کورونا سے نمٹنے میں مرکزی حکومت ناکام:سونیا

 نئی دہلی// کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے ملک میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کی بنیاد مودی حکومت کی بدانتظامی ہے اور اب حالت دن بدنہ کنٹرول سے باہر ہورہی ہے ۔ گاندھی نے سنیچر کو کووڈ۔19سے نپٹنے کی کوششوں کے جائزہ کے لئے منعقدہ کانگریس کی حکمرانی والی ریاستوں اور کانگریس کے اتحاد والی ریاستی حکومتوں کے وزرائے اعلی کی میٹنگ میں کہاکہ مودی حکومت نے کورونا کی لڑائی میں اپنی بدانتظامی کا تعارف دیا ہے ۔ حکومت نے کووڈ کے پھیلاو کو روکنے کے لئے صحیح انتظام نہیں کیا۔ ملک میں ٹیکے کی کمی ہے لیکن اسے برآمد کیا جارہا ہے جبکہ کئی ریاستوں سے اس کی شکایتیں بھی آرہی ہیں۔کانگریس کی صدر نے کہاکہ کورونا انفیکشن کے معاملات میں اضافہ کے درمیان اہم اپوزیشن جماعت کے طورپر کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ پارٹی اس سے متعلق امور کو اٹھائے اور حکومت کوپروپگنڈا کے حربوں سے ہٹاکر عوامی مفادات کے امور پر کام کرنے پر مجبورکرے ۔انہوں نے کہاکہ اس معاملہ پر شفافیت کے ساتھ اور پروپگنڈے کے حربے اختیار کرنے کے بجائے صاف نیت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ مرکز یاریاستی حکومتوں کو متاثرہ لوگوں اور اس کی وجہ سے ہونے والی اموات کو لیکر اصل اعدادو شمار پیش کرنے چاہئیں۔کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہاکہ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہمیں ہندستان میں ٹیکہ کاری مہم پر توجہ دینی ہوگی، اس کے بعد ٹیکوں کی برآمد یا اسے تحفہ کے طورپر دیگر ممالک کو بھیجنے پر غور کرنا چاہئے ۔ ہمیں تمام قوانین اور کووڈ سے متعلق قواعد پر بغیر کسی استثنا کے عمل کرتے ہوئے ایک ذمہ دارانہ سلوک پر زور دینا چاہئے ۔ گاندھی نے کہاکہ وفاقی نظام کا احترام کرتے ہوئے ریاستوں سے تعاون اور بدلے میں تخلیقی ہوکر وبا سے لڑنے کی ضرورت ہے ۔ ہم سب اس لڑائی میں متحد ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات اور مذہبی انعقاد سے متعلق اجتماعی تقاریب میں بڑے پیمانہ پر لوگوں کے جمع ہونے سے کووڈ انفیکشن میں تیزی آئی ہے اور اس کے لئے ہم تمام کچھ حد تک ذمہ دار ہیں۔ ہمیں ذمہ داری کو قبول کرنے اور قومی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے ۔ گاندھی نے کہاکہ یہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وبا کے بڑھنے پر ہماری ریاستیں آکسیجن، وینٹی لیٹر اور دیگر سہولیات کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے کیا کررہی ہے ۔ یہ سوچنا چاہئے کہ کیا انتخابی ریلیاں سمیت عوامی تقاریب کو منسوخ نہیں کی جانی چاہئیں۔یو این آئی