کمپیوٹر کے بنیادی حصے

مدر بورڈ

’’مدر بورڈ‘‘ ہمارے پرسنل کمپیوٹر کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے دوسرے لفظوں میں اِسے ’’سسٹم بورڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔یہ ’’سی پی یو‘‘ کے اندر لگا ہوتا ہے۔ ’’مدر بورڈ‘‘ ایک بڑا ’’سرکٹ بورڈ‘‘ ہوتا ہے ۔اِس پر ’’پروسیسر‘‘ اور ’’ریم‘‘ سمیت مختلف کمپونینٹ لگے ہوتے ہیں۔مثلاًاے جی پی  AGP (Accelerated Graphics Port) اور پی سی آئیPCI (Peripheral Component Interconnedt ) سلاٹس، ریم، RAM پروسیسر سلاٹ ، ہائی اوس، ای ماؤس، بیڑیاور پاور سپلائی کنیکٹروٖیرہ۔عام طور پر ’’مدر بورڈ‘‘ ای سی پی یو پر مشتمل ہوتا ہے جسے کمپیوٹر کا دماغ کہتے ہیں۔اِس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’’مدر بورڈ‘‘ دوسرے ’’ہارڈ ویئر‘‘ کو مین سسٹم سی پی یوCPU کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے سلاٹس فراہم کرتا ہے۔پینٹم سیریز کے زمانے تک پورے ’’مدر بورد‘‘ پر وی جی اے، ساؤنڈ پورٹ، لین پورٹ ،بلٹ اِن Built in ہر ہوتی تھی۔ اِس کے علاوہ ہم اِن میں بھی الگ سے کارڈ لگا سکتے ہیں ۔ اِس کے لئے ہمیں پہلے ’’بائی اوس کے سیٹ اپ میں جاکر اِس پورٹ کو ’’ڈس ایبل‘‘ کرنا پڑے گا اور پھر ہم مطلوبہ کارڈ لگا کر اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ آج کے زمانے ( 2019 ؁ ) میں لگ بھگ ہر چیز ’’مدر بورڈ‘‘ میں کمپنی کی طرف سے ہوتی ہے ۔
 اِسٹوریج ڈیوائسزStorages Devices 
ایسی ڈیوائسز جو کمپیوٹر میں ’’ڈیٹا‘‘ محفوظ رکھنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں ’’اِسٹوریج ڈیوائسز‘‘ کہلاتی ہیںاور یہ دو قسم کی ہوتی ہیں۔1 ) پرائمری اِسٹوریج ڈیوائس۔ 2 ) سیکنڈری اِستوریج ڈیوائس۔ ’’پرائمری اِسٹوریج ڈیوائس میں ’’ریم ‘‘ اور ’’روم‘‘ ہوتے ہیں۔ سیکنڈری اِسٹوریج ڈیوائس میں فلاپی ڈسک، ہارڈ ڈسک، سی ڈی ڈسک ہوتے ہیں۔
{ پرائمری ڈیوائس }
1 ) ریم  RAM :  یہ ’’رینڈم ایسکس میموری Random Access Memory کا مخفف ہے ۔ اِس میں ہم ہر قسم کی تبدیلی کر سکتے ہیں۔ اِسے ’’عارضی میموری‘‘ بھی کہتے ہیں ۔اِسے ’’مدر بورڈ‘‘ پر لگایا جاتا ہے۔یہ ایک طرح سے کمپیوٹر کا ’’چھوٹا دماغ‘‘ ہے جو عارضی طور پر تمام یادداشت کو اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے ۔اِس کے علاوہ تمام ’’ڈرائیور‘‘ اور ’’سافٹ ویئر‘‘ کا چلانے کا کام کرتا ہے۔ 
2 ) روم  ROM :   یہ ’’ریڈ اونلی میموری‘‘ Read Only Memory کا مخفف ہے ۔ اِسے ’’مستقل میموری‘‘ بھی کہتے ہیں۔اِس سے صرف ’’ڈیٹا‘‘ پڑھا جاسکتا ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتاہے۔
{ سیکنڈری ڈیوائس}
 1 )فلاپی ڈسک  Floppy Disk :  یہ چھوٹے سائز کی فلاپی ڈسک ہوتی ہے ۔ اِس پر زیادہ سے زیادہ 1.44MB ’’ڈیٹا‘‘ اِسٹور ہوسکتا ہے ۔ یہ لچکدار مادے پلاسٹک کی بنی ہوئی گول پلیٹ کی طرح ہوتی ہے ۔ اِس کے دونوں طرف مستقل طور پر ’’ڈیٹا‘‘ یوتا ہے ۔ آج کل اِس کا استعمال بند ہوگیا ہے۔
