کمل کوٹ اوڑی میں نوعمرکاقتل ،کیس درج

 اوڑی// ماڑےاں کمل کوٹ کی بہک مےں گزشتہ شام دےر گئے پولےس نے اےک 13سالہ گمشدہ کمسن کی لاش برآمد کی ۔لواحقےن نے اپنے ہی اےک ہمساےہ پر کمسن لڑکے کو قتل کرنے الزام عائد کےا ہے۔اطلات کے مطابق ماڑےاں کمل کوٹ اوڑی کا اےک کمسن 13سا لہ لڑکا مقصود احمد کھانڈے ولد محمد ضمےر کھانڈے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ مال موےشی لے کر اپنے گاوں کی کھےتاں بہک مےں گزشتہ کئی دنوں سے رہ رہا تھا اور 2 جولائی شام کے وقت مذکورہ لڑکا اچانک لاپتہ ہوگےا اگر چہ لواحقےن نے اس کی تلاش شروع کی مگر اس کا کوئی پتہ نہ چلا تاہم دوسرے روز3جولائی رات دےر گئے اس کی لاش بہک مےں جھاڑےوں سے برآمد کی گی اور کمسن بچے کو کسی تےز دھار والئے ہتھےار سے سر پر وار کے قتل کرنے کے نشانات نظر آرہے ہےں،کمسن لڑکے کے دادا محمد شرےف کھانڈے نے کشمےر عظمیٰ کو بتاےا کہ اس کے کمسن پوتے کو ان کے اےک ہمساےہ الطاف جنجوا ہ اور اس کے دو بےٹوں نے اغوا کر کے قتل کےا ہے۔محمد شرےف کا کہنا تھا کہ کمسن لڑکے کے باپ اور الطاف جنجواہ کے درمےان کوئی گھرےلو تنازعہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے ان کے درمےان اکسر اوقعات گالی گلوچ اور ہاتاپائی بھی ہوتی تھی اور اسی ضد مےںآکر ان کے ہمساےہ نے سازش کر کے ان کے پوتے کو قتل کر دےا۔اےس اےچ او اوڑی تبرز احمد خان نے بتاےا کہ انہوں نے تمام لوزمات پر کرنے بعد لاش کو لواحقےن کے سپرد کردےا اورcrpc 174 کے تحت کےس درج کے اس واقعہ کی تحقےقات شروع کر دی۔دریں اثنا اوم پورہ بڈگام سے تعلق رکھنے والے لاپتہ نوجوان تاجر مشتاق احمد گنائی کی نعش پُراسرار حالت میں مٹن اسلا م آباد کے ایک ویران علاقے سے برآمد کی گئی ۔مہلوک کے لواحقین نے الزام عائد کیا کہ مشتاق احمد کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا ،لہٰذا واقعے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے ۔اس دوران پولیس نے معاملے کی نسبت ایک مقدمہ درج کرکے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی ہے جبکہ قانونی اور طبی لواز مات پُر کرنے کے بعد نعش کو آخری رسو مات انجام دےنے کےلئے ورثاءکے حوالے کیا گیا ۔ ہٹمورہ مٹن اسلام آباد علاقے میں منگل کو اُس وقت سرا سیمگی پھیل گئی جب یہاں ویران جگہ پر ایک نعش پائی گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ یہاں سے کچھ افراد کا گزر ہوا جس دوران یہاں انہوں نے ایک نعش دیکھی اور فوری طور پر اسلام آباد پولیس کو مطلع کیا ۔مٹن پولیس تھانے کے حدود میں نعش کی خبر ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچ گئی ،جہاں انہوں نے نعش کو اپنی تحویل میں لیا ۔پولیس کی ٹیم نے علاقے کا جائزہ بھی لیا ،تاکہ معاملے کی نسبت سراغ حاصل کئے جاسکے کہ کس طرح مذکورہ شخص کی موت ہوئی ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مہلوک شخص کی شناخت بعد ازاں مشتاق احمد گنائی ولد غلام رسول ساکنہ اوم پورہ بڈگام حال حیدر پورہ گلوان پورہ کے بطور ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ29جون کو مشتاق احمد گنائی جوکہ پیشے سے قصاب ہیں لاپتہ تھے ۔پولیس نے اس حوالے سے مقدمہ پہلے ہی درج کیا ہے جبکہ لاپتہ تاجر کی ذاتی گاڑی یکم جولائی کو پانپور سے برآمد کی گئی تھی ۔پولیس نے گمشدہ تا جر کے حوالے سے تحقیقاتی عمل شروع کیا ،لیکن اُنہیں کوئی سراغ ہاتھ نہیں آیا ۔معلوم ہوا ہے کہ لاپتہ ہونے کے روز مشتاق احمد کو فون کال موصول ہوتی تھی ،جس میں اُنہیں بتایا گیا تھا وہ اپنا مال لیجائیں جب سے لیکر وہ گمشدہ تھے ۔تاہم گمشدگی کا یہ معمہ اُس وقت حل ہوا جب نوجوان تاجر مشتاق احمد گنائی کی نعش پُراسرار حالت میں ہٹمورہ مٹن اسلام آباد کے ایک ویران وسنسان علاقے سے برآمد ہوئی ۔مشتاق احمد کے ہاتھ پیچھے کی طرف ایک کپڑے سے بندھے ہوئے تھے اور شک کیا جارہا ہے اُسے قتل کیا گیا ہے اور نعش کو اسلام آباد کے ہٹمورہ مٹن علاقے میں پھینک دیا گیا تھا ۔پولیس نے قانونی وطبی لوازمات پُر کرنے کے بعد لاش کو ورثاءکے حوالے کردیا ۔مرحوم کے لواحقین نے الزام عائد کیا کہ مشتاق احمد کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔انہوں نے واقعہ کی نسبت فاسٹ ٹریک بنیادوں پر تحقیقات کرنے کی مانگ کی اور قصور واروں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