کمہاری کا پیشہ روبہ زوال

 جہاں آج کے اس جدید دور میں ہمارے گھروں میں استعمال ہونے والے چھوٹے بڑے برتن۔ پلاسٹک ۔اسٹیل۔ تانبے۔چینی یاپھر المونیم ۔کے بنے ہوتے ہیں وہی اس جدید دوور میں ہم اُن ہزاروں ہنرمند کاریگروں کو نظرانداز کررہے ہیں جو اپنے ہنر کو ہاتھوں کے ذریعے استعمال کر کے کچھ ایسی چیزیں بناتے ہے جنہیں ہم اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہے کمہار ۔جسے ہم کشمیری زبان میں کہتے ہیں کرال۔ ایک ایسا نام جس کے ہاتھوں کا کمال آج سے چند دھائ قبل ہماری وادی میں تقریباً ہر ہے گھرمیں دکھائی دیتا تھا یہ وہ دوور تھا جب کھانے پینے میں استعمال ہونے والے چھوٹے بڑے برتن مٹی کے بنے ہوتے تھے اور کمہار ان برتنوں کو بڑی محنت اور باریک بینی سے بناتا پھر بازار میں بے حد کم دام فروخت کرتا یہ کاریگری کا ایک الگ نمونہ ہے جس میں شروع سے آخر تک صرف ہاتھوں کا استعمال ہوتا ہے اور سینکڑوں گھروں کی روزی روٹی کا انحصار اسی کام پر منحصر ہے خریداروں کو لبھانے کے لئے برتنوں پر ہاتھوں سے ہی کی طرح کی نقشے نگاری کی جاتی برتن بنانے کے لئے ایک خاص قسم کی مٹی کا استعمال ہوتا ہے اس کام کا عمل مٹی میں پانی ملانے سے شروع ہوتا ہےپھر ایک گول چرکھے کو زورسے گمانا کمہار اسے ۔ژرٹ یا پھر ژُکر کہتے ہے چرکھےکو گمانے کے لیے لکڑی کے بنے ڈنڈے کا استعمال کیا جاتا ہےپھر گھومتے چرکھے پر مٹی کا ایک گولہ رکھا جاتا ہے  جسے کمہار ہاتھوں سے مختلف برتنوں کی شکل دیتا ہے پھر برتن کو پتلا اور بڑا سائز دینے کے لیے دونوں ہاتھوں کا استعمال ہوتا ہے ایک ہاتھ میں لکڑی کا ایک ٹکڑا جسے تتھوکہتے ہیں جو برتن کے باہر استعمال ہوتا ہے اور دوسرے ہاتھ میں سخت مٹی کا بناایک گولا جسے کریر کہتے ہیں اور جو برتن کے اندر استعمال ہوتا ہےاس عمل کو بانِہ تِھرُن کہتے ہیں اور یہ اس کام کا سب سے حساس عمل ہے۔ برتن تیار ہونے پر اسے کھلی دھوپ میں سکھانے کے لیے قطار میں رکھا جانا پھر پہرا داری کرنا  تاکہ اُڑتے جانور یا اچانک بارش سے اسے کوئی نقصان نہ پہنچے پھر سینکڈوں برتنوں کو پکانے کے لیے ایک ساتھ کُند، یا، بٹھی میں ڈالا جاتا ہے جہاں انہیں پکانے کے لیے لکڑی کا استعمال ہوتا ہے۔ ہماری وادی کے کئی آستانوں اور درگاہوں جن میں عیش مقام پہلگام چررارشریف ، بابا شکر دین سوپور اور بابا ریشی ٹنگمرگ  قابل ذکر ہیں ، وہاں ایسی کئ دکانیں  پائی جاتی ہے جہاں مٹی کے بر تن بیچے جاتے ہیں تاہم گاوں دیہات میں مٹی کے بنے برتنوں کو بیچنے کا انداز کچھ الگ ہے۔ اگرچہ شہر اور قصبہ جات میں مٹی کے برتنوں کا استعمال تقریباً تقریباً ختم ہوچکا ہے تاہم گاؤں دیہات میں آج بھی کمُ و بیش گھروں میں مٹی کے بنے ان برتنوں کا استعمال ہوتا ہے۔ کئی ایسے گھروں میں پانی ٹھنڈا رکھنے کے لئے مٹی کا بنا نُوٹِہ یا گڑھا استعمال ہوتا ہے، جہاں ریفریجریٹر جیسے جدید آلات موجود نہیں ۔کئی بزرگوں کا کہنا ہے کشمیر کے روایتی اچار کو بنانے کے لیے مٹی کے برتن کا استعمال سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ کمہار کے ہاتھ سے ہی بنی کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن کو استعمال کرنا ہماری ضرورت ہے جیسے کشمیری میوزک کے لیے، نوٹہ، شادی بیاہ میں تُمبک نار، اور کانگڑی کے لئے کونڈل ہماری وادی کے کئی ایسے علاقوں کی پہچان کمہار کے ہنر مند ہاتھوں سے ہی بنتے ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ان علاقوں میں بسنے والے بے شمار پیشہ وارانہ کمہار اب اس کام کو خیرباد کہہ کر دوسرے کاموں میں اپنا روزگار تلاش کر رہے ہیں۔اس تبدیلی ٔ پیشہ کی کی بنیادی وجہ مٹی کے برتنوں کی بے حد کم خریداری ہے۔ اس کام سے جُڑے کی کمہاروں کا ماننا ہے کہ برتنوں کی بہت کم خریداری کی وجہ سے ہم صدیوں سے چلے آرہے اُس ہنر کو چھوڑ رہے ہیں جو ہمارے نام یعنی کمہار یا کرال کی پہچان ہے۔ کمہاری کے ہنر پر لکھی گئی ان چند سطور کا قطعی یہ مقصد نہیں کہ ہم جدید طرز سے بنے اُن چیزوں کے استعمال کو غلط ٹھہرائیں جو آج کل ہمارے گھروں میں پائی جاتی ہیں بلکہ مقصد یہ ہے۔