2 ) ہارڈ ڈسک  Hard Disk :   ہارڈ ڈسک کمپیوٹر کا ایک لازمی حصہ ہوتی ہے۔یہ ’’ڈیٹا‘‘ Data کو مستقل طور پر اِسٹور یعنی محفوظ کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے ۔یہ ’’سی پی یو‘‘ میں مضبوطی کے ساتھ لگی ہوتی ہے اور اِس کو ’’فکس ڈسک‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے کمپیوٹر کا ’’بڑا دماغ‘‘ ہے تمام ’’ڈیٹا‘‘ کو اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے اور یہاں سے ضرورت کے مطابق ہم نکال سکتے ہیں اور اپنے کام میں لا سکتے ہیں۔
3 ) سی ڈی ڈسک  CD Disk :  یہ ’’کامپیکٹ ڈسک‘‘ Compact Disk کا مخفف ہے۔ اِس پر روشنی کے ذرات کی شکل میں ’’ڈیٹا‘‘ اِسٹور کیا جاسکتا ہے ۔ اِس پر ہر قسم کا ’’ڈیٹا‘‘ محفوظ کر سکتے ہیں۔’’سی ڈی‘‘ پر جو کچھ لکھا جائے وہ بعد میں پڑحا جاسکتا ہے اور اُس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی ہے۔سی ڈی پر ڈیٹا اِسٹور کرنے کے لئے CD Write استعمال کیا جاتا ہے ۔آج کل کے کمپیوٹر میں ’’برن‘‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ایک سی ڈی میں تقریباً 700 MB تک ’’ڈیٹا‘‘ اِسٹور کر سکتے ہیں۔سی ڈی کی چار قِسم ہوتی ہیں۔  1 ) سی ڈی آر CD-R : ۔اِس پر ہم صرف ایک بار ’’ڈیٹا‘‘ اِسٹور کر سکتے ہیںاور اِسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔2 ) سی ڈی آر ڈبلیو  CD- RW :۔ اِس پر ہم پہلے والا موجود ’’ڈیٹا‘‘ ختم کر کے دوبارہ نیا ’’ڈیٹا‘‘ اِسٹور کر سکتے ہیں۔ 3 ) ڈی وی ڈی  DVD :۔اِس پر ہم 4.7 GB ڈیٹا اِسٹور کر سکتے ہیںاور ایک بار اسٹور کرنے کے بعد اسے ختم نہیں کر سکتے ہیں۔  4 ) ڈی وی ڈی آر DVD-R :۔ اِس پر پہلے سے موجود ڈیٹا ختم کر کے ہم نیا ڈیٹا اسٹور کر سکتے ہیں۔
 پروسیسر
’’پروسیسر ‘‘ کمپیوٹر کے کے دونوں دماغوں یعنی ’’ریم‘‘ اور ’’ہارڈ ڈسک‘‘ دونوں کو کنٹرول کرتا ہے ۔جب ہم  ’’ریم‘‘ اور ’’ہارڈ ڈسک‘‘ میں ڈیٹا کو محفوظ اور ڈیلٹ کرتے ہیں تو وہ کام یہی ’’پروسیسر‘‘ کرتا ہے اور یہی ڈیٹا سے نتائج اخڈ کرنے کا کام بھی کرتا ہے۔ایک طرح سے ’’پروسیسر‘‘ کمپیوٹر کے اندر دماغ کی حیثیت رکھتا ہے اور اِس کے بغیر کمپیوٹر نامکمل ہے۔’’پروسیسر‘‘ کو سی پی یو کہتے ہیں اور اِسے ’’مائیکرو پروسیسرز‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
 ساؤنڈ کارڈ
ہمارے کمپیوٹر میں ’’مووی‘‘ اور ’’میوزک‘‘ سننے کے علاوہ ’’انٹرنیٹ‘‘ کے ذریعے بات کرنے کے لئے ’’ساونڈ کارڈ‘‘ کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔اِس میں تین پورٹ ہوتی ہیں اور اِن کے تین رنگ ہوتے ہیںاِس میں ’’نیلی پورٹ‘‘ ساؤنڈ اِن کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ ’’سبز پورٹ‘‘ اِسپیکر لگا کر سننے کے لئے اور ’’گلابی پورٹ‘‘ مائیک کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔اِس آپ جب بھی اپنا اسپیکر ساؤنڈ کارڈ میں لگائیں تو سبز پورٹ میں ہی پن لگائیں۔
 وی جی اے کارڈ
 ہمارے کمپیوٹر کے لئے ’’وی جی اے کارڈ‘‘ بہت ضروری ہے کیونکہ اِسی کے ذریعے ہم اپنے مانیٹر کو سی پی یو سے جوڑتے ہیں۔مانیٹر کی ’’ڈیٹا کیبل‘‘ وی جی اے کارڈ یا وی جی اے پورٹ کے ساتھ ’’کنیکٹ‘‘ جوڑتے ہیںجس کی وجہ سے مانیٹر پر تصویر یا ڈیٹا آتے ہیں۔ وی جی اے کارڈ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ اِن میں اے جی پی AGP کارڈ اور پی سی آئی PCI کارڈ۔ اِن دونوں کارڈوں میں اے جی پی AGP کارڈ زیادہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ اِس کی ریزولیشن ہائی ہوتی ہے ۔ اے جی پی کارڈ استعمال کرنے کے لئے ’’مدر بورڈ‘‘ پر ’’اے جی پی سلاٹ‘‘ کا ہونا ضروری ہے ۔ اگر ’’مدر بورڈ‘‘ پر اے جی پی سلاٹ موجود نہ ہو تو پھر پی سی آئی کارڈ استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ بات یاد رکھیں کہ جب تک مطلوبہ کارڈ کا ڈرائیوہم اپنے کمپیوٹر میں ’’انسٹال‘‘ نہیں کریں گے تب تک اپنے مانیٹر پر مکمل کلر نہیں دیکھ سکیں گے۔
لین کارڈ  LAN/ NIC Card 
کمپیوٹر کو نیٹ ورک پر لانے کے لئے ’’لین کارڈ‘‘ یعنی ’’نیٹ ورک انٹر فیس کارڈ‘‘ کا ہونا ضروری ہے۔عام طور پر دفاتر اور ٹرینگ اداروں میں ’’نیٹ ورک‘‘ کا استعمال ہوتا ہے ۔ اِس کے برعکس گھروں میں نیٹ ورک کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے ۔ آج کل تو انٹر نیٹ کا زمانہ آگیا ہے اور زیادہ تر افراد اپنے پرسنل کمپیوٹر پر ’’انٹر نیٹ‘‘ چلاتے ہیں۔ ویسے بھی آج کل (2019 ) میں جو کمپیوٹر آرہے ہیں اُن میں کمپنی کی طرف سے ’’لین کارڈ‘‘ لگے ہوئے آتے ہیں۔
 موڈم  Modem 
آج کے دور میں کمپیوٹر کا استعمال عام بات ہوگئی ہے اور لگ بھگ سبھی کمپیوٹر والے ’’انٹر نیٹ‘‘ چلاتے ہیں۔اِس لئے ہمارے کمپیوٹر میں ’’موڈم‘‘  Modem کا ہونا بہت ضروری ہے۔چاہے وہ ماڈم ’’انٹرنل‘‘ ہو یا پھر ’’ایکسٹرنل‘‘ ہو۔پرانے ’’موڈم‘‘ میں دو پورٹ لگی ہوتی تھیں ۔ ایک لائن کے لئے اور دوسری ٹیلی فون کے لئیاور وہ ’’موڈم‘‘ بڑے بھی ہوتے تھے ۔ آج کل تو ’’موڈم‘‘ تو اتنے چھوٹے ہوگئے ہیں کہ یوایس کارڈ کی سائز کے آنے لگے ہیں ۔اِسے آپ اپنے کمپیوٹر کے یوایس بی پورٹ میں لگا دیں اور انٹر نیٹ سے جوڑدیں بس آپ کے کمپیوٹر میں انٹر نیٹ جاری ہوجائے گا۔
 ویب کیم  Web Cam 
یہ ویب کیمرہ ہوتا ہے اور اِسے کمپیوٹر میں ’’نیٹ میٹنگ‘‘ اور ’’انٹر نیٹ‘‘ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ انٹر نیٹ پر ’’چیٹ‘‘ اور بات چیت کے دوران آپ ’’ویب کیمرہ‘‘ کو استعمال کرتے ہوئے سامنے والے آدمی کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں جو آپ کے رابطے میں ہوتا ہے۔ اِس کو استعمال کرنے کے لئے اِس کا ’’سافٹ ویئر‘‘ ہمارے کمپیوٹر میں ’’انسٹال‘‘ کرنا پڑے گا تب ہم اِسے استعمال کر سکتے ہیں۔ 
 کییچر کارڈ یا ٹی وی ٹیونر کارڈ
