کورونا وباء اور تعلیمی بحران

 کورونا وائرس ایک ناگہانی بلا کی صورت میںدنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس بلائے ناگہانی کا سامنا کرنا تو کجا اس سے بچائوکا متحمل نہیں ہے۔مسلسل دوسرے سال کورونا کے پھیلائو کا سب سے بڑا خطرہ سکولوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں پرمنڈلاتے دیکھ کر انہیں فوراً بند کردیا گیا جس کی وجہ سے روایتی طریقہ تعلیم اب اس سال بھی تقریباً چار ماہ سے تقریباً منقطع ہوچکا ہے ۔ جو غیر یقینی صورتحال پہلے تھی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرور بن گئے ہیں کہ ان حالات میں بھی کسی نہ کسی طرح اپنے مسائل کا حل نکال ہی لیتے ہیں۔ تاہم اس بار صورتحال کچھ مختلف ہے کیونکہ یہ حالات ہمارے نظامِ تعلیم کیلئے آزمائش بن کر آئے ہیں ۔ایک وقت تھا جب معاشر ے میں روایتی تعلیم کو اہمیت دی جاتی تھی لیکن آج اس عالمی وبا کے پھیلنے کی وجہ سے آن لائن تعلیمی نظام کو اہمیت دی جارہی ہے تاکہ طلبہ کے تعلیمی کیریئر کومزید کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔اب آن لائن تعلیمی نظام سے سکولوں سے لیکریونیورسٹی سطح تک طالب علم مستفید ہورہے ہیں ۔یہ کہنے کی قطعی ضرورت نہیں رہی کہ کووڈ19 نے صدیوں پرانے ’چاک اور ڈسٹر‘ کے ماڈل کو یک لخت ٹیکنالوجی سے مربوط نظام تعلیم میں تبدیل کردیا ہے۔ اساتذہ کو بہت کم وقت میں حقیقی کلاس رومز سے ورچوئل کلاس رومز کی طرف جانے پر مجبور ہونا پڑا لیکن ان حالات میں کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہرحال بہت بہتر ہے کیونکہ طلبہ کا وقت نہایت قیمتی ہوتا ہے۔موجودہ صورتحال نے ہمیں اس بات کا احساس دلایا ہے کہ اب ہمیں ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق اپنے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ وہ اسکول جو ڈیجیٹل کشتی میں سوار نہیں ہوسکے تھے وہ آج پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ انہیں بچوں کے تعلیمی تسلسل کو جاری رکھنے کے متبادل طریقوں کو ترتیب دینے میں خاصی مشکل پیش آرہی ہے۔آن لائن کلاسز کا تجربہ جموں کشمیر میں بالکل نیا ہے۔ یہ کتنا سود مند ہے ،اس کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس کے ذریعہ اساتذہ اور اسکول اپنے طلبہ و طالبات کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اوسط ذہن رکھنے والے بچے تو صرف اپنی حاضری درج کرنے کے لئے آن لائن کلاسز میں شرکت کر رہے ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ آن لائن کلاسز کے درمیان بچوں کے سوالات بہت کم آتے ہیں۔ کبھی کسی بچے کی انٹرنیٹ اسپیڈ کم ہوتی ہے تو کبھی استاد کی آواز بچوں تک ٹھیک سے نہیں پہنچ پاتی اور اس دورانیہ میں کافی وقت برباد ہوتا ہے۔ کئی کئی گھنٹے موبائل کے سامنے وقت گزارنے کی وجہ سے بچوں پر شدید ذہنی دباؤ بن رہا ہے۔عالمی ادارہ یونیسف(UNICEF)کے مطابق ’کووڈ-19کے زیر اثر لاکھوں بچوں کی زندگی عارضی طور پر صرف اپنے گھروں اور اسکرینوں تک سکڑکر رہ گئی ہے‘۔ جو بچے آن لائن کلاسز نہیں لے پا رہے ہیں ان کے ذہنوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور وہ احساس کمتری کا شکار ہورہے ہیں۔یونیسف کے مطابق آن لائن تعلیم کم عمر طلبہ کے لئے خطرات اور اندیشوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔نوخیز طلبہ کا انٹرنیٹ سے تعامل (Internet Exposure)مختلف قسم کے استحصال کا سبب بن سکتا ہے۔ تنظیم نے حکومتوں، اسکولوں اور والدین کوان مسائل سے نبردآزماہونے کیلئے متعدد سفارشیںپیش کی ہیں۔ یونیسف نے حکومتوں سے کہا ہے کہ بچوں کی حفاظت سے متعلق بنیادی خدمات کو یقینی بنائیں تاکہ اس وبائی دور میں بھی بچے خود کو آزاد اور متحرک رکھ سکیںجبکہ والدین سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ بچوں کی ڈیوائسز(Devices) جدید ترین سافٹ ویئر اپڈیٹس اور اینٹی وائرس پروگرام سے لازمی طور پر لیس ہوں۔  موجودہ حالات میں آن لائن نظامِ تعلیم کے ساتھ کسی کو انکار نہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن آن لائن تعلیم کے نقصانات سے بھی انکار کی گنجائش نہیںہے اور وقت نے ثابت کردیا ہے کہ آن لائن تعلیم کسی بھی طور روایتی تدریسی عمل کا نعم البدل نہیںہوسکتی ہے۔چونکہ حالات بتدریج بہتر ہورہے ہیں اور کئی ریاستوں میںمرحلہ وار بنیادوں پر تعلیمی ادارے کھلنا شروع ہوچکے ہیں تو ایسے میں اگرجموں کشمیر میں بھی سکول سماجی دوری، ماسک اور طاق و جفت جیسے ضابطوں کے ساتھ کھولے جائیں تو اس کے کیا نتائج سامنے آئیں گے، یہ کہنا مشکل ہے لیکن اب حکومت کو کوئی مضبوط قدم اٹھانا ہوگا ورنہ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال انتہائی خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