کوئی مسیحا ادھر بھی آئے !

سرحدوں پر جاری کشیدگی کے بیچ ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب گذشتہ ہفتہ دونوں ممالک نے کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ اس سے متصل سبھی سیکٹروں میں جنگ بندی اور دیگر سمجھوتوں پر عمل کرنے پر اتفاق ظاہر کیا ۔یہ معاہدہ دونوں ممالک کے ڈی جی ملٹری  آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کے دوران طے پایا جہاںدونوں ممالک امن کی تباہی اور تشدد کو فروغ دینے والے بنیادی معاملات اور خدشات کو حل کرنے پر متفق ہوئے ۔جموں وکشمیر کے سرحدی علاقہ جات کی عوام نے کئی دہائیوں سے سرحد پر بسنے کا درد برداشت کیا ہے، جہاں اس عوام نے اپنے کئی عزیز و اقربا کھوئے ہیں ۔ طویل عرصہ سے چلنے والی گولہ بار ی میں سرحدی عوام نے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات کے فقدان کا بھی بے حد شدت سے سامنا کیا ہے کیونکہ ان علاقہ جات میں گولہ باری کے دوران اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا تو طبی سہولیات کیلئے مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔جہاں زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچانے کیلئے پونچھ یا جموں لے جانے میں گھنٹوں کاوقت برباد ہوتا ہے۔ اب جبکہ دونوں ممالک کے مابین کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ اس سے متصل سبھی سیکٹروں میں جنگ بندی اور دیگر سمجھوتوں پر عمل کرنے پر اتفاق ظاہر کیاگیا ہے تو سرحدی عوام میں خوشی کی ایک لہر پائی جا رہی ہے ۔
لیکن عوام اپنی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ سرحدی علاقہ جات کی عوام کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جائیں ۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں سرحدی عوام کو بنیادی طبی سہولیات کیلئے کئی طرح کی مشکلات درپیش ہیں ۔سرحدی ضلع پونچھ کے بلاک بالاکوٹ کی بیشتر پنچائتوں کے اندر طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پنچائتوں کے ذریعہ دور دراز ، سرحدی اور پسماندہ علاقہ جات میں بنیادی ضروریات پہنچانے کیلئے سیاسی نمائندگان نے بڑے بلند و بانگ دعوے کئے تھے لیکن آج تک سرحدی علاقہ جات میں بسنے والی عوام کو بنیادی طبی سہولیات بر وقت دستیاب نہ ہوسکی ہیں۔بلاک بالاکوٹ کی بیشتر پنچائتوں میںسب سنٹر اور پرائمری ہیلتھ سنٹروں کی عمارات کا کام کئی برسوں سے چل رہا ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے ۔کئی پنچائتوں میں سب سینٹر اورپرائمری ہیلتھ سینٹر چھت یاپھر کچھ فرش وپلستر کے منتظرہیں اور کچھ اس سے بھی کمزور حالت میں اپنی علالت لئے معالجہ کے منتظر ہیں۔مشکل یہیںختم نہیں ہوتی ہے بلکہ سرحدی علاقہ جات کی عوام کو دیگر کئی طرح کی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی اکثر محسوس کی جاتی ہے ۔
 واضح رہے کہ سب ڈویژن مینڈھر کا سب سے دور دراز اور پسماندہ علاقہ سنگیوٹ اور چنڈیال ہے جس کی آبادی کم ازکم دس ہزار سے زائد ہے ،مگر بڑے افسوس کا مقام یہ ہے کہ علاقہ کے عوام کیلئے سرکار کی جانب سے ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر منظور ہوا تھا، جس کاکام2007-08میں شروع ہوا تھا، جو آج2021تک بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے۔اس پرائمرہیلتھ سینٹر کی صرف دیواریں ہی تعمیر ہوئی ہیں اورابھی تک اس کا چھت بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے ۔