یہ کارڈ ’’سی پی یو‘‘ کے اندر ’’پی سی آئی سلاٹ‘‘ میں لگایا جاتا ہے ۔ جب یہ کارڈ نیا لیا جاتا ہے تو اس کے ’’ڈرائیور‘‘ اور ’’سافٹ ویئر‘‘ کی سی ڈی ، کتاب اور آڈیو ، ویڈیو کیبل وٖیرہ ڈبے میں شامل ہوتے ہیں۔ اِس کے استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ اِس کو سی پی یو میں لگانے کے بعد اِس کا ’’ڈرائیور‘‘ اور ’’سافٹ ویئر‘‘ انسٹال کر لیں اور اِس کے بعد آپ اینٹینا یا کیبل کو کنیکٹ (جوڑ )کر ٹیلی ویژن کی نشریات دیکھ سکتے ہیں۔ آج کل کمپیوٹر پر ٹیلی ویژن دیکھنے کا دور لگ بھگ ختم ہوگیا ہے اور لوگ ’انٹرنیٹ‘‘ کے ذریعے کمپیوٹر اور موبائل پر ٹیلی ویژن دیکھ لیتے ہیں۔
 پرنٹر  Printers 
ہرنٹر ہمارے کمپیوٹر کا ایک بہت اہم ’’آوٹ پُٹ‘‘ ڈیوائس ہے۔اِس کی مدد سے ہم کاغذ پر ’’ڈیٹا‘‘ حاصل کر لیتے ہیں۔پرنٹر سے لی جانے والی ’’آوٹ پُٹ‘‘ کو ’’ہارڈ کاپی‘‘ کہتے ہیں۔ آج کل مارکیٹ میں بہت سارے ڈیزائینوں اور شکل و صور ت میں ’’پرنٹر‘‘ دستیاب ہیں۔پرنٹر کو کمپیوٹر کے ساتھ استعمال کرنے کے لئے کمپیوٹر کے ساتھ ’’کنیکٹ‘‘ کیا(جوڑا) جاتا ہے۔ کمپیوٹر پہلے اِس کو ’’ڈیٹکٹ‘‘ کرتا ہے اور پھر پرنٹر کے ساتھ ملی ہوئی سی ڈی سے اِس کا ’’ڈرائیور‘‘ انسٹال کیا جاتا ہے ۔ اِس کے بعد ہم اپنے کمپیوٹر سے ’’پرنٹ‘‘ کی کمانڈ دے سکتے ہیں ۔   
   سکینر Scanner
سکینر کے ذریعے ہم اپنے کمپیوٹر پر ڈاکیومنٹ، تصاویر اور نقشے وغیرہ اِسکین کر سکتے ہیں۔یہ ابالکل فوٹو اسٹیٹ مشین کی طرح کام کرتا ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ فوٹو اسٹیٹ مشین بلیک انیڈ وہائٹ کاپی کرتی ہے جبکہ ’’اِسکینر‘‘ کے ذریعے بالکل اصلی کی مانند کاپی بنائی جاسکتی ہے۔ اِس سے تصاویر کو ’’امیج‘‘ کی حیثیت اور دوسرا ’’ایڈیٹ ایبل ٹیکسٹ‘‘ کی حیثیت سے اِسکین کر سکتے ہیں۔اِس کے علاوہ ڈاکیومنٹ کو بھی انہی دو طریقوں سے اِسکین کیا جاسکتا ہے۔         
 مانیٹر Monitor 
ایک پرسنل کمپیوٹر کا ’’مانیٹر‘‘ ٹیلی ویژن کی شکل کا ایک ’’آوٹ پُٹ ڈیوائس‘‘ ہے ۔اِسے ڈسپلے یونٹ ، ویڈیو ڈسپلے ٹرمینل اور صرف ٹرمینل بھی کہتے ہیں۔مانیٹر میں ایک ’’کیتھیوڈ ریز ٹیوب ‘‘لگی ہوتی ہے جس پر کریکٹر Character اور گرافکس Graphics ایک رنگ یا رنگین ظاہر ہوتا ہے ۔مانیٹر کے اسکرین پر جو تصویر دکھائی دیتی ہے اُس تصویر کے اجزاء Picture Elements  چھوٹے چھوٹے نقطوں سے بنے ہوتے ہیں جنہیں ’’پکسل‘‘ Pixels کہتے ہیں ۔پکسل کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی تصویر اُتنی ہی صاف ہوگی۔ ’’کی بورڈ‘‘ (تختۂ کلید) Keyboard پر جو کچھ ٹائپ کرتے ہیں وہ مانیٹر کی اسکرین پر ظاہر ہوجاتا ہے۔اب ’’مائیکرو ہوم اور بلیک اینڈ وہائٹ‘‘ مانیٹر کا چلن ختم ہوگیا ہے اور اُن کی جگہ رنگین Color مانیٹر کا عام طور سے استعمال ہونے لگا ہے۔ آج کل (2019 میں) تو ’’ایل سی ڈی‘‘ LCD اور ’’ایل ای ڈی‘‘ LED کا زمانہ آگیا ہے ۔ اِس لئے ہم اِن کے بارے میں بھی مختصراً معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