کوروناقہر

  گزشتہ چند روز سے جموںوکشمیر خاص کر وادی ٔکشمیر میں کورونا کے مثبت معاملات سامنے آرہے ہیں،وہ یقینی طور پر پریشان کن ہیں۔اب روزانہ کی بنیادوں پر تین سے چار ہزار کے بیچ کورونا معاملات سامنے آرہے ہیںجو بہت بڑ ی تعداد ہے جبکہ یومیہ اموات کی شرح بھی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور یہ بھی 35سے40کے درمیان تک پہنچ چکی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق جموںکشمیر میں اپریل کے ماہ میں کورونا متحرک کیسوں میں980فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جبکہ اموات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور صحت یاب ہونے کی شرح بتدریج گھٹتی چلی جارہی ہے ۔
 جب ان اعدادوشمار کا باریک بینی سے ذرا پوسٹ مارٹم کیاجاتا ہے تو ایک پریشان کن صورتحال ابھر کر سامنے آتی ہے ۔حکام کے لئے یہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے مریض ہوں لیکن گہرائی سے تجزیہ پریشان کردیتا ہے ۔کورونا اعداد وشمار کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ  جموںوکشمیر وادی کا اب کوئی ضلع محفوظ نہیں ہے اور ہر ضلع میں کورونا نے دستک دی ہے ۔دوسرا اور اہم نکتہ جو تجزیہ کے بعد ابھر کرسامنے آتا ہے ،وہ یہ ہے کہ ہمیں قطعی طور لاپر واہی برتنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ گھوم پھر کر واپس آچکاہے ۔سرینگر انتظامیہ کچھ عرصہ قبل تک اس اطمینان میں تھی کہ یہاں اب نئے معاملات سامنے نہیں آرہے ہیں اور عوامی سطح پر بھی اس پر اطمینان کا اظہار کیاجارہاتھا جبکہ عوامی نقل وحمل بھی کافی حد تک بڑھ چکی تھی کیونکہ شاید انتظامیہ کے لوگ سمجھنے لگے تھے کہ کورونا سرینگر سے رخصت ہوچکا ہے لیکن اب حالت یہ ہے سرینگرضلع سے ہی سب سے زیاد ہ نئے معاملات سامنے آرہے ہیں ،جویہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ کورونا کہیں گیا نہیںہے بلکہ یہیں موجود ہے ۔
یہ وائرس دوبارہ زیادہ بھیانک انداز میں پھیل رہا ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ کب کہاں سے یہ سرنکال لے ۔لہٰذا کسی بھی طور احتیاطی اقدامات نرم کرنے کی گنجائش نہیں ہے بلکہ ہمیں ہمہ وقت محتاط رہناہے۔ہمارے ملک بھار ت سمیت دنیا کے کئی ممالک سے بھی اس بات کے پختہ ثبوت مل چکے ہیں کہ وہاں کورونا دوبارہ لوٹ کر آچکاہے اور ان ممالک کے مطابق اب اس کی دوسری لہر مزید خطرناک ہے کیونکہ وائرس اب اس ماحول سے ہم آہنگ ہوچکا ہے اور اس کا مدافعتی نظام مزید سخت ہوا ہے جوعوام کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔
اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ عوام کے بے پناہ مسائل ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ روزگا رکا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ مسلسل حکومت کی جانب سے نرمیوں کا اعلان کیاگیاتھاتاکہ غریب اور متوسط طبقہ کی روزی روٹی کا کوئی بندوبست ہوسکے لیکن ا سکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم معاش کی فکر میں کوروناکا شکار بن جائیں ۔کورونا آپ کا ایک ایسا دشمن ہے جو نظر نہیں آرہا ہے اور صرف احتیاط ہی آپ کو اس کے قہر سے بچاسکتی ہے ۔اگر حکومت کی جانب سے اعلان شدہ نرمیوں سے آپ استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیںتو بے شک کریں اور یہ آپ کا حق بھی بنتا ہے لیکن جس طرح ہم نے اب اس وائرس کو سرسری لیا ہے ،وہ موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ 
بلاشبہ ہمیں معمولات زندگی جاری رکھنے ہیں اور دو وقت کی روٹی کا بندو بست بھی کرنا ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم بے پرواہ ہوجائیں اور نہ صرف اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیں بلکہ دوسروں کی زندگی کو بھی خطرے سے دوچارکریں۔ اگر اس غیر سنجیدگی نے ہمیں کورونا کے تباہ کن قہر سے روبرو کروادیا تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔بے شک حالات باعث تشویش ہیںلیکن اب بھی اگر ہم نے ہوش کے ناخن لئے اور کورونا کا خوف کھا کر تمام لازمی احتیاطی اقدامات پر عمل کرکے اپنے معمولات جاری رکھے تو شاید ہمیں بہت جلد اس مصیبت سے نجات مل جائے گی لیکن اگر ہم نے اسی لاپرواہی کا مظاہرہ جاری رکھا تو خدا نخواستہ یہ سفر کافی طویل ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی ہلاکت خیز بھی ۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے کوویڈ کے حوالہ سے وضع کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد کریں ۔اس ضمن میں فیس ماسک کا استعمال اور جسمانی دوریوں کا پاس و لحاظ رکھنا لازمی ہے ۔اگر ان دواحتیاطی تدابیر پر ہم عمل کرتے ہیں تو تقریباً سارے مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے اور ہمیں پریشان بھی نہ ہونا پڑے گا لیکن فی الوقت انتظا میہ کو جس طرح فیس ماسک کا استعمال عام کرنے کیلئے جرمانے کرنے پڑرہے ہیں ،وہ قطعی کسی مہذب سماج کیلئے مستحسن قرار نہیں دیاجاسکتا ہے ۔ہمیں حکومت کا انتظار کئے بغیر خود حکومتی اقدامات کا معاون بننا چاہئے کیونکہ ایسا کرکے اصل میں ہم اپنے آپ اور اپنے سماج کو بچا رہے ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ لاپرواہی کرکے ہم اپنے لئے نئے خطرات مول لیں ۔اس لئے لازم ہے کہ ہم کاروبارِ جہاں جاری رکھنے کیلئے اپنے آپ میں ہی تبدیلی لائیں اور جس طرز زندگی کا یہ وائرس ہم سے تقاضا کرتا ہے ،ہم وہی طرز زندگی اختیار کریں تاکہ جان بھی رہے اور کارِ جہاں بھی چلتا رہے۔