کنجوس

برسوں کا لحاظ تھا، مانگ نہ سکا۔ سوچتا رہا مانگنے سے وہ ناراض ہوجائے گا۔ اِسی ادھیڑ بُن میں وقت گذرتا گیا۔
میں بھی اندر سے اپنی دُھن کا پکا تھا اور چاہتا تھا کہ اُدھار میں دیئے گئے روپے جلد از جلد وصول کرلوں۔ رہ رہ کر خیال آتا تھا کہ آخر میں نے کونسا گناہ کیاہے؟ مانگوں کیوں نہیں؟ پانچ سو کے دیئے ہوئے دس کرارے نوٹ بار بار آنکھوں کے سامنے آجاتے۔
وہ میرا بچپن کا دوست تھا۔ سکول میں ہم اکٹھے پڑھتے تھے اور کلاس میں ساتھ ساتھ بیٹھتے تھے۔ اسی دوستی کے ناطے اکرم کی حاجت روائی کرکے میں نے اپنا فرض نبھایا تھا۔ 
اُس رات میں کافی دیر سے سویا تھا، ابھی نیند بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ پوہ پھٹتے ہی وہ میرے گھر آگیا۔ بنادستک دیئے سیدھا میرے بیڈ روم میں آگیا۔ میں بدک کر اُٹھ بیٹھا۔ دیکھا تو اکرم سامنے کھڑا تھا۔ اُس کی سانس اکھڑی ہوئی تھی۔ وہ گھبرایا ہوا تھا۔ بنا کسی تمہید کے گویا ہوا:
’’سلیم بھائی ایک ضرورت آن پڑی ہے! سیدھا آپ کے پاس چلا آیا ہوں… بیٹا بیمار ہے… بخار ایسا چڑھا ہے کہ اُترنے کا نام بھی نہیں لے رہا ہے… حج کرو! کچھ روپے اُدھار دے دو تاکہ بیٹے کو کسی اچھے سے ڈاکٹر کے پاس لے جائوں… بس ایک مہینے کے اندر اندر لوٹا دوں گا… سارے گائوں میں تجھ جیسا انسانی نہیں دیکھا… پروردگار نے آپ کو ماسٹر کی کرسی دی ہے… عزت دی ہے… میں گائوں میں کسی اور کے پاس نہیں گیا… باقی سب باتوں کے یار ہیں… باتوں سے ہی چاند تارے توڑ کرلے آتے ہیں لیکن حاجت روائی نہیں کرتے… سبھی کہتے ہیں کسی پرائیویٹ ڈاکٹر کو دکھائو… سرکاری ہسپتال میں کون پوچھتا ہے… اچھے ڈاکٹر سرکاری ہسپتال میں کہاں ٹکتے ہیں… ہوا کی طرح ایک دروازے سے آئے اور دوسرے سے نکل گئے… بس پانچ ہزار روپیہ ایک مہینے کیلئے دے دو… لوٹا دونگا… مولا تجھے اور عزت بخشے، خوشیاں عطا کرے… خزانے بھر دے تمہارے مال دولت سے…‘‘
اکرم اُدھر دعائیں دیتا رہا اور میں اِدھر پگھلتا رہا۔ ’’نا ، نا‘‘ سوچتے ہوئے بھی دینے کو تیار ہوگیا۔ اب اُسکے بیٹے پر ترس بھی آنے لگا۔ سرہانے پڑی شیروانی کی جیب ٹٹولی اور پانچ کے دس کرارے نوٹ نکال کر اُسے دے دیئے۔ اُسکی آنکھوں میں چمک لوٹ آئی۔ کہنے لگا:
’’جوں ہی اخروٹ کی فصل بکی میں آپکی امانت لوٹانے گھر آجائوں گا…‘‘
ایک مہینہ، دو مہینے اور پھر سال بھی بیت گیا لیکن اکرم کبھی میرے گھر نہیں آیا۔ وہ اکثر مجھے دیکھ کر اپنا راستہ بدل دیتا۔ کسی بھیڑ بھاڑ والے مقام پر آنکھ بچا کر نکل جاتا۔ اگر کسی جگہ پہ آمنا سامنا ہوبھی جاتا تو میرے مانگنے سے پہلے ہی کہہ دیتا:
