کورونا علاج،جانچ کی شرح طے کرنے سے متعلق عرضی کی سماعت دو ہفتے ملتوی

نئی دہلی//سپریم کورٹ نے ملک کے نجی اسپتالوں میں کورونا وائرس کے انفیکشن کے علاج کی زیادہ شرح اور ملک میں آر ٹی پی سی آر اسکریننگ کی شرح کے متلاشی طلب کرنے کی درخواست کی سماعت جمعرات کے روز ملتوی کردی۔چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رما سبرمنیئم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ علاج کی قیمت اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہئے کہ لوگ صحت کی دیکھ بھال کے فوائد حاصل نہ کرسکیں۔ تاہم، عدالت نے آج متعلقہ معاملے پر تفصیلی سماعت منعقد کرنے سے قاصر ہونے کا اظہار کیا۔بنچ ابھیشیک گوینکا اور پیشہ سے ایک وکیل اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اجے اگروال اور دیگر درخواست گزاروں کے ساتھ مشترکہ سماعت کررہی تھی۔مسٹر گوئنکا نے نجی اسپتالوں میں کورونا کے علاج کے لئے بھاری فیس وصول کرنے پر رول لگانا اور اس کی زیادہ سے زیادہ فیسیں طے کرنے کی درخواست کی ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ نجی اسپتال کورونا سے متاثرہ افراد سے بہت زیادہ فیس وصول کررہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب ملک کورونا کی وبا اور معاشی بحران سے دوچار ہے، اس سے زیادہ فیس والے افراد دوگنا کررہے ہیں۔ اس سے کورونا کے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو بہت پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔مسٹر اگروال نے ملک کی مختلف ریاستوں میں آرٹی پی سی آر جانچ کے الگ الگ شرح کا حوالہ دیتے ہوئے اسے یکساں کرنے اور زیادہ سے زیادہ 400 روپے قیمت طے کرنے کی اپیل کی ہے۔ایک دیگر عرضی گزار کی جانب سے پیش وکیل امن لیکھی نے بینچ کو بتایا کہ ان کی عرضی کو عدالت نے منظور کرلیا ہے،مگر اسے اس عرضی کے ساتھ فہرست میں نہیں جوڑا گیا۔ اسے غلط عرضی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔یواین آئی۔