کورونا۔کہیں عذاب ِ الٰہی تو نہیں؟

پچھلے ایک ماہ سے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی پہلی خبر کرونا وائرس ہی ہے اور پوری دنیا میں اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اسوقت بنی نوع انسان کو اگر سب سے بڑا خطرہ ہے تو وہ کرونا وائرس ہی دکھائی دیتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ کروناوائرس کی وبا افریقی ممالک تک پہنچنے کے بعد اس بیماری کے پھیلائو کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔کوڈ۔۱۹؍نامی اس وائرس پر بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتو گوتیرس نے کہا ہے کہ یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ اس وائرس سے بچنے اور لوگوں کو اس سے محفوظ رکھنےکے لئے تیاری کرنے کا وقت ہے ۔کیونکہ کہ اس خطرناک اور مہلک مرض کا جو کوئی انسان شکار ہوجاتا ہے تو اس کی زندگی کا بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔یہ ایک انتہائی خطرناک اور جان لیوا وائیرس ہے جو کہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں باآسانی منتقل ہونے کی خاص صلاحیت رکھتا ہے ۔اگر اس وائیرس کا شکار کوئی شخص ہے تو اس انسان کا سانس لینا ،کھانسنا ،چھینکنا ،حتیٰ کہ بات تک کرنا بھی کسی دوسرے انسان کے لئے اس مہلک مرض کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ تنفسی نظام کے ذریعے دوسرے انسان میں پہنچ جاتا ہے اور یہی نہیں بلکہ اگر کرونا کا متاثرہ مریض کسی گیٹ ،کھڑکی، برتن، صوفہ یا بستر استعمال کے علاوہ زیادہ سے زیادہ ہاتھ بھی لگاتا ہے تو بھی اس کے جراثیم ان اشیا میں منتقل ہوجا تے جو کسی دوسرے شخص کے چھونے پر بھی اس وائرس کا شکار ہوسکتا ہےاوراس وائرس کا شکار مریض قوت مدافعت کی شدید کمی کی وجہ سے اتنا حساس ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے ذرا سا بھی ذہنی تناو اس کی موت کا سبب بن سکتا ہے ،اس لئے ایسے مریض جو کرونا کا شکار ہوں ،ان کو کھلے ما حول جہاں ترو تازہ ہوا کا گزر ہو، میں رکھنا سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ کرونا وائرس کا شکار مریض اگر کسی فیملی کے ایک شخص کو ہے تو بہتر یہی ہے کی گھر کے دیگر افراد اس سے دور رہیں اور احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں اور اپنا بستر برتن اور دیگر اشیا کو الگ کرلیا جائے۔یہاں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ پہلی بار نہیں کہ کرونا وائیرس چین پر حملہ آورہوا ہےبلکہ 2002/2003 میں بھی اس وائیرس نے چین پر حملہ کرکے تقریبا 800 افراد کی جانیں لی تھیں جبکہ 8000 سے زائد افراد کومتاثر کردیا تھا لیکن اُس وقت یہ معاملہ دَرپردہ رہا اور آہستہ آہستہ ٹھنڈا پڑگیا تھاجبکہ اس بار دوبارہ اس وائرس نے چین میں ہی سر اٹھایااور وہاںقہر بپاکردوسرے ممالک میں داخل ہوگیاہے۔ اب تک تقریبا 3300   سے زائدافراد کی جانیں لے چکا ہے اورقریبا ۱یک لاکھ کو متاثر کردیا ہے۔اس وایئرس نے سبھی براعظموں کے تقریباً 100ملکوں میں اپنی موجودگی ظاہر کردی ہے، جس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں وحشت پھیل گئی ہے۔چین کے بعدتا حال سب سے زیادہ متاثر ہونے ملکوں میںاٹلی ،ایران اور جنوبی کوریا کے نام سامنے آئے ہیں۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ سوائین فلو نامی بیماری آج سے گیار سال پہلے یعنی ۲۰۰۹ ء؁کے اواخر میں بھی ظاہر ہوئی تھی مگر اس وقت اس کی لپیٹ میں زیادہ تر امریکہ سمیت یورپی ممالک تھے ۔