کورونا سے 100طبی ورکروں کی موت واقع

جنیوا//کوروناوائرس کی عالمگیروباء کے دوران عالمی صحت تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں لگ بھگ 60لاکھ نرسوں کی کمی ہے ۔اقوام متحدہ کی صحت ایجنسی نے ’نرسنگ نائو‘اور’انٹر نیشنل کونسل آف نرسز‘(آئی سی این) کی شراکت سے ایک رپورٹ میں نرسوں کے رول کواجاگر کیا ہے جو دنیا بھر میں صحت عامہ کے شعبہ سے منسلک افرادی قوت کا نصف سے زیادہ حصہ ہیں ۔عالمی صحت تنظیم کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے ایک بیان میں کہا کہ نرسیں کسی بھی نظام صحت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج نرسیں اپنے آپ کو کورونا وائرس کی وباء کا مقابلہ کرنے کے صف اول کے دستوں میں دیکھتی ہیں اوردنیا کوصحت مندرکھنے میں اِن کارول اہم ہے اورضروری ہے کہ انہیں وہ سپورٹ دیا جائے جوانہیں چاہیے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں صرف 28کروڑ نرسیں ہیں ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018تک کے پانچ برسوں کے دوران ان کی تعداد میں 47لاکھ کااضافہ ہوا۔عالمی صحت تنظیم نے کہا کہ ابھی بھی 59لاکھ نرسوں کی عالمی سطح پر ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ ،جنوبی ایشیاء ،مشرق وسطیٰ اورجنوبی امریکہ کے حصے کے غریب ممالک میں اِ ن کی کافی کمی ہے ۔رپورٹ میں ان ممالک پرزوردیاگیا ہے کہ وہ اپنی خامیوں کی نشاندہی کرکے نرسنگ عملے کی کمی کوپوراکریں اورنرسنگ کی تعلیم میں سرمایہ کاری کریں ۔انٹرنیشنل کونسل آف نرسنگ کے سربراہ ہاورڈ کیٹن نے کہا کہ انفیکشن کی شرح ،ادویات کی تجویا کی غلطیاں اور اموات کی شرحیں کافی زیادہ ہیں جبکہ نرسوں کی تعداد کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کمی سے ہمارے پاس جو افرادی قوت ہے وہ تھکاوٹ کاشکار ہوتی ہے۔’نرسنگ نائو‘کی میری ویٹکنس، جنہوں نے اس رپورٹ کی تیاری میں معاونت کی ،نے کہا کہ صحت عامہ کے ورکروں کیلئے وائرس کے ٹیسٹوں میں سرمایہ لگانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صحت عامہ کے ورکروں کی کافی تعداد صرف اس وجہ سے کام پر نہیں آتی کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ وہ انفیکشن کاشکار ہیں اوروہ یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ انہیں انفیکشن نہیں ہے یاانہیں انفیکشن ہے یا انہیں انفیکشن تھی۔کیٹن نے کہا کہ اٹلی میں 23نرسوں کی موت ہوئی جبکہ دنیا بھرمیں 100کے قریب صحت عامہ کے ورکروں کی موت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی میں 9فیصدصحت عامہ کے اہلکاروں کے کوروناوائرس کاشکار ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ اسپین سے ملی اطلاعات کے مطابق وہاں یہ شرح 14فیصد تک جاپہنچی ہے ۔انہوں نے صحت عامہ کے ارکین پر حملوں کو ’ناقابل برداشت ‘اور’قابل سرزنش ‘قراردیا۔