کورونا قہراور بے روز گاری کی مار

دنیا بھر میں عالمی وبائی مرض کویڈ۔19 نے کئی ملکوں کی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ امریکہ جیسا طاقت ور ملک بھی اس وبائی مرض کے سامنے بے بس ہو گیا ہے۔گذشتہ تین سالوں سے الگ الگ نام سے اس وبا نے قہر مچا رکھا ہے۔دنیا بھر کی طرح ہندوستان میں بھی اس کا بہت زیادہ اثر ہواہے۔ جس نے قومی معیشت کوکافی نقصان پہونچایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی مسائل کو اجاگر کرکے عوام کی بھی کمر توڑ دی ہے۔ جس سے عام آدمی اور غریب اشخاص کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں۔کورونا وائرس نے معیشت کو پست کیا تو اس سے عام آدمی کی روزگار بھی آہستہ آہستہ چھین گئی اور پھر اس پر مہنگائی کی مار نے اسے جیتے جی مار ڈالا۔حال ہی میں سی ایم ای آئی کی ایک رپورٹ میں جموں و کشمیر میں بیروزگاری کی شرح 21.6 فیصد بتائی گئی تھی اور اب اس کی ایک اور رپورٹ جو گذشتہ ماہ سامنے آئی ہے، اس میں بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 22.2 فیصد بتائی گئی ہے۔
جموں و کشمیر میں بھی دنیا بھر کی طرح پہلے کویڈ۔19کا وار، پھر مہنگائی کی چوٹ اور اب بیروزگاری کی مار نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ہندوستانی معیشت نگرانی مرکز کی رپورٹ نے بیروزگاری کی شرح فیصد عیاں کر سرکار کو آئینہ دکھایا ہے۔ حقیقت میں بیروزگاری اب دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔پوری دنیا میں اس کی شروعات سے ہی لوگوں کے کام کاج پر اس کا بڑا اثر پڑا تھا اور اس وبائی مرض کے اب تک کے عرصے میں بہت سے لوگ اپنی نوکریوں اور روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگوں کا روزگار چھن گیا ہے۔ پورے ملک میں سب سے زیادہ بیروزگاری جموں و کشمیر میں بتائی جارہی ہے جبکہ پہلے باہر کی ریاستوں سے لوگ یہاں روزگار کی تلاش میں آتے تھے حلانکہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے لیے بہت سی اسکیمیں بتائی جاتی ہیں لیکن زمینی حقیقت اس سے کوسوں دور ہے کیوں کہ بیروزگاری کی شرح میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور اگر ایک گاؤں میں دو سو افراد پڑھے لکھے ہیں تو اس میں چار پانچ کو روزگار فراہم کر ہاتھی کے منھ میں زیرہ دینے کے برابر ہے۔کورونا وائرس جیسی وبائی مرض اور لاک ڈاون میں ہوئے نقصان کو لیکر پونچھ ضلع کے کچھ نوجوانوں سے بات ہوئی۔ان میں کچھ لاک ڈاؤن میں بیروزگار ہوگئے اور کچھ وہ لوگ ہیں جو لاک ڈاؤن میں ہوئے نقصان کی کہانی بیان کررہے تھے۔اس ضمن میں میری بات ایک ڈرائیور  محمد زبیر سے ہوئی جن کی عمر 28 سال ہے۔جو لاک ڈاؤن کے دوران بیروزگار ہوگئے تھے۔ا نہوں نے بتایا کہ وہ گاڑی چلا کر اپنے بال بچوں کی پرورش کیاکرتے تھے۔ لیکن لاک ڈاؤن میں اسے کھانے کے لالے پڑ گئے کیونکہ جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔اس نے بتایا کہ وہ جو بھی کماتے تھے وہ کھانے پینے میں خرچ ہو جاتا تھا اور کچھ پیسے بچوں کی اسکول فیس کے لیے بچا کر رکھتا تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس پر اور اس کے اہل خانہ پر کبھی اتنے برے دن آئیں گے۔اس کے بعد میں نے ایک ایسے شخص سے بات کی جو ایک دوکاندار تھا جس کا نام برکت حسین ہے۔ جس کی عمر تقریبا 30 سال ہے۔اس نے بتایا کہ میں نے کئی سال تک بیروزگاری کا سامنا کیا۔آخر کا روزگار کے مواقع تلاش کرتا کرتا تھک گیاتو 2018 میں والد نے کچھ پیسے ادھار لیکر ایک دوکان کرائے پر لیکر دی، جس میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے کا سامان ڈال کر دیا۔ کاروبار ابھی شروعاتی دور میں ہی تھا کہ دفعہ 370 پر مرکزی حکومت کی طرف سے لیے گئے فیصلے سے جموں و کشمیر میں عائد پابندیوں کی وجہ سے خسارے کی طرف بڑھنے لگا۔ لیکن دل میں ایک امید تھی کہ عنقریب بندشیں ختم ہونگی اور وہ اپنا کاروبار پھر سے جاری کر پائیگا۔جب پابندیاں ختم ہونے لگیں اور پھر سے کاروباری سرگرمیاں شروع ہوئیں تو دل میں خوشی ہوئی کہ اب اپنا کاروبار شروع کر قرض بھی ادا کروں گا اور اپنے اہل و عیال کی بھی پرورش کروں گا۔لیکن ابھی کام شروع ہی ہوا تھا کہ کورونا وائرس کی ہلچل شروع ہوگئی اور اچانک سے بندشیں اور بعد میں لاک ڈاؤن لگ گئی۔بندشیں اور لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہوتے وہ دو سے تین لاکھ روپے کے قرض تلے دب گئے اور جدوجہد کرنے کے باوجود آج تک قرض اتارنے میں لگے ہوئے ہیں۔اسی طرح کے ایک اور کاروباری جاوید اقبال جس کی عمر 35 سال ہے،نے بھی بتایا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہے۔ اعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک چھوٹی سی دوکان سے خود کاروبار کی شروعات کی تھی لیکن وہ سب لاک ڈاؤن سے چوپٹ ہوگیا۔اس کے علاوہ کئی دوسرے چھوٹے کاروباروں اور دیگر یہاڑی دار مزدوروں اور ڈرائیوروں سے بات کی جو اس کورونا میں بیروزگار ہوئے اوراب روزگار کی تلاش میں وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ جن میں سے کچھ نے پھر سے اپنا کاروبار شروع کیا ہے لیکن ڈرائیوروں کی آب بیتی افسوسناک ہے کیونکہ انہیں لاک ڈاؤن میں نہ ہی سرکار کی طرف سے کوئی مدد ملی اور نہ ہی کسی نے ان کے اوپر دھیان دیا۔اسی طرح کی حالت چھوٹے کاروباریوں کی بھی ہوئی جنہوں نے کورونا کے وار سے بہت نقصان اٹھایا اور بیروزگار ہوگئے۔اس ضمن میں ہم نے پبلک ویلفیئر فرنٹ کے چیئرمین زورآور سنگھ شاہباز سے بات کی جولاک ڈاؤن میں غریب عوام کی مدد کر رہے تھے اور ان تک کھانے پینے کی اشیا ء کی رسائی کررہے تھے۔انہوں نے بھی کورونا کے وار سے بیروزگار نوجوانوں کی بات بتائی اور ان لوگوں کے بارے میں بتایا جو دن کو کام کرکے رات کو کھانا کھاتے تھے اور جنہیں سرکار کی طرف سے بھی کوئی مدد نہیں ہوئی۔جسے ان کے محاذ نے ان کے گاؤں تک پہنچ کر دو وقت کا کھانا مہیا کروایا۔انہوں نے کہا کہ رب ایسا برا وقت کسی پر نہ لائے جس میں ایک طرف اموات کی خبریں موصول ہورہی ہوں اور دوسری جانب لوگ مالی اور ذہنی طورپر پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آزمائش ہے اس سے مرکزی سرکار کو سبق حاصل کر مستقبل میں اس طرح کے چیلینجوں سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر زور دینے کی ضرورت ہے،کیونکہ اومیکرون کے نام سے کویڈ۔19کی تیسری لہر کی آمد صاف سنائی دے رہی ہے۔جیسے جیسے یہ وبا بڑھے گی، ویسے ویسے بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا جائیگا۔