’’ٹھیکیدار کے پاس پندرہ دنوں کی دہاڑی پڑی ہے، جب دے گا تو خود لوٹانے آجائوں گا آپکے پیسے۔‘‘
میں جواب میں مسکرا کر بول دیتا:
’’کوئی بات نہیں… میں نے مانگے تو نہیں؟… جب ہونگے تو دے دینا…‘‘
پھر کسی سے پتا چلا کہ اکرم کسی بھی ٹھیکیدار کے پاس مزدوری کیلئے نہیں گیا تھا اور نہ ہی کسی نے اس کے پیسے دینے ہیں۔ مجھے اخروٹوں کی فصل بکنے والی بات بھی یاد آئی تو اس کا کذب ثابت ہوجاتا۔ اس کا لڑکا بیمار بھی تھا یا نہیں؟ اِس بات پر بھی شک ہونے لگتا۔ اس کے گھر کے بارے میں سوچتا تو کتنا کچھ یاد آجاتا…
وقت بدل جانے کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ اگر زندگی کے سمندر میں تیرنا نہ آئے تو آدمی ڈوب جاتا ہے۔ کشتی بھنور میں پھنس جائے تو اِس کا بچ کر نکل جانا محال ہوجاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ گائوں میں ان کا گھر بڑے گھرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے بزرگ ترکی گھوڑوں پہ سوار ہوکر اپنے کھیت کھلیانوں کی خبر لینے جاتے تھے۔ نوکر چاکرتھے، زمین جائیدار بے حساب تھی۔ گھر آسائش کے سازوسامان سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ تہوار کا کوئی دن ہوتا تو اناج، کپڑا، نقدی وغیرہ غریبوں اور ضرورتمندوں میں بانٹتے۔ لیکن ان کی اولاد تنکا بھی نہیں توڑتی تھی۔ دن بھر تاش اور جوا کھیلنے میں مصروف رہتی تھی۔جہاں پر نیند آگھیر لیتی تو نوکر وہیں پر ہی بچھونا ڈال دیتے۔ اگر گرمی محسوس ہوتی تو پنکھا جُھلاتے…
وقت گزرتا گیا، بزرگ خزاں کے پتوں کی طرح اِس تناور پیڑ سے جھڑ کر مٹی میں سماتے گئے۔ آنے والی پیڑیوں میں کوئی بدلائو نہ آیا۔ دھن دولت اور زمین جائیداد آہستہ آہستہ ہاتھوں سے نکلتے گئے۔ پھر بھی اکرم کو جو کچھ ورثے میں ملا تھا، وہ بھی کچھ کم نہیں تھا۔ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ کوئی بہن بھی نہیں تھی۔ لیکن اُس کو زندگی گزارنے کا کوئی سلیقہ نہ آیا۔ عیاشی کی لت ایسی پڑی کہ آہستہ اہستہ سب کچھ بیچ کھایا۔
موٹی عقل کا تھا۔ پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد ہاتھ کھڑے کردیئے۔ جب تک ماں باپ زندہ رہے یہ بے پرواہ، مست ہاتھی کی طرح گھومتا رہا۔ کسی نے اکرم کو رشتہ دینا بھی مناسب نہ سمجھا۔ باپ رشتہ مانگنے جہاں بھی جاتا وہ اپنی بیٹی کو اکرم کے ساتھ بیاہ دینے کی بجائے دریا میں پھینک دینا بہتر سمجھتے۔ پھر بھی کسی مجبوری میں ایک غریب کسان نے اپنی بیٹی اکرم کے رشتے میں۔
