کل جماعتی میٹنگ : بیشتر جماعتیں پنچایتی الیکشن مؤخر کرانے کے حق میں

جموں//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی میں منعقدہ کل جماعتی میٹنگ کے دوران  ریاست میں پنچائتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بیشتر سیاسی پارٹیوں نے بہ یک زبان موجودہ حالات کے تناظر میں انہیں فی الحال ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ پیوپلز ڈیموکریٹک پارٹی ، نیشنل کانفرنس ، بی جے پی ، کانگریس ، سی پی آئی ( ایم ) ، پی ڈی ایف ، نیشنل پینتھرس پارٹی ، عوامی اتحاد پارٹی اور پی پی این کے نمائیندوں نے میٹنگ میں حصہ لیا اور اپنی تجاویز پیش کیں ۔  وزیردیہی ترقی و پنچایتی راج عبدالحق خان نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ مجوزہ پنچایتی انتخابات کے حوالے سے بیشتر پارٹیوں کی جانب سے یہ رائے سامنے آئی کہ موجودہ حالات کے تناظر میں انہیں فی الحال ملتوی کیا جائے تاہم اس بارے میں کوئیحتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ۔واضح رہے کہ ریاست میں پنچایتوں کے انتخابات شیڈول کے مطابق 2016میں منعقد کرائے جانے تھے تاہم حزب مجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے جان بحق ہونے کے بعد یہ انتخابات نہیں ہو سکے ،۔ 25دسمبر 2018کو ریاستی وزیر اعلیٰ نے یہ ا علان کیا کہ ریاستی سرکار فروری 15کے بعد ریاست میں پنچایتی انتخابات کرانے جا رہی ہے جبکہ اس سے قبل ریاست میں مارچ اپریل 2011کو پنچایتی انتخاب منعقد کرائے گے تھے ۔اتوار کوجموں میں منعقد ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں بھی بیشتر سیاسی لیڈران نے ریاست بالخصوص کشمیر میں حالات کے پیش نظر پنچایتی چنائو کو اس وقت نامناسب قرار دیا اور تحفظا ت و خدشات کا اظہار کیا ۔پنچایتی انتخابات کے حوالے ریاستی وزیر علیٰ کی صدارت میں منعقد ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں اپوزیشن کے ممبران نے ایک مرتبہ پھر سرکار سے کہا کہ ریاست بالخصوص وادی کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے انتخابات کرانے کا کوئی فیصلہ لیا جائے ۔اس بیچ ممبران نے ریاستی وزیر علیٰ سے کہا کہ ریاست میں پنچایتی انتخابات کرانے سے قبل وادی کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھا جائے ۔سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر وممبر اسمبلی کولگام نے میٹنگ کے متعلق کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے سرکار سے یہ کہہ دیا ہے اگر انہیں یہ انتخابات کرانے تھے تو اس سے قبل ہی سرکار کو ریاست بالخصوص وادی کی موجودہ صورتحال کے حولے کوئی فیصلہ لینا تھا۔تاریگامی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے سرکار کو تجویز پیش کہ پنچایتی انتخابات کرانا ٹھیک ہیں اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے تاہم ،اس کیلئے پہلے ماحول سازگار ہونا بھی ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں موجود تمام پارٹیوں کے ممبران نے سرکار کو تجویز پیش دی ہے کہ وہ پہلے وادی کی موجودہ صوتحال کو مد نظر رکھیں اُس کے بعد ہی انتخابات کرانے کا کوئی فیصلہ لیں ۔جبکہ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر علی محمد ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ سرکار انتخابات کرانے کیلئے تیار ہے اور موجودہ حالات اس کیلئے سازگار نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات کے خلاف نہیں ہیں لیکن سرکار کو پہلے انتخابات میں شرکت کرنے والے امیدواروں کی سیکورٹی اور وادی کے حالات کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔ساگر نے میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے سرکار کو اپنی تجویز پیش کی اور کہا کہ انتخابات کرنا ٹھک ہے لیکن کیا سرکار وادی کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ انتخابات کرا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے پہلے ماحول کو ساز گار بنانا ہے ، لوگوں کو ووٹ ڈالے کیلئے تیار کرانا ہے ،انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی حفاظت کا بندبست کرنا ہے اُس کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جائے ۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ وممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے ریاست میں پنچایتی انتخابات کیلئے ماحول کو ناسازگار بتاتے ہوئے فی الحال ان انتخابات کو ملتوی کرنے کی مانگ کی ہے ۔انجینئر رشید نے کہا کہ انہوں نے میٹنگ میں اپنی تجویز پیش کی اور کہا کہ سرکار اور دیگر مین اسٹریم جماعتوں کو نئی دلی کی ہاں میں ہاں ملانے کے بجائے کشمیر مسئلہ کے مستقل حل کیلئے منظم اور پُر خلوص کوششیں کر کے اپنے اعتبار کو بحال کرنا چاہئے ۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جہاں سرکار انتخابات کیلئے ماحول سازگار ہونے کا دعویٰ رچا رہی ہے وہاں نہ صرف دن میں کئی کئی بار انٹرنیٹ سروسز کو معطل رکھا جا رہا ہے بلکہ سرکار ی دہشتگردی عروج پر ہے اور ساتھ ہی لوگ ہر جگہ سڑکوں پر آکر کشمیر مسئلہ کے حل کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ایسے میں انتخابات کا مطالبہ کرنا بالکل بے معنیٰ ہے‘‘۔ میٹنگ کے دوران انجینئر رشید نے کانگریس کے سینئر لیڈر شام لعل شرما کی اس دلیل کو سختی سے مسترد کیا کہ انتخابات کے انعقاد سے نہ صرف امن لوٹ آئے گا بلکہ مسائل کا حل بھی انتخابات ہی ہیں۔پی ڈی ایف کے سینئر لیڈر وممبر اسمبلی خانصاحب حکیم محمد یاسین نے کہا کہ انہوں نے میٹنگ میں یہ کہا کہ سرکار کو اس کیلئے پہلے ہی ایک میٹنگ بلانی تھی اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ لینا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اننت ناگ پارلمانی نشست کیلئے جلسے جلوس بھی ہوئے پھر آپ کو انتخاب موخر کرنے پڑے جب اُس وقت سارے انتظامات کرنے کے باجود حالات سازگار نہیں تھے تو آج اتنی وارداتیں ہوئیں تو آج حالات سازگار کہاں ہیں ۔انہوں نے کہا تمام ممبران نے کہا کہ اس وقت حالات سازگار نہیں ہیں اور حکومت کی مرضی ہے کہ وہ انتخابات کریں گے یا پھر موخر کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ بھی انتخابات کے خلاف نہیں ہیں لیکن پہلے حالات کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر وایم ایل سی غلام نبی مونگا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کانگریس پارٹی نے ریاستی وزیر اعلیٰ سے کہا کہ پنچایتی انتخابات کے حوالے سے سرکار کو اس سے قبل کل جماعتی میٹنگ منعقد کرنی تھی کیونکہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے وہ آج اس کے متعلق کچھ بھی نہیں کہہ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پنچایتی انتخابات ضروری ہیں لیکن ریاست بالخصوص وادی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی وزیر اعلیٰ کو خود ہی اس کے متعلق کوئی فیصلہ لینا ہو گا کیونکہ وہ وزیر داخلہ بھی ہیں ۔