کورنا وائیرس:خون کے خلیات کے حجم اور افعال کو بدل سکتا ہے

جرمنی میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں  یہ بات سامنے آئی ہےکووڈ کو شکست دینے کے بعد کئی ہفتوں یا مہینوں تک مختلف علامات کا سامنا کرنے والے افراد کے خون کے خلیات میں تبدیلی آسکتی ہے۔
کورونا کی طویل المعیاد علامات کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کووڈ کو شکست دینے والے ہر فرد کو مہینوں تک مختلف طبی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔بیماری کی شدت چاہے جو بھی ہو، مگر صحتیابی کے بعد متعدد افراد کی جانب سے مختلف علامات جیسے تھکاوٹ سے لے کر اعضا کو نقصان کو رپورٹ کیا گیا ہے حالانکہ وائرس جسم سے کلیئر ہوچکا ہوتا ہے۔طبی جریدے جرنل بائیو فزیکل میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کورونا وائرس کچھ مریضوں کے خون کے خلیات کے حجم اور افعال کو بدل سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق چونکہ خون کے خلیات کسی بھی فرد کے مدافعتی ردعمل کا حصہ ہوتے ہیں اور جسم میں آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں، تو ان میں آنے والی تبدیلیاں طویل المعیاد پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔خیال رہے کہ کووڈ سے بہت زیادہ بیمار ہونےوالے افراد میں خون گاڑھا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں بلڈ کلاٹس اور فالج کا امکان بھی بڑھتا ہے۔خون کی پیچیدگیوں کو کووڈ سے منسلک کیا جاتا ہے تو اس تحقیق میں جرمن ماہرین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا خون کے خلیات بھی لانگ کووڈ کا حصہ ہوتے ہیں یا نہیں۔
میکس پلانگ زینٹریم کے ماہرین نے اس مقصد کے لیے 40 لاکھ سے زیادہ خون کے خلیات کا تجزیہ کیا۔یہ خلیات لانگ کووڈ کے 17 مریضوں، کووڈ کو شکست دینے والے 14 افراد اور 24 صحت مند رضاکاروں (کنٹرول گروپ) کے نمونوں سے حاصل کیے گئے۔اس کے بعد رئیل ٹائم ڈی فارمیبیلٹی cytometry نامی طریقہ کار میں فی سیکنڈ ایک ہزار خون کے نمونے ایک تنگ پتی سے گزارے گئے، جن میں خون کے مدافعتی خلیات اور سرخ خلیات بھی شامل تھے جو جسم میں آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔آخری مرحلے میں ایک کیمرے سے خلیات کے حجم اور ساخت میں تبدیلیوں کو ریکارڈ کیا گیا۔
نتائج سے انکشاف ہوا کہ لانگ کووڈ کے مریضوں کے خون کے سرخ خلیات کنٹرول کے مقابلے میں بہت زیادہ مختلف تھے۔
محققین نے بتایا کہ ہم بیماری کے دوران اور اس کو شکست دینے کے بعد خلیات میں واضح اور طویل المعیاد تبدیلیوں کو شناخت کرنے کے قابل ہوئے۔اس سے یہ بھی ممکنہ وضاحت وتی ہے کہ اس بیماری سے بہت زیادہ بیمار افراد میں خون کی شریانوں کی بندش اور کلاٹس کا خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح مریض کے جسم میں آکسیجن کی منتقلی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔
نتائج سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ لانگ کووڈ کے مریضوں مدافعتی خلیات صحت مند افراد کے مقابلے میں 'نرمہوجاتے ہیں جو ضرورت سے زیادہ مدافعتی ردعمل کا عندیہ ہے۔محققین نے بتایا کہ ہمیں مدافعتی خلیات میں سائٹوسکیلٹن کا شبہ ہے جو اکثر خلیات کے افعال میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔مجموعی طور پر بیماری کو شکست دینے کے 7 ماہ بعد بھی لانگ کووڈ کے مریضوں میں خون کے خلیات بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ اگرچہ کچھ مریضوں کے خلیات میں آنے والی تبدیلیاں ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد معمول پر آجاتی ہیں مگر ایسے مریض بھی ہیں جن ان کا تسلسل بیماری کو شکست دینے کے کئی ماہ بعد بھی برقرار رہتا ہے جو جسم میں کووڈ کے طویل المعیاد اثرات کا ثبوت ہے۔
جریدے جرنل آف نیوٹریشن، اوبیسٹی اینڈ ایکسرسائز میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ این 95 ریسیپٹر یا کپڑے کا ماسک پہننے سے جسمانی سرگرمیوں کی گنجائش محدود نہیں ہوتی۔فیس ماسک کا استعمال اب دنیا بھر میں عام ہوچکا ہے مگر اب تک ایسی کوئی کلینکل تحقیق نہیں ہوئی تھی جس مین جسمانی سرگرمیوں یا روزمرہ کے معمولات پر یہ معمول کس حد تک اثرانداز ہوسکتا ہے۔
اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فیس ماسک پہننے سے جسمانی سرگرمیوں یا ورزش کی گنجائش پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
امریکا کے کلیولینڈ کلینک کی اس تحقیق میں 20 صحت مند بالغ فراد کی خدمات حاصل کی گئی تھی اور متعدد اقسام کے ٹرائلز میں لوگوں کو مکمل تھکنے تک جسمانی سرگرمیوں کی ہدایت کی گئی۔مردوں اور خواتین دونوں کو ٹرائلز کا حصہ بنایا گیا اور یہ سب کسی حد تک متحرک افراد تھے۔
ورزش کے دوران ان رضاکاروں کو کپڑے کا ماسک، این 95 ماسک یا کوئی ماسک نہیں پہنایا گیا اور آکسیجن استعمال کرنے کی مقدار، دھڑکن کی رفتار اور دیگر جسمانی پیمانوں کی
جانچ پڑتال کی گئی۔جسمانی سرگرمی کا حصہ بننے کے فوری بعد لوگوں سے مختلف سوالات بھی پوچھے گئے اور جاننے کی کوشش کی گئی ماسکس سے انہیں کس حد تک پریشانی یا تکلیف کا سامنا ہوا۔نتائج میں دریافت کیا گیا کہ کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی سے لوگوں کی صلاحیت کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔
محققین کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ فیس ماسک سے صحت مند بالغ افراد کی جسمانی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ڈیٹا کسی حد تک محدود ہے کیونکہ اسے ورزش کے فوری بعد اکٹھا کیا گیا اور ورزش کے دوران ٓکسیجن کی گنجائش اور وینٹی لیشن کی شرح پر کام نہیں کیا گیا۔اب ماہرین کی جانب سے مزید تحقیق کی جائے گی اور مختلف عمروں کے افراد کو شامل کیا جائے گا جن میں نظام تنفس کے امراض کے شکار بھی شامل ہوں گے۔
ان افراد کی روزمرہ کی سرگرمیوں پر فیس ماسک کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