کملا کی دکان

ہمارے محلے میں ایک کرانے کی دکان تھی جسے سب"کملا کی دکان"کہتے تھے۔رامو کاکا اور کملا کاکی اسے چلاتے تھے۔ جہاں پر بچوں کے کھانے پینے کی ہر چیز ملا کرتی تھی، چاہے وہ کھٹی میٹھی گولیاں، انگلی والا بسکٹ،بیرکٹ(بورکٹ)، پان بہار کی گولیاں، راج ملائی چوکلیٹ یا ہم سب کا فیورٹ پنگر وغیرہ ہو، ہرچیز ملا کرتی تھی۔ اتنی چیزیں محلے کی کسی دوسری دکان میں نہیں ملتی تھیں۔ ہم اس وقت دوسری یا تیسری کلاس میں ہونگے، ہمارا روزانہ اس دکان کے کئی لگاتے۔ اکثر ہم جھنڈ بناکر جاتے اور کچھ بچے پیسے دے دیتے اور کچھ نہیں دیتے، لیکن چیزیں سب بچے لیتے کیونکہ ہمیں لگتا تھا کہ کاکا اور کاکی کو یاد ہی نہیں رہتا تھا کس نے پیسے دئیے اور کس نے نہیں، اس لئے وہ سب کو دے دیتے تھے۔ ہمیں لگتا تھا دونوں بڈھے (بوڑھے) ہوگئے ہیں اور انکی یادداشت جواب دے گئی ہے۔ رات میں ہمارا معمول تھا ہم کاکی کی دکان بند ہونے کے بعد وہیں پر بیٹھتے اور دکان کے دروازے اور دیوار کے درمیان میں ایک چھوٹی سی جگہ تھی جہاں سے ہم بچوں کا ہاتھ چلا جاتا تھا، ہم وہاں رکھی برنی (کانچ کی بڑی شیشی)سے کھٹی میٹھی گولیاں نکالتے اور برنی خالی کردیتے۔ لیکن تعجب کی بات یہ تھی کہ ہمیں روز وہ برنی بھری ملتی۔ ہم اپنی چالاکی اور ان کی بے وقوفی پر روز ہنستے اور برنی خالی کردیتے۔ ہماری چپکلش بس اتنی ہی نہیں تھی بلکہ ہم کبھی کبھی ایک روپے کا نقلی نوٹ بھی چلا دیتے تھے، لیکن کبھی کبھی۔ کاکی کو شک ہو جاتا تھا کہ چار آنا آٹھ آنا لانے والے بچے روز ایک روپیہ کہاں سے لارہے ہیں اور وہ ہمیں بھگا دیتی۔ اس لئے ہم باقاعدہ وقفے وقفے سے جاتے اور کاکی کو روپیہ دیتے، کاکی نوٹ الٹ پلٹ کر دیکھتی اور رامو کاکا کو دے دیتی۔ رامو کاکا اسے غلے میں ایک طرف رکھ دیتے جہاں ایک ایک چھوٹے بچے کی تصویر لگی تھی اور ہم چیزیں لے کر وہاں سے جلدی کھسک جاتے۔ ایسا کافی دنوں تک چلتا رہا ، پھر عمر بڑھنے کے ساتھ ہم میں تھوڑی سمجھداری آئی تو ہم نے یہ کام بند کردیا۔ لیکن یہ سلسلہ بند نہیں ہوا، بس یہ ہوا کہ ہماری جگہ ہمارے چھوٹوں نے لےلی۔ 
کئی سالوں بعد ایک دن کی بات ہے، میں شاید اس وقت نویں کلاس میں تھا، میں گھر کا کوئی سودا لینے کے لئے کاکی کی دکان پر کھڑا تھا۔ تبھی سات آٹھ سال کا ایک لڑکا آیا اور ایک روپے کا نوٹ دیا، کاکی نے نوٹ الٹ پلٹ کر دیکھا اور کاکا کو دے دیا، کاکا نے نوٹ غلہ میں ایک طرف رکھ دیا جہاں اسی چھوٹے بچے کی تصویر تھی۔ کہتے ہیں یہ کاکا کاکی کے اکلوتے بیٹے کی تصویر تھی جس کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔  کاکی نے اس بچے کو اس کی چیزیں دے دیں اور وہ خوشی خوشی چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے کاکی سے کہا کہ وہ نوٹ نقلی ہے کیونکہ جب کاکی نوٹ الٹ پلٹ کے دیکھ رہی تھی، تبھی میں نے دیکھ لیا تھا۔ میری بات سن کر کاکی مسکرائی اور کہنے لگی، 
ہاں بیٹا! مجھے پتہ ہے، لیکن یہاں نقلی نوٹ چلتا ہے۔
مگر "صرف بچوں کا"  ۔
 
کامٹی ناگپور مہاراشٹر،موبائل۔ 9049548326