کنگن میں زمین کھسکنے سے کئی تعمیرات دب کر زمین بوس

کنگن//بونی باغ کنگن میں سرینگر لداخ شاہراہ پر زمین کھسکنے کے ایک واقعہ میں ایک شاپنگ کمپلکس،دورہائشی مکان اوردوگاڑیاں مکمل طور تباہ ہوگئیں تاہم دکانوں اور مکانوں میں موجودافراد معجزاتی طور بچ گئے۔اطلاع ملتے ہی ضلع حکام موقعہ پر پہنچ گئے اور بچائو کارروائیوں کی نگرانی کی اور نقصان کاجایزہ لیا۔اطلاعات کے مطابق وسطی کشمیر کے بونی باغ کنگن میں جمعہ دوپہر 12بجے اُس وقت خوف ودہشت کا ماحول پیدا ہوگیا جب زمین کھسکنے کی وجہ سے ایک بھاری بھرکم مٹی کا تودا گرآیا جس کی زد میں حاجی گل محمد میر ساکن بونی باغ کا دو منزلہ شاپنگ کمپلکس، جس میں 20 ہول سیل کریانے کے دکان تھے، مکمل طورتباہ ہوگیا، جبکہ علی محمد میر کا رہائشی مکان اور ایک ٹاٹا موبائل گاڑی اور ماروتی کار بھی مٹی کے نیچے دب گئیں۔ اطلاع ملتے ہی ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل شفقت اقبال، ایس ڈی ایم کنگن حکیم تنویر، تحصیلدار کنگن عبدل مجید راتھر، ایس ڈی پی او شیخ طاہر ،ایس ایچ او کنگن آفتاب احمد موقعہ پر پہنچ گئے اور نقصان کا جائزہ لیا۔ ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس حادثے میں 20دکانیں ،ایک رہائشی مکان اور دو گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ دکانوں اور رہائشی مکان میں موجود افراد معجزاتی طور پر بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ ضلع ترقیاتی کمشنر نے بتایا کہ متاثرین کو امداد فراہم کی جائے گی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کنگن پاور کنال سے پانی رس رہاتھا اور اسی وجہ سے آج یہ حادثہ پیش آیا، جبکہ اس جگہ پر جتنے لوگ رہائش پزیر تھے، وہ حادثے سے کچھ دیر پہلے وہاں سے دوسری جگہ پر منتقل ہوگئے تھے جب انہوں نے وہاں ایک شیڈ کو گرتے دیکھااوران عمارات نے بھی ہلناشروع کیا۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یہ واقع رات کو پیش آتا تو کافی جانی نقصان ہوتا ۔لوگوں نے مطالبہ کیا کہ پاور کنال کی مرمت کی جائے، تاکہ دوبارہ اس طرح کا حادثہ پیش نہ آئے ۔اس دوران سرینگر لداخ شاہراہ پر باڈر روڈ آرگنائزیشن نے ہنگامی بنیاد پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا ہے تاکہ گاڑیوں کی آمدورفت کو بحال کیا جائے۔