کنگن رسیونگ اسٹیشن سال 2002 میں بنایا گیا ہے

گاندربل//کنگن پاور ہاؤس میں بنایا گیا ریسوینگ اسٹیشن سال 2002 میں تعمیر کیا گیا تھا جس میں نصب  3.15 میگا واٹ ایمپئر ٹرانسفارمر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھنے سے لوڈ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا۔سال 2002 میں پاور ہاؤس کنگن شروع کرنے کے ساتھ ہی ریسوینگ اسٹیشن تعمیر کیا گیا جہاں سے کنگن اور اور اس سے ملحقہ آس پاس علاقوں کو بجلی سپلائی فراہم کی جانی لگی۔ریسویئنگ اسٹیشن میں 3.15 میگا واٹ ایمپئر ٹرانسفارمر نصب کئے گئے اس وقت کنگن کے محلوں  میں دو ٹرانسفارمر لگائے گئے جن سے آبادی کو برقی رو فراہم کی جانی لگی مجموعی طور پر 100 کلو واٹ تک لوڈ صرف ہواکرتا تھا جبکہ پچھلے 16 سالوں میں کنگن کی آبادی بے تحاشہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ درجنوں محلوں میں ٹرانسفارمر لگائے گئے جس کے تحت 1500 کلو واٹ لوڈ ایگریمنٹ کیا گیا لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ دو ٹرانسفارمر کی جگہ درجنوں ٹرانسفارمر محلوں میں لگائے گئے لیکن ریسویئنگ اسٹیشن میں نصب مین ٹرانسفارمر اب بھی 3.15 میگا واٹ ایمپئر کا ہی نصب ہے ۔علاقے کو ایک گھنٹہ بجلی سپلائی فراہم کی جاتی ہے کہ ریسویئنگ اسٹیشن میں نصب ٹرانسفارمرلوڈشیڈنگ ہوجاتا ہے جس سے گھنٹوں بجلی گل ہوجاتی ہے.سیول سوسائٹی کنگن کے چئیرمین نے معاملے کے بارے میں کشمیر عظمی کو بتایا کہ محکمہ بجلی کی غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی سے لوگ پہلے ہی تنگ آئے ہوئے ہیں کہ ریسویئنگ اسٹیشن میں نصب مین ٹرانسفارمر لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پورے کنگن کو مزید گھنٹوں بجلی سپلائی منقطع ہوجاتی ہے۔اس سلسلے میں جب کشمیر عظمی نے چیف انجینئر مینٹنس فیاض احمد بیگ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بہت جلد رپورٹ بناکر ریسویئنگ اسٹیشن میں نئے ٹرانسفارمر لگائے جائیں گے