کمسن بچی کی شادی کامعاملہ : چائلڈویلفیئرکمیٹی کی پنچایت کوٹ دھڑہ کومعطل کرنے کی سفارش

راجوری //حال ہی میں مجسٹریٹوں کی طرف سے جووینائل جسٹس ایکٹ 2013 کے تحت تشکیل دی گئی چائلڈویلفیئرکمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ،چائلڈویلفیئرکمیٹی نے کوٹ دھڑہ پنچایت کومعطل کرنے کی سفارشات کی ہیں جس پر پنچایت کے لیڈران نے اعتراض جتاتے ہوئے اسے غیرقانونی فیصلہ قراردیاہے ۔ذرائع کے مطابق چائلڈویلفیئرکمیٹی نے زمینی سطح سے معلومات حاصل کرنے کے بعدکہاہے کہ پنچایت نے ایک کمسن لڑکی کوایک لڑکے سے شادی کیلئے مجبورکیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعدچائلڈویلفیئرکمیٹی نے ایس ایچ او راجوری کوہدایات دیں کہ وہ ملزمان کے خلاف معاملہ درج کرے اور بچے کوجووینائل پولیس افسرکے ذریعے مزیدکارروائی کیلئے بنچ کے سامنے پیش کرے۔ذرائع نے مزیدکہاکہ پنچایت کافرض ہے کہ وہ بچی کی حمایت کرے لیکن ایسانہ کیاگیا۔چائلڈویلفیئرکمیٹی نے سفارشات کی ہیں کہ پنچایت کوٹ دھڑہ کومعطل کیاجائے۔چیئرپرسن چائلڈویلفیئر کمیٹی محمداقبال شال کاکہناہے کہ پنچایت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کاتحفظ کریں لیکن پنچایت نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں جس کی وجہ سے پنچایت میں کم عمربچیوںکی شادی کے معاملات مزیدبڑھنے کاخدشہ ہے۔پنچایت کوٹ دھڑہ کے لیڈران نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ چائلڈ ویلفیئرکمیٹی کویہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ایسافیصلہ کرسکے۔انہوں نے کہاکہ کمیٹی کافیصلہ زمینی حقائق کونظراندازکرتے ہوئے دیاگیاہے۔ انہوں نے پنچایت راج نظام اوردیگرریاستی اعلیٰ حکام سے مانگ کی کہ وہ اس معاملے کانوٹس لیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ پنچایت کاایسے شادیوں میں کوئی رول نہیں ہے اورنہ ہی انہیں اطلاع تھی اورپنچایت کے نام کوبلاوجہ اس معاملے میں گھسیٹاگیاگیاہے۔