کنزرمیں طالب علم لاپتہ ہونے کیخلاف دھرنا

ٹنگمرگ//کنزر ٹنگمرگ کے دسویں جماعت کے طالب علم کے اچانک لاپتہ ہونے کے خلاف مقامی لوگوںنے دھرنا دے کر سرینگر گلمرگ شاہراہ پر ٹریفک کی نقل وحمل کو بندکیا۔اس دوران دھرنے پر بیٹھے لوگوں کومنتشر کرنے کیلئے پولیس کے لاٹھی چارج کی وجہ سے ایک پریس فوٹو گرافر اور دو شہری زخمی ہوئے ۔تفصیلات کے مطابق ترکہ بٹہ پورہ ٹنگمرگ کا 18برس کاشاکرمشتاق شیخ ولد مشتاق احمد شیخ 27دسمبر کو کوچنگ سینٹرجانے کیلئے روانہ ہوا لیکن شام تک وہ گھر واپس نہیں آیا۔گھر والوں نے اُس کی تلاش ہر ممکن جگہ پر کی لیکن اُس کا کہیں سراغ نہ ملنے کے بعد پولیس تھانہ کنزر میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کی ۔28دسمبر جمعہ کو ترکہ بٹہ وپرہ کی آبادی نے جلوس نکال کر سرینگر گلمرگ شاہراہ پردھرنا دیااور لاپتہ ہوئے طالبعلم کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔دھرنے کی وجہ سے سرینگر گلمرگ شاہراہ پر ٹریفک بند ہوا  ۔پولیس نے اگر چہ دھرنے پر بیٹھے لوگوں کو دھرناختم کرنے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی ،لیکن انہوں نے لاپتہ طالب علم کی بازیابی تک دھرنا جاری رکھنے کی ضد کی اور پولیس پر پتھرائو کیا۔پولیس نے جواب میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرکے دھرنے پر بیٹھے لوگوں کو منتشر کردیا اور اس کے ساتھ ہی سرینگر گلمرگ شاہراہ پر ٹریفک بحال ہوا۔پولیس کارروائی کے دوران ایک پریس فوٹو گرافر اور دو شہری زخمی ہوئے ۔