کنگن اور کلن میں ہسپتال کی عمارتیں دس برسوں سے تشنہ ٔ تکمیل

 کنگن//وسطی ضلع گاندربل کے کنگن اور کلن گنڈ میں ہسپتال کی دو عمارتیں گذشتہ دس برسوں سے تشنہ ٔتکمیل ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ کنگن میں سرکارنے 28کروڑ روپئے کی لاگت سے 100بستروں پر مشتمل زچہ بچہ ہسپتال پر سال 2007پر کام شروع کیا تاکہ کنگن اور گاندربل سے ملحقہ علاقوں میں زچگی میں مبتلاخواتین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ 13برس کا عرصہ بیت گیا لیکن ہسپتال کو ابھی تک مکمل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے زچگی میں مبتلا خواتین کو لل دید یا دیگر ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ ہسپتال کی تکمیل میں اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ادھر تحصیل گنڈ کے کلن علاقے میں سال 2008میں سرکار نے 7.28کروڑروپے کی لاگت سے ہسپتال کی ایک عمارت پر کام شروع کیا تاکہ کلن کی وسیع آبادی کے ساتھ ساتھ امرناتھ یاترا اور سرینگر لیہ شاہراہ پر سفر کرنے والے لوگوں کیلئے بہتر طبی سہولیات فراہم ہوسکیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اگرچہ ایک منزل کا کام دو سال کے اندر مکمل کیا گیا لیکن فنڈس کی عدم دستیابی کے باعث اس پر کام بند کیا گیا جس کی وجہ سے اب پہلی منزل خستہ حالی کا شکار ہے۔ مقامی لوگوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر کی عمارت پر کام جلد شروع کیا جائے تاکہ کلن کی ایک وسیع آبادی کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کلن ہسپتال کی پہلی عمارت میں بیشتر جگہوں پر شگاف پڑ گئے ہیں اور ہسپتال میں جگہ کی کمی کے باعث طبی عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