امریکہ میں پھیلنے والے’’ایچ ون این ون سوائن فلو‘‘سے دنیا بھر میں تقریباً چھ کروڑ افراد متاثر ہوئے اور اُسی برس اٹھارہ ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ تاہم سال 2012  میں سامنے آنے والے حقائق ظاہر ہوا کہ ’’ایچ ون این ون سوائن فلو‘‘ کے اثرات زیادہ مہلک اور خطرناک تھےجس میں تقریباً تین لاکھ افراد جاں بحق ہوئے ۔ یہاں چند سوالات یہ بھی ذہن میں آتے ہیں کہ اُس وقت تو کہیں پر بھی امریکہ مخالف جذبات سامنے نہیں آئے ، نہ ہی کسی نے امریکہ کی جانب انگلی اٹھائی اور نہ اُس پر کسی نے حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا۔لیکن اس بار کرونا وائرس کے معاملے صورتحال کافی مختلف رہی۔،چینی حکومت کو تمام تر اقدامات کے باوجود مختلف مغربی حلقوں کے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مختلف الزامات چین پر عائد کیے گئے ،افواہوں اور جعلی خبروں کا ایک بازار سا لگا دیا گیا  اور عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر ممالک کی جانب سے چینی حکومت کے اقدامات کی حمایت اور اعتماد کے باجود چین مخالف بیانیے جاری رہے ۔یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وبائی امراض کا تعلق کسی ایک ملک یا خطے سے نہیں ہوتا بلکہ یہ توپوری انسانیت کے لئے دشمن کہلاتی ہیں،جس سے نجات پانے کے لئے مشترکہ جدوجہد ایک بنیادی شرط ہوتی ہے۔ چنانچہ چین نے جس طرح اس بیماری سے لڑنے کے لئے بر وقت اور مضبوط اقدامات اٹھائے وہ بے مثال ہی قرا دئے جاسکتے ہیں۔ا لبتہ جس طرح سوائن فلو نامی بیماری یورپی ممالک سے دھیرے دھیرے دوسرے ممالک میںمنتقل ہوگئی اور ہندوستان کے مختلف ریاستوں کے علاوہ جموں و کشمیر تک آپہنچی بالکل اسی طرح کرونا وائیرس بھی دنیا بھر کے دیگر ملکوں کی طرح بھارت میں اپنی دستک دے چکی ہے اور جموں و کشمیر میں بھی اس کی بھنک پڑچکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ اور نت نئے مشینری وسائل کے دعوؤں کے باوجود اس نومولود بیماری کا معقول حل اب تک کیوںنہیں دریافت کرلیا گیا؟اور ماہرین اس بیماری کے سامنے ہاتھ جوڑ کے بے بس کیوںنظر آرہے ہیں…؟ ان کی عقل کی بلندی اور سائنسی ارتقا کہاں چلی گئ ؟ سانٹفک اور جدید ٹکنالوجی یہاں اپنا اثر کیوں نہیں دکھا پارہی ہے…؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کوئی بیماری نازل فرماتا تو ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی قدرتی طور پر ڈاکٹروں کے علم میں آجاتا ہے لیکن جب کوئی بیماری عذاب الٰہی کی شکل میں اترتی ہے تو اس کا علاج لوگوں کے دل و دماغ سے اٹھا لیاجاتا ہے ، اب انسان لاکھ تدابیر اختیار کرے علاج و معالجہ کے لئے ہاتھ پاؤں مارے بہر صورت عذاب الٰہی کا اثر ظاہر ہوکے رہتا ہے۔ بعینہ یہی صورتحال جہاںسوائن فلو کے ساتھ رہی ہے وہی آج کرونا وائیرس کے ساتھ ہورہی ہے۔ حد سے زیادہ احتیاتی تدابیر اور انتھک کوشش کے باوجود مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یہ بھی نہیں کہ اس کی روک تھام کی کوشش نہیں گی گئی بلکہ اس پر قابو پانے کی کوشش ہر سطح پر کی گئی  اور کی جارہی ہےلیکن ناکامی کا اعتراف بھی ہر محکمہ والے کھلے الفاظ میں تو نہ سہی ہلکی آواز میںتو کرتے ہیں۔درحقیقت دنیاوی اداروںنے اس بیماری کاجو سبب قرار دیا ہے وہ ظاہر ی سبب ہو تو ہو، لیکن حقیقی سبب وہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں آج بنی نوع انسان جس طرح جرائم ، بے حیائی او ر فحاشی میں نظر آرہے ہیں اور ترقی کے نام پر نظام قدرت میں جس بڑے پیمانے پر دخل اندازی کی جاری ہے وہ قہر خداوندی کا بنیادی اور حقیقی سبب ہے۔ 
