 14روز میں عروج پر ہوگی

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی //ہندوستان میں کورونا وائرس کے نیا ویرینٹ اومیکرون سماجی پھیلائو میں داخل ہوگیا ہے اور ملک میں انفیکشن کی تیسری لہر آنے والے پندرہ دنوں میں اپنے عروج پر پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ جانکاری انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس کے ابتدائی تجزیے میں دی گئی ہے۔ آئی آئی ٹی مدراس کے ذریعہ 'پی ٹی آئی بھاشا' کے ساتھ شیئر کئے گئے تجزیہ کے مطابق 14 جنوری سے 21 جنوری کے درمیان آر ویلیو 1.57 درج کی گئی ، جو سات سے 13 جنوری کے درمیان 2.2 ، ایک سے 6 جنوری کے درمیان چار اور 25 دسمبر سے 31 دسمبر کے درمیان 2.9 تھی۔آئی آئی ٹی مدراس کے شعبہ ریاضی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جینت جھا نے بتایا کہ ممبئی اور کولکاتہ کی آر ویلیوز بتاتی ہیں کہ وہاں وبا کا پیک ختم ہو گیا ہے، جب کہ دہلی اور چنئی میں یہ اب بھی ایک کے قریب ہے۔انہوں نے کو بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آئی سی ایم آر کے نئے رہنما خطوط کے مطابق متاثرین کے ساتھ رابطے میں آنے والے لوگوں کا سراغ لگانے کی لازمیت کو ختم کر دیا گیا ہے اور اس لئے پہلے کے مقابلہ میں انفیکشن کے کم کیسز رپورٹ کئے جا رہے ہیں۔جھا نے بتایا کہ ان کے تجزیہ کے مطابق اگلے 14 دنوں میں 6 فروری تک کورونا وائرس کا پیک آجائے گا۔ اس سے پہلے یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ یکم فروری سے 15 فروری کے درمیان تیسری لہر پیک پر ہوگی۔اس دوران گذشتہ 24گھنٹوں میں سنیچرکی شام تک مرکز ی وزارت صحت کی جانب سے جاری اعدادوشمار کیمطابق ملک میں کورونا  وائرس کے مزید3لاکھ33ہزار533نئے کیسزسامنے آئے جبکہ اسدوران525ہلاکتیں ہوئیں۔ ادھر 27ریاستوں میںاومیکرون کیسز کی کم ہو کر8209 رہ گئی ہے۔