کچھ عرصہ بعد اس کے ماں باپ، دونوں چل بسے اور اکرم اکیلا پڑ گیا۔ زندگی کی نت نئی ضروریات اسکے دروازے پر دست دیتیں تو زمین کا ایک ایک ٹکڑا کوڑیوں کے بھائو بکتا چلا گیا۔ مُنہ کا سواد اور کائیاں کا سُکھ بہت دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ زمین کے بعد بیوی کے گہنے اور رسوئی کی زینت تانبے کے برتن بھی رسوئی سے غائب ہونے لگے۔ 
یہ سب سوچ کر مُجھے بھی اکرم پر غصہ آنے لگتا۔ اکرم پر ہی نہیں اپنے آپ پر بھی ۔’’کیوں دئے تھے پانچ ہزار کے نوٹ اِس بیکار بھنگی کو…؟‘‘ اپنے آپ کو کوستا۔
’’میں بھی کوئی ساہوگار تو نہیں جو معاف کردوں… اُس کے باپ کا قرض بھی تو نہیں دینا ہے!… خود محنت مزدوری نہیں کرتا اور …‘‘۔
آخر میں نے اُس کے گھر جانے کا فیصلہ کرلیا۔ ڈیوٹی سے آج میں وقت سے پہلے ہی لوٹ رہا تھا۔ گھر جانے سے پہلے اکرم کے گھر کی اور چل پڑا۔ موسم گرمی کا تھا۔ ابھی لوگ گھروں کے اندر ہی تھے۔ کوئی کوئی سڑک پہ چل رہا تھا۔ کُتے بھی گلیوں میں موجود نہیں تھے۔ مُرغ پنکھ پھیلا کر کوٹھاروں کے نیچے سستا رہے تھے۔ مجھے یقین تھا اکرم بھی اِس وقت اپنے گھر میں ہی موجود ہوگا۔
سوچتے سوچتے پتا ہی نہ چلا کہ میں اکرم کے پُرانے دومنزلہ خستہ سے مکان، جسکے صحن کی دیواریں بھی اب گر کر مٹی میں مل گئی تھیں، کے صدر دروازے پر پہنچ گیا۔ دروازے پہ دستک دی تو دروازہ خود بخود کُھل گیا۔ اکرم کی بیوی ایک بڑے سے، لیکن خالی خالی، کمرے کے بیچ میں ایک بوسیدہ ٹاٹ پر بیٹھی قمیض کا دامن سی رہی تھی۔ دروازہ کُھلتے ہی وہ بدکی لیکن جلد ہی سنبھل گئی۔ میں نے ایک بھر پور نظر اکرم کی بیوی پہ ڈالی اور پھر خالی خالی کمرے کی دیواروں کو دیکھنے لگا۔دیواروں کا پلستر جگہ جگہ اُکھڑا ہوا تھا۔ فرش کچا تھا۔ ایک کونے پہ ایک مختصر سی دیوار کا پردہ چولھے چوکے کو الگ کر رہا تھا۔ دو تین فٹ لمبے ایک لکڑی کے ٹکڑے پر کیلیں ٹھونک دی گئی تھی اور ان پر پُرانے کپڑے لٹک رہے تھے۔ کمرے کی کھڑکی بھی اتنی چھوٹی تھی کہ اُس سے جو روشنی گذر کر داخل ہورہی تھی وہ کمرے کے سارے اندھیرے کو دور نہیں کر پارہی تھی۔ اِس کمرے میں ایسی کوئی پُرکوشش شے بھی نہیں تھی جو میرا دھیان اپنی اور کھینچتی۔ اگر کوئی شے تھی تو وہ اکرم کی بیوی تھی، جس کی اور نظریں بار بار دوڑ جاتیں۔ اِس کا ذردی مائل مگر شفاف گول چہرہ کچھ کم خوبصورت نہ تھا۔ 
چمکتی ہوئی سیاہ بادامی آنکھیں جیسے کچھ بول رہی تھیں۔ غرض یہ کہ اکرم کی بیوی اپنی زندگی کی چار دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے گزر کر اب بھی جوان لگ رہی تھی۔
آج پہلی بار میں نے اکرم کی بیوی کو اتنی نزدیک سے دیکھا۔ کچھ عرصہ کیلئے تو میں دیئے ہوئے پانچ ہزار روپے کے کرارے نوٹ بھول ہی گیا۔ بس اکرم کی بیوی سراپا دِل و دماغ پر چھا گئی اور آنکھوں میں سما گئی۔ اِس سب کے باوجود بھی وہ سہمی سہمی اور اُداس لگ رہی تھی۔ مُسکرانے پر بھی وہ اپنے درد و غم کو چُھپانے میں ناکام رہ جاتی۔
کافی عرصہ بیت گیا لیکن ابھی بھی میں اصل موضوع پہ نہیں آپارہا تھا۔ جوں توں، خیر خیریت پوچھنے کے بعد میں نے چُپی توڑنے میں پہل کی۔ 
’’اکرم کہاں ہے؟‘‘
’’ندی پہ نہانے گیا ہے‘‘
وہ کھیسانی سی مُسکراتے ہوئے بولی۔ اب اُس نے سوئی دھاگے کو قمیض میں چبھو کر ایک طرف رکھ دیا۔ اُس کا چہرہ اب لال ہوگیا تھا۔ شرماتے لجاتے وہ اندر ہی اندر تڑپ رہی تھی۔ وہ میری ان کہی باتوں کو بھی سُن چکی تھی۔ جب میں نے اگلی بات کہنے میں دیر کردی تو اُس نے بات کا رُخ بدلتے ہوئے کہا؛
’’بیٹھو… چائے پیو!‘‘
’’اگر میری امانت مجھے واپس مل جاتی تو وہ بڑی دعوت کے برابر ہوتا…اب بہت ہوگیا…میں بھی بار بار نہیں آئوں گا…‘‘
میں نے موقع غنیمت جان کر کہا۔ اکرم کی بیوی چُپ رہی۔ میں نے بھی کچھ دیر تک چُپی سادھی اور وہاں ہی رُکا رہا ۔ اکرم کے لوٹنے کی اُمید نہیں تھی۔ شاید اُسے میرے آنے کے بارے میں بھنک پڑ گئی تھی۔ میں نے پھر کسی دن اور آنے کی سوچی اور کہا:
’’اچھا میں چلتا ہوں… اکرم کو کہہ دینا…!‘‘
اب وہ اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔ اُس نے دائیں گھٹنے پر دائیاں ہاتھ رکھا اور زور لگاتی ہوئی کھڑی ہوگئی۔ تھوڑا لنگڑاتے ہوئے میری طرف، پوری طاقت کے لپکی اور میری کلائی پکڑ لی۔ وہ اندر آنے کیلئے اصرار کررہی تھی۔ میں اب دروازے سے باہر آگیا تھا۔ اب وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت بھی جُٹا چکی تھی۔ میں نا نا کرتے ہوئے اپنی کلائی چُھڑانے کی کوشش کررہا تھا۔ دوسری اور وہ بھی مجھے اور زور سے پکڑ کر کھینچ رہی تھی۔ خود کو اب ناکام ہوتے ہوئے محسوس کرکے وہ رندھے ہوئے گلے سے کہنے لگی:
’’میں بھی کم دُکھی نہیں ہوں اس مرد سے… گلے تک ڈوبے ہیں قرض میں… اندر آئو سب کچھ بتائوں گی…
میں اب اندر جانا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے ایک زور کے جھٹکے سے اپنا بازو چُھڑا لیا اور آگے بڑھ گیا۔ پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ لیکن اُس کے کہے ہوئے آخری الفاظ؛’’کنجوب کہاں کا‘‘۔ میرا پیچھا کرتے رہے، پیچھا کرتے رہے۔
موبائل نمبر؛9858433957, 9086281849