اس سلسلے میںسابقہ سرپنچ مختیازخان نے کہا کہ علاقائی عوام نے اس پی ایچ سی کے متعلق انتظامیہ سے کئی بار اپیل بھی کی کہ اس کو جلد از جلد مکمل کرایا جائے۔ اور عوام کی سہولیات کیلئے اس میں ماہر ڈاکٹر اور بر وقت ادویات میسر کروا ئی جائے تاکہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات دستیاب ہو سکیں مگر آج تک کسی نے بھی اس جانب توجہ مبذول نہ کی جس کی وجہ سے یہاں کی عوام طبی سہولیات سے محروم ہے‘۔مقامی شخص بلند خان نے اس پرائمری ہیلتھ سینٹر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہاکہ پنچائت سنگیوٹ اور چنڈیال کے اندر ایک ہی پی ایچ سی ہے،جو آج چودہ سال گزرنے کے بعد بھی مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے مقامی عوام کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔اسی سلسلے میںنائب سرپنچ شمیم اختر نے کہا کہ سنگیوٹ اور چنڈیال کی عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی پر مشتمل عوام تمام تر بنیادی اور طبی سہولیات سے محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقہ کے اندر اگر کوئی بزرگ، عورت یا بچہ بیمار ہو جائے تو پختہ سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے مین شاہراہ تک اس کو لے جانے میں کئی کلو میٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد وہاں سے راجوری یا پونچھ علاج ومعالجہ کیلئے پہنچایا جاتا ہے۔
اس سلسلہ میںپنچائت کے پنچ کاکاخان نے کہا کہ علاقہ کی عوام کو اگرسر درد یا پیٹ میں معمولی سی تکلیف ہو جائے تو یہاں علاقہ میں کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس کیلئے بھی عوام کو پونچھ،مینڈھر یا راجوری کا رخ کرنا پڑتا ہے کیونکہ سنگیوٹ اور چنڈیال ایک ایسا علاقہ ہے جس کا ایک سرا ضلع راجوری کی سرحد تھنہ منڈی کے ساتھ لگتا ہے اور دوسرا منجا کوٹ کے ساتھ جا ملتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سنگیوٹ اور چنڈیال پنچائت سب ڈویژن مینڈھر میں سب سے دور دراز اور انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہے، جہاں کسی بھی سرکار نے یہاں کی عوام کو بر وقت بنیادی سہولیات میسر کروانے کی کوشش نہیں کی ہے جس کی وجہ سے آج اس ترقی یافتہ دور میں بھی پنچائت سنگیوٹ اور چنڈیال کی کم از کم دس ہزار آبادی طبی سہولیات سے محروم ہے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر اور مقامی انتظامیہ سے اس جانب خصوصی توجہ مبذول کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ پنچائت سنگیوٹ کے اندر ایک غیر جانبدارنہ ٹیم بھیج کراس بات کی تحقیقات کروائی جائے کہ آخرپرائمری ہیلتھ سنٹر سنگیوٹ کی عمارت آج تک مکمل کیوں نہیں ہوئی ؟اس کا پیسہ کہاں لگایا گیا  اور کن وجوہات کی بناء پر یہ عمارت مکمل نہیں ہوئی ہے؟اس سلسلے میں جب بی ایم او مینڈھر پرویز احمد سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ عمارت ہمارے قبضے میں نہیں اور اس کی حالت کے متعلق محکمہ تعمیرات عامہ یا ضلع انتظامیہ پونچھ کو معلوم ہوگا۔انہوں نے مزید کہاکہ اس عمارت کو مکمل کرنے کے سلسلے میں اعلیٰ انتظامیہ کو کئی مرتبہ لکھا گیا ہے ۔
ایسے میں اب سوال یہ ہے کہ آخر ایک دہائی سے نامکمل اورادھوری پرائمری ہیلتھ سنٹر سنگیوٹ کی عمارت کا ذمہ دارکون ہے؟آخر عمارت کے مکمل نہیں ہونے کی وجہ کیا ہے؟کس کی غلطی سے یہاں کی عوام کو طبی جیسی اہم بنیادی سہولیات سے محروم ہونا پڑرہا ہے؟اورکب تک ا س علاقہ کی عوام کو یہ بنیادی سہولیات میسر ہوگی؟ہے کوئی مسیحاجو ادھر بھی آئے ،کوئی تو چارہ گری کو اترے! (چرخہ فیچرس)