کوروناکے قہر پر مذہب کی مہر کیوں؟ | مشترکہ جنگ میں مل کر لڑیں تو بات بنے

 لاک ڈائون کے بیچ ایک ڈاکٹر’’ پی کے‘‘ کو رات کی تاریکی میں سرکاری اسپتال کے ایک وارڈ میں دیکھ کر سخت حیران ہوا،کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی صحت ادارے سے لیکر مقامی اداروں کی طرف سے عالمگیر وباء کے پھیلائو کو روکنے اور منتقلی کیلئے رہنما اصول اور ایڈوائزریاں جاری کی گئی ہیں،’’پی کے‘‘ کی مہلک بیماری میں مبتلا مریضوں کے وارڈ میں موجودگی باعث تشویش تھی۔ ڈاکٹر حیران بھی تھا کہ’’پی کے‘‘ مریضوں کے جسم پر کچھ تلاش کر رہا تھا،اور ڈاکٹر کو لگا کہ وہ شائد اس نامراد وائرس کو خورد بین کے بجائے کھلی آنکھوں سے تلاش کر رہا ہے،جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھاہے ۔ ڈاکٹر نے بالآخر اپنے تذبذب اور تخیل کو ختم کرتے ہوئے ’’ پی کے‘‘ سے پوچھ ہی ڈالا…’’ آخرآپ کیا کر رہے ہو بھائی؟‘۔ اس پر’ پی کے‘‘ نے اعتماد کے ساتھ معالج کو جواب دیتے ہوئے کہا’’ ٹھپہ کہاں لگتا ہے‘‘۔ڈاکٹر نے حیران کن اور سہمتے ہوئے انداز میں پوچھا۔کون سا ٹھپہ ؟،تو پی کے برجستہ بول پڑے’’دھرم والی مہر، کون سی کمپنی کا ہے کیسے پتہ چلے گا،بھگوان ٹھپہ کہا لگاںتا ہے بھائی‘‘۔ پی کے آج انسان کے مذہب والی ’’مہر ‘‘ تلاش کرنے نہیں آئے تھے،بلکہ وہ کرونا وائرس کے مذہب والی مہر تلاش کر رہے تھے،کہ کرونا وائرس کے نظر نہ آنے والے جسم پر دھرم والی مہرکہاں ہے،جس سے اس کے دھرم(مذہب) کا پتہ چل سکے۔
ابتدائی طور پر اس کرونا وائرس کی تشخیص چین میں ہوئی،جو کہ لادین (کیمونسٹ)نظریہ و خیالات کا حامی ہے،اس لئے اگر اس پر کیمونسٹ دھرم والی مہرلگائی جاتی تو کچھ سمجھ میں آتا،اور بعد میں اس نے بر اعظم امریکہ اور یورپ کے ملکوں کی خاک چھان ماری،جہاں پر بیشتر لوگ عیسائی مذہب کے پیروکار ہیں،تاہم اس پر عیسائت کی مہر بھی نہیں پڑی،تاہم حسب روایت جنوبی ایشاء یا برصغیر میں پہنچتے ہی کورونا وائرس کے مذہب کا بھی تعین کیا گیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق کرونا وائرس کھانے پینے کی اشیاء سے پھیل گیا،جو کہ مخصوص طبقہ ہی استعمال کرتا ہے،جس کا کسی مخصوص مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر غالباً اس کا کسی مذہب سے تعلق ہوتا یا کھانے پینے کی ان چیزوں سے یہ وبا پھیلتی،جو مخصوس مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ استعمال کرتے ہیں،تو وبا کو مذہب سے جوڑنے کی نوعیت ہی دوسری ہوتی۔ اس سے قبل عالمی سطح پر کئی وائرس نمودار ہوئے اور انہوں نے عالم انسانیت کو اپنی گرفت میں لیا تاہم ان وائرسوں اور جراثیم کو کسی مذہب کے ساتھ جوڑا نہیں گیا۔ خنزیری وائرس(سوائن فلو) ایک خاص جانور سے پھیل گیا جس کو مخصوص طبقہ استعمال کرتا ہے،تاہم اس وقت اس کو اس طبقے کے ساتھ نہیں جوڑا گیا،ایبولا،طاعون اور دیگر قسم کی وبا بھی کو کسی مذہب،عقیدے،فکر اور نظریہ کے ساتھ بھی ماضی میں نہیں جوڑا گیا۔ پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ عالمی وباء کو ایک مخصوص طبقے اور عقیدے کے ساتھ جوڑنے کی مزموم کوشش کی جا رہی ہے۔ عالمی وبا نے دنیا بھر میں ایک خطرناک صورتحال اختیار کی ہے،اور جہاں کم و بیش پوری دنیا میں لاک ڈائون کے نتیجے میں دنیا کو نا قابل تلافی مالی نقصان پہنچ رہا ہے،وہی اس کا مثبت پہلو یہ بھی نظر آرہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک ایک وسرے کی مدد،ہمدردی اور تعاون کیلئے سامنے آرہے ہیں۔ کرونا کے خلاف جنگ کو مشترکہ جنگ کا نام دیا گیا ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں کی مشترکہ طور پر مد د بھی کی جارہی ہے۔ دنیا میں دشمن ممالک بھی اپنی تلخیوں اور دوریوں کو فی الوقت یک طرف کرکے ایک دوسرے کے معاون اور مدد گار بن رہے ہیں۔ لوگوں کو اس بات کا احساس ہے کہ کرونا وائرس کسی خاص طبقے،نسل،گرہ،مذہب،نظریہ،فکر کا دشمن نہیں بلکہ عالم انسانیت کا مشترکہ دشمن ہے،اور بقائے انسانیت کیلئے اس مہلک اور نامراد وائرس پر فتح حاصل کرنے کیلئے مشترکہ کاوشوں کی اشد ضرورت ہے۔