کورونا وائرس| 7افراد لقمہ ٔ اجل، مہلوکین کی تعداد 694

 جموں و کشمیر میں مزید 7افراد کورونا وائرس سے فوت ہوگئے ۔ مہلوکین کی مجموعی تعدادبڑھکر 694ہوگئی۔ ان میں سے 57جموں جبکہ 637ہوگئی ہے۔ جمعہ کو 106سفر کرنے والوں سمیت 696کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد35831ہوگئی ہے جن میں سے 7968جموں جبکہ 27863کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔  تازہ 696متاثرین میں سے 194سرینگر، 40بارہمولہ،57پلوامہ،59بڈگام، 31اننت ناگ، 30 بانڈی پورہ، 25کپوارہ، 11کولگام، 9شوپیان، 38 گاندربل، 109 جموں، 8راجوری، 27کٹھوعہ، 23ادھمپور، 9سانبہ، 1رام بن، 6 ڈودہ، 8پونچھ، 5ریاسی اور6کشتواڑ سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

۔ 7اموات

 کشمیر میں جمعہ کو کورونا وائرس سے مزید 7افراد فوت ہوگئے۔ فوت ہونے والے 7افراد میں سے 2سرینگر، 2کولگام، 2 اننت ناگ اورایک بڈگام سے تعلق رکھتا ہے۔ محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’مہجور نگر سے تعلق رکھنے والا ایک 76سالہ شخص اورڈلگیٹ سے تعلق رکھنے والا ایک 64سالہ شخص کورونا وائرس سے فوت ہوگیا ہے‘‘۔مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا کہ فوت ہونے والے مریضوں میں ایک صدر اسپتال جبکہ ایک کی موت سی ڈی اسپتال میں واقع ہوگئی‘‘۔بڈگام میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’ ناربل بڈگام سے تعلق رکھنے والا ایک 65سالہ شخص  جمعہ کو صدر اسپتال سرینگر میں فوت ہوگیا ‘‘۔ کولگام میں تعینات محکمہ سحت کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ  اُرن ہال کولگام سے تعلق رکھنے والا 65سالہ شخص ایس ڈی ایچ بجبہاڑہ میں فوت ہوگیا جبکہ چھتری پورہ کولگام سے تعلق رکھنے والا ایک 74سالہ شخص گھر میں فوت ہوگیا لیکن بعد میں اسکی رپورٹ بھی مثبت آئیں۔ اننت ناگ  میں تعینات ایک سینئر افسر نے بتایا ’’ سالار اننت ناگ سے تعلق رکھنے والا 65سالہ شخص سکمز صورہ میں فوت ہوگیا جبکہ ماگام کوکر ناگ سے تعلق رکھنے والا ایک 60سالہ شخص  جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو  جی ایم سی اننت ناگ میں فوت ہوگیا ‘‘۔

حکومتی بیان

حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے35831معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے7781سرگرم معاملات ہیں ۔ اَب تک27372اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد678تک پہنچ گئی ،جن میں سے 621کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور57کاتعلق جموں صوبہ سے ہیں۔اِس دوران جمعہ کومزید651شفایاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے195اور کشمیر صوبے کے 456اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 929733ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  28؍اگست2020ء کی شام تک 893902نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اَب تک450979افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں44423اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔7781افراد کوآئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ42334اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق355763اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔

651صحتیاب

 جموں و کشمیر میں جمعہ کو مزید 651افراد صحت یاب ہونے کے بعد اپنے گھرروانہ ہوگئے اور اسطرح صحتیاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 27372 تک پہنچ گئی۔ جمعہ کو صحت یاب ہونے والے 651میں سے 153سرینگر، 78بارہمولہ، 43پلوامہ، 35بڈگام، 31اننت ناگ، 30بانڈی پورہ، 11کپوارہ، 17کولگام، 22 شوپیان، 36گاندربل، 38جموں، 2راجوری، 8کٹھوعہ، 19سانبہ,، ایک رام بن، 3پونچھ اور124ریاسی میں صحتیاب ہوئے ہیں۔ 
 
 

ماہرین کی دو رُکنی مرکزی ٹیم لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقی

کورونا کی بڑھتی تعداد پر فوری قابو پانے کے اقدامات تجویز

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //نیتی آیوگ رُکن ( صحت ) ڈاکٹر وی کے پال اور نیشنل سنٹر فار ڈزیز کنٹرول کے سربراہ ڈاکٹر ایس کے سنگھ پر مشتمل ماہرین کی دو رُکنی مرکزی ٹیم ،جو کشمیر کے دورے پر کووڈ 19 کی کلہم صورتحال کا جائیزہ لینے کیلئے آئی ہے ،نے راج بھون میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی ۔ دو رُکنی ٹیم نے کووڈکے سبب وادی میں پیدا شدہ صورتحال کاتمام ضلع ٹیموں اور ٹیر شری کئیر ہسپتالوں کے ساتھ مفصل جائیزہ لیا  ۔ انہوں نے جموں کشمیر حکومت کی ٹیسٹنگ لایحہ عمل ، مسافروں کی سکریننگ کو لازمی قرار دینا اور بنا علامت مثبت معاملات کیلئے گھروں میں ہی خیال رکھنے کے ماڈل کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں ٹیسٹنگ لائحہ عمل کافی فعال اور موثر ہے اور اسے یو ٹی میں اس بیماری کے مزید پھیلاؤ پر روک لگانے میں کافی مدد ملی ہے ۔ آنے والے موسمِ سرما اور جموں کشمیر کے چند اضلاع میں کووڈ 19 کے مثبت معاملات میں اضافہ کے پیش نظر ٹیم نے فوری نوعیت کے چند اقدامات تجویز کئے جن میں صوبائی سطح پر 24×7 کووڈ کونسلنگ کال سنٹروں کا قیام عمل میں لانا ، رابطوں کی تلاش میکنزم کو مستحکم بنانا اور تمام رابطوں کو کووڈ منفی ثابت ہونے تک گھریلو کورنٹین میں رکھنا ، شہروں میں صد فیصد آبادی کا ٹیسٹ کرکے بیماری پر روک لگانا ، ٹیر شری کئیر ہسپتالوں کو مریض کو بھیجنے کے نظام کو مستحکم بنانا ، کووڈ پر قابو پانے کیلئے کوششوں میں پنچائتی راج اداروں کے نمائندگان کو شامل کرنا ، تیز تر ٹیسٹنگ رحجان کو جاری رکھنا وغیرہ شامل ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مرکزی ٹیم کی جانب سے ان اہم تجاویز سے جموں کشمیر میں کووڈ 19 صورتحال پر موثر طور قابو پانے میں مدد ملے گی ۔لیفٹیننٹ گورنر نے اس وباء پر قابو پانے کیلئے جانکاری عام کرنے کے علاوہ  تمام دستیاب سہولیات کو اموات کی شرح کو کم کرنے کیلئے استعمال میں لانے پر زور دیا ۔ انہوں نے نگرانی اور ٹیسٹنگ بالخصوص ریڈ زون علاقوں میں سرعت لانے اور پنچائتی راج اداروں کے نمائندوں ، مذہبی رہنماؤں اور دیگر ممتاز شخصیات کو وباء کے خلاف جانکاری عام کرنے کیلئے اُن کی خدمات طلب کرنے کیلئے کہا ۔ انہوں نے یو ٹی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے جاری صحت پروٹوکول اور ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا رہنے پر بھی زور دیا ۔