تاریخ انسانی میں کئی بار ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے پوری بنی نوع انسانیت متاثر ہوئی، انتہائی بڑے پیمانے پرہلاکتیں واقع ہوئیں اور کبھی خطرناک قسم کی بیماریوں نے آناً فاناً لاتعداد انسانوں کولقمہ اجل بنادیا ۔ چونکہ ان ہلاکت خیز واقعات کے حقیقی اسباب رب کائنات کی کھلی نافرمانی اور انسانوںکے اپنے سنگین جرائم و گناہ تھے ،اس لئے انہیں عذاب الٰہی کہا گیا۔ قوم نوح اور قوم لوط کا جو حشر ہوا قرآن کریم میں اس کا تذکرہ رہتی دنیا تک کی انسانیت کے لئے درس و عبرت ہے۔ کیا جن گناہوںکی بنیاد پر قوم نوح پر پانی کا عذاب آیا اور جن بے حیائیوں کی وجہ سے قوم لوط پر پہاڑ گرا دیا گیا، وہی گناہیں آج عام لوگوں کی روزمرہ کی عادت سی نہیں بن گئی…؟ بے حیائی اور بے پردگی کی کونسی کسرچھوڑی ہے؟ عریانیت اور فحاشی کا وہ کونسا رقص رہ گیا کہ آج دھڑ لے انجام نہیں دیاجاتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایسے میں اگر قہر خداوندی نازل نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا…؟ حقیقت یہ ہے کہ چند اہل اللہ کی آہ سحر گاہی کی وجہ سے بڑے بڑے عذاب ٹل جاتے ہیں ورنہ انسانی اعمال خود عذاب الٰہی کی دعوت دیتے ہیں۔ یاد رکھئے ! اللہ کا قہر مختلف صورتوںمیں نازل ہوسکتا ہے ، انفرادی صورت میں بھی اور اجتماعی صورت میں بھی علاقائی سطح پر بھی اور صوبائی و ملکی سطح پر بھی۔اللہ رب العزت جو خالق کائنات ہیں ، وہی اپنی قدرتِ کاملہ کے ذریعہ مرض اور شفا ء کا دینے والاہے۔ آج دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔ کئی ممالک نہ صرف چین اور ایران بلکہ درجنو ںممالک سے آنے والوں کو اپنے اپنے ملک میں آنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیںلیکن پھر بھی یہ مرض پھیلتا ہی چلا جارہا ہے ۔ مرض کے پھیلائو کے لئے چاہے جتنے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کئے جائیں ،اس کے تدارک کے لئے اللہ رب العزت سے رجوع ہونا ضروری ہے ۔ دنیا میں دہشت گردی کے حوالے سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کیا جاتا رہا ہے۔ہرطاقت ورملک کمزور ملک کو اپنے زیر تسلط لانے پر کمر بستہ ہے۔مشرق وسطیٰ میں انسانی خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔  عذاب الٰہی کسی بھی صورت میں نازل ہوسکتا ہے ، لیکن جہاں پر اللہ کو راضی کرنے والے بندے ہوتے ہیں، ان مقامات پر خیر و برکت کا نزول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مختلف طریقوں سے آزمائش میں ڈالتے ہیں اور پھر اس سے چھٹکارہ بھی عطا فرماتے ہیں ۔ ان ہی شکر گزار اور نیک بندوں کی وجہ سے ملک میں امن و سلامتی کی فضاء بحال رہتی ہے ، ورنہ آج جس طرح  چین سمیت دنیا بھر کے قریباً سبھی ممالک سب کچھ کرنے کےباوجود بھی کچھ کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں، اسے قہر الٰہی ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ذرائع ابلاغ کے ذریعہ جو خبریں منظر عام پر آرہی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے اوراسکی وجہ سے صورتحال عالمی سطح پر سنگین ہوتی جارہی ہے۔ حکومتیں پریشان کن صورتحا ل سے دوچار ہیں۔ خلیجی ممالک نے بھی کورونا وائرس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کئے ہیں۔سعودی عرب نے کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری کے پھیلائو اور اس سے بچنے کے لئے کئی ممالک کے عمرہ زائرین کاعارضی طور پر مملکت میں داخلہ معطل کردیا ہے۔ سیاحتی ویزے پر ان ممالک سے آنے والے افراد کا مملکت میں داخلہ معطل کیا گیا ہے ،اسی طرح دنیا کے زیادہ تر ممالک نے جہاں مختلف قسم کی سرگرمیاں معطل کردی ہیں وہیں اپنی اپنی بساط کے مطابق حفاظتی اقدامات بھی کرلئے ہیں۔بھارت بھی چوکس ہے اور جموں و کشمیر کا انتظامیہ بھی متحرک ہوچکا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بیماری سے محفوظ رکھے۔لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ اگر انسان مختلف قسم کی قدرتی آفتوں اور وبائی بیماریوں سے تحفظ چاہتا ہے تو اس لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال درست کرے۔بد معاشی ،بے ایمانی ،بے حیائی اور فحش کاریوں سے توبہ کرے،اپنے مالک ِ حقیقی کا شکر گذار بن کر اُس کے احکامات کا پابند رہے،خلق خدا کے ساتھ اچھا برتائو کرے ۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تکمیل کرےاور ہر وقت اس بات کو یاد رکھے کہ جو کچھ بھی میں کررہا ہوں ،کوئی اسے دیکھے یا نہ دیکھے ،اللہ مجھے ضرور دیکھ رہا ہے۔اگرچہ مسلمان ہونے کے ناطے ہم اپنے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اجتماعی عذاب سے مستثنیٰ ہیں تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم بالکل آزاد ہیں۔باقی اقوام اس وبائی بیماری سے عبرت حاصل کریں یا نہ کریںلیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اس سے ضرور عبرت حاصل کرنی چاہئے۔اور غور و فکر کرنا چاہئے کہ دنیا بھر میں مسلم اُمت کے ساتھ پچھلے کئی عشروں سے جو کچھ ہوتا چلا آرہا ہے ،کیا وہ عذابِ الہٰی کی نشانیاں تو نہیںاور آج بھی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے کیا وہ صحیح ہے؟س لئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اتباع رسولؐ کریںاور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں ۔ ورنہ ہم اُس  شتر مرغ کے مصداق ہی رہ جائیںجو جنگلی درندوں سے محفوظ رہنے کے لئے ریت میں گردن چُھپا لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے خود کو محفوط کرلیا ہے ،مگر یہی خود فریبی اُسے با آسانی ان درندوں کا تر نوالہ بنا دیتی ہے۔کیونکہ عام طور پرلوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے فکر و عمل کا اثر صرف عام زندگی تک محدود رہتا ہے ،ایسا نہیں ہے، انسانی فکر و عمل زمین سے آسمان تک مار کرتے ہیں ،مذہبی فکر بتاتی ہے کہ انسانی اعمال سے قحط پڑتے ہیں ،طوفان آتے ہیں ،آسمان سے پتھر برستے ہیں، زلزلے اور سیلاب آتے ہیں اور وبائی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں بھی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔یقیناً اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزیاں بدستور ہورہی ہیں ، یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ہم مزید کس مصیبت کا انتظار کررہے ہیںاور شتر مرغ کی طرح اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں؟۔
باغ مہتاب سرینگر
9419443024