انسان سمجھ چکا ہے کہ رنجشوں،تلخیوں اور عدم تعاون سے کرونا وائرس مزید مظبوط ہوگا اور انسانیت کیلئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوگا۔ ہر ایک معاملے میں منافرت پھیلانے اور اس کو عقائد و نظریہ کا لبادہ اوڑنے اور مذہبی رنگ ینے والوں کے اذہان میں یہ بات گھر چکی ہے کہ’’سرفراز دھوکہ دیتا ہے‘‘،اور وہ اسی زوایہ سے معاملات کو دیکھتے ہیں،اور ’’مذہب والی مہر‘‘ کو زبردستی تلاش کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ سرفراز نے دھوکہ نہیں دیا،یہ تحقیق طلب معاملہ ہے،اور تحقیقاتی ایجنسیاں اس معاملے کو کھنگالنے میں بھی لگی ہوئی ہے تاہم قبل از وقت کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنا نا ہی دور اندیشی ہے اور نا ہی وسعت نظری،بلکہ اپنی عمارت کی بنیاد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
 ابتدائی طور پرسماجی میڈیا پر مخصوص عقیدے،نظریہ فکر اور طبقہ کے خلاف زہر افشائی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔دنیا بھر میں منافرت پھیلانے والے لوگوں نے الگ الگ انداز میں اس پر تبصرہ بھی کیا،کھوکھلی دلائل بھی پیش کی،غیر منطقی باتوں کو بھی سامنے لایااور بعد میں اس کو مذہب کے ساتھ جوڑا گیا۔قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے کارروائیوں کے باوجود چند شر پسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا کا دل دُکھانے والی پوسٹس کی ترسیل کرنے کا شرمناک سلسلہ جاری ہے۔ دوبئی کی ایک کمپنی میں تعینات اکائونٹس افسر نے سوشل میڈیا پر چند تصویریں شیئر کیں جن میں چند مسلمانوں کو جسم پر کورونا وائرس کی بیلٹیں باندھے دکھایا گیا ہے ، اس پوسٹ میں یہ شرمناک پیغام دیا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمان کورونا وائرس کے ذریعے ہندوؤں پر خود کْش حملے کر رہے ہیں۔اس سے قبل ابو ظہبی میں مقیم ایک اور شخص نے بھی اپنی ایک پوسٹ میں ایسی تصویر لگائی تھی جس میں بھارت میں تبلیغی جماعت کے افراد کو کورونا وائرس کے ذریعے ہندوؤں کو متاثر کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس پوسٹ میں یہ ہرزہ سرائی کی گئی تھی کہ بارودی بیلٹ باندھے مسلمان حملہ آور بیس پچیس افراد کو موت کے گھاٹ اْتارتا ہے، مگر کورونا سے متاثرہ ایک مسلمان2 ہزار غیر مسلموں پر تھْوک کر ان کی موت کا سبب بن رہا ہے۔
اس طرح کی منافرت پھیلانے والے لوگوں کو کسی مخصوص مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا بلکہ ذہنی طور پر بیمار یہ لوگ کسی عقیدے اور مذہب کے پیروکار نہیں ہوسکتے۔ ان لوگوں کا ایک ہی مذہب ہوتا ہے اور وہ منافرت کو ہوا دینا،منافرت پھیلانا،ایک دوسرے کی ہرزہ سرائی کرنااورلوگوں کی ٹوپیاں اور عزتیں اچھالتے رہنا۔ یہ لوگ کسی مذہب کے پیروکار ہونے کا دعویٰ تو کرسکتے ہیں تاہم ان کا واسطہ کسی مذہب سے نہیں ہوسکتا۔ ان لوگوں کا کام ہمیشہ توڑنا ہوتا ہے اور وہ جوڑنے کی مخالفت میں ہمیشہ تیار ہوتے ہیں۔’’پی کے‘‘ کا کہنا ہے ’’گارڈ کے یہ منیجراس میں بھی اپنا ہی فائدہ دیکھتے ہیں اور ان کا فی الوقت گارڈ کے ساتھ کنکشن لل ہوچکا ہے‘‘۔اس لئے جب تک کنکشن ٹھیک نہیں ہوتا لوگ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ایسا بھی نہیں کہ سماجی میڈیا یا کھلے عام ان کو کوئی ٹوکنے والا نہیں،بلکہ صحاب فراست اور اہل دانش انہیں بھر پور جواب بھی دے رہے ہیں اور انہیں اس بات کی صلاح بھی دی جاتی ہے کہ وہ کرونا وائرس کو کسی مذہب کے ساتھ جوڑنے سے باز رہیں۔ اس غلط کنکشن کو منقطع کرنے کی ضرورت ہے اور اجتماعی طور پر عالمگیروباء کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔فلاحی،رضاکار،مذہبی اور سماجی انجمنوں کو چاہے کہ وہ تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کریں اور بلا تفریق مذہب و ملت،رنگ و نسل اور جنس و عمر متاثرہ لوگوں کی بھر پور مد کریں۔