کورونا وائرس مذاق نہیں

عالمی ادارئہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا اب ’نئے اور خطرناک‘ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم کے مطابق دنیا کی زیادہ آبادی اس کے خطرے سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے لوگ لاک ڈاؤن سے تھکنا شروع ہو گئے ہیں،  وائرس بھی تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔
عالمی حالات و واقعات کو دیکھا جائے اور اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو مستقبل کی تباہ کن تصویر ابھرتی ہے۔اِس وائرس نے تادمِ تحریر دنیا میں1.35کروڑلوگوں کو متاثر اور کم و بیش5.83لاکھ سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے جبکہ جموں کشمیر میںمہلوکین کی تعداد 222اور متاثرین کی مجموعی تعداد 12156پہنچ گئی۔ صورتحال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ محض جولائی کے 16دنوں میں 126افرادکورونا کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے۔
جموں کشمیر میں جہاں کورونا سے اموات اور نئے کیسز کی تعداد میں روز افزوںاضافہ ہورہا ہے تو وہیں لاک ڈاؤن کو پھر سے آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ایک بات تو طے ہے کہ لاک ڈاؤن ہی صرف کورونا وائرس کا آخری حل نہیں ہے لیکن اس طرز عمل سے ہم اس وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرسکتے ہیں۔حال ہی میں جب لاک ڈاؤن کے بعد بازار،دفاتراور سیاحتی مقامات کھلنے لگے تو رہنما خطوط (ایس او پیز) کی دھجیاں بکھیر دی گئیں ۔
ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عوام کسی صورت میںاحتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ خود ہی اندازہ لگا لیں جس وباء نے دنیا بھرمیں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو نگل لیا ہو، کروڑوں افراد متاثر ہوں، معمولات زندگی مفلوج ہوں، بڑی بڑی معیشتیں سکڑ گئی ہوں، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی سنسان ہوگیا ہو ،مسجد نبوی میں ہزاروں کی تعداد میں جہاں نمازی نماز ادا کرتے تھے وہاں آج مخصوص لوگ سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے نماز ادا کرتے ہوں لیکن ہم اب بھی اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کورونا کو صرف مذاق قرار دے رہے ہیں۔ اسے مذاق میں نہ لیں بلکہ اس کے بارے میں سنجیدہ رویہ اختیار کریں۔
دنیا بھر میں محققین اس وائرس کی ویکسین بنانے کیلئے محنت کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔یہ بات اب طے ہے کہ ہمیں اب کورونا کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگاجیسا کہ ماہرین صحت کہتے آرہے ہیںلیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جتنے لوگ کورونا وائرس سے آج تک دنیا میں مرے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ ہر روز مختلف بیماریوں میں مرتے ہیں۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دراصل کورونا کوئی خاص بیماری نہیںبلکہ میڈیا نے بلا وجہ ہائپ دے دی اور لوگوں نے اسے خود پہ سوار کر لیا ۔ یہ بات درست ہے کہ دنیا میں ہر روز مختلف بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے لیکن اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کورونا وائرس جان لیوا نہیںہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کی شکل میں انسانی زندگی کو درپیش خطرات میں ایک اور خطرے کا اضافہ ہو چکا ہے۔یہ وہ خطرہ ہے جس نے پوری دنیا کو مفلوج کر رکھا ہے۔ لہٰذا اسے ہنسی مذاق نہ سمجھیں، لوگ مر رہے ہیں اور یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کے پھیلاؤ کی وجوہات بھی کینسر، ایڈز، ہیپاٹائٹس اور دوسری جان لیوا بیماریوں سے مختلف ہیں۔
اس چھوٹے سے جرثومے نے نہ صرف پوری دنیا کو ہائی الرٹ کر دیا ہے بلکہ بیشتر شہر مسلسل محصور ہیں۔یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک سنگین وائرس ہے جس سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاط ہی واحد علاج ہے۔ ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کورونا وائرس سے بچائو کی ایک ہی تدبیر ہے اور وہ ہے سماجی فاصلہ، ایک دوسرے سے میل جول میں کمی،انتہائی ضروری حالات میں بھی اگر گھر سے باہر نکلنا ہو تو فیس ماسک کا استعمال، سینی ٹائزراور دیگر حفاظتی تدابیر۔
ماسک کا استعمال اس تباہ کن وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں سب سے اہم سمجھا جا رہا ہے اور اس کیلئے ماہرین کی جانب سے لوگوں کو بار بار ہدایت دی بھی جا رہی ہے جبکہ کچھ جگہوں پر اس کا استعمال لازمی قرار دینے کیلئے قانون سازی بھی کی جا رہی ہے۔ماسک سے منہ اور ناک کو صحیح ڈھنگ سے ڈھانپناہے ۔یہ کان یا ہاتھ میں لٹکانے والی چیز نہیں ہے۔ 
عالمی ادارئہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس ختم ہونے والا نہیں اور دنیا کو اس وبا کے ساتھ ہی جینا سیکھنا ہو گا۔ادارے کے ہنگامی حالات کے ڈائریکٹر مائیکل ریان کے مطابق کورونا وائرس انسانیت میں سرایت کر چکا ہے اور اب یہ پیش گوئی نہیں کی جا سکتی کہ اس پر کب تک قابو پایا جا سکتا ہے۔مائیکل کا کہنا ہے کہ دنیا سے اب تک ایچ آئی وی ختم نہیں ہوا اور اب اسے کرونا وائرس کی صورت میں ایک وبا کا چیلنج درپیش ہے جو جلد ختم ہونے والا نہیں ہے۔
ہمارے پاس کرونا کی جو تصویر ہے وہ دھندلی اور غیر واضح ہے۔ تحقیق کار وائرس کو سمجھنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں جو سائنس نامی جریدے کے مطابق’اس طرح فعال ہے کہ انسانیت نے اس سے پہلے کبھی ایسا وائرس نہیں دیکھا‘۔
 یہ بات قابل ذکر ہے کہ انسان جب سے دنیا میں تشریف لایا ہے وبائیں، بلائیںاور مسائل اس کے ساتھ ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے کئی وبائوں پر قابو پالیا اور کئی نئی وبائوں نے سر اٹھایا۔انسان نے اس قدر سائنسی ترقی کر لی کہ بظاہر کوئی بھی بیماری عالمی خطرہ نہیں بن سکتی ۔یہ انسان کا گمان تھا جوغلط ثابت ہو چکا ہے۔کورونا رواں صدی کی ایسی وباء ہے، جس کے دنیا پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔یہ وائرس ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس نے متعدد مسائل کو جنم دیا ہے۔
دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔لوگ صحتیاب بھی ہو رہے ہیں ، یہ نہیں کہ جسے کرونا ہو گیا وہ لازمی اس وائرس سے مرے گا۔ایسا نہیںہے البتہ دنیا کو ہنگامی صورتحال در پیش ہے۔ اس کے اسباب اور بھی ہیں۔ ہسپتالوںمیں وینٹی لیٹر نہ ہونا۔ کوئی مستند ویکسین یا دوا کا نہ ہونا۔حکومتیں لوگوں کو گھروں میں بیٹھنے کی صلاح دے رہے ہیں لیکن لوگ کسی نہ کسی بہانے گھروں سے نکل رہے ہیں۔
کورونا سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا لازمی ہے لیکن خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ کورونا وائرس کی علامات اور تصدیق کے باوجود صحتیاب ہوسکتے ہیں لیکن اس وباء کے خوف میں مبتلاء ہونے یا کورونا وائرس کے علامات پائے جانے پر خائف اور مایوس ہونے کے بجائے احتیاطی اقدامات اور بہتر تغذیہ کے ساتھ کورونا وائرس